پی ٹی آئی حکومت اور تعلیمی ایمرجنسی

  • August 31, 2018 3:02 am PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر شاہد صدیقی

وزیراعظم عمران خان کی پہلی تقریر میں جہاں دیگرقومی اہداف کاتعین کیاگیا‘ وہیں تعلیم کے مسئلے کو مرکزی اہمیت دی گئی۔ سترمنٹ کی تقریر میں تعلیم کاذکر پچاس سے زائد مرتبہ کیاگیا۔

تعلیم کے حوالے سے وزیر اعظم نے جن اہم امور کی طرف اشارہ کیا‘ ان میں قومی ترقی میں تعلیم کی اہمیت‘ کثیر تعداد میں آؤٹ سکول بچوں کی حالت ِزارـ‘ تعلیم کے لیے مغربی ممالک کے مقابلے میں بہت کم فنڈز‘ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں تعلیم سے محروم بچے اور بے روز گاری کا عفریت ‘پبلک سیکٹر سکولوں کی زبوں حالی ‘ اور کم مالی وسائل والے والدین کے بچوں کی پرائیوٹ سکول کی مہنگی تعلیم تک نا رسائی‘ گورنمنٹ سکولوں کے معیار کی بہتری کی ضرورت‘ کوالٹی تعلیم کو عام لوگوں کی رسائی کو ممکن بنانا اور وزیراعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ ریسرچ یونیورسٹی کا قیام۔

یہ تقریر قطعی طور پر ایک غیر روایتی تقریر تھی‘جس میں جذبے کی حدت محسوس ہورہی تھی۔بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ تعلیم سے عمران خان کی وابستگی بہت پرانی ہے ۔ سیاست میں آنے سے پیشتر انہوں نے پورے ملک میں سکولوں کے ایک نیٹ ورک کے بارے میںایک خواب دیکھا تھا۔ عمران خان کی اپیل پر ملک بھر کے ہزاروں رضاکاروں نے لبیک کہا تھا۔

پاکستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں‘ توتعلیم کبھی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے لیے مختص فنڈز ہمیشہ ناکافی رہے۔قیامِ پاکستان سے اب تک متعدد قومی تعلیمی پالیسیوں کااعلان کیاگیا۔ان پالیسیوں کا نتیجہ کیا نکلا ؟یہ پاکستان کی تعلیمی تاریخ کی دردناک داستان ہے

ہرنئی قومی تعلیمی پالیسی میں اہداف کے حصول کی ایک نئی ڈیڈ لائن دی جاتی ہے۔1992ء کی تعلیمی پالیسی میں یہ دعویٰ کیاگیا تھاکہ2002ء تک شرحِ خواندگی70 فیصدہوجائے گی۔1998ء کی تعلیمی پالیسی میں ڈیڈ لائن بڑھاکر 2010ء کر دی گئی۔2009ء میں ایک اور دعویٰ کیاگیا کہ2015ء تک شرح خواندگی 86 فیصدتک ہوجائے گی۔

اگران تمام پالیسیوں کے دعوئوں پر یقین کرلیاجائے ‘تواب تک ملک میں شرح خواندگی100فیصد ہوجانی چاہیے‘ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔2011میں خواندگی کی شرح58 فیصد 2014ء میں58 فیصد‘ 2015ء میں 60 فیصد اور2016 میں58فیصدرہی۔ اب آئیے دیکھتے ہیں اس وقت(2018ء میں) شرح خواندگی کی کیفیت کیاہے۔

حیران کن طورپر اکنامک سروے آف پاکستان (2017ء تا2018ئ)اس سال کے لیے شرح خواندگی کی کوئی شرح نہیں دی گئی۔

اس کے برعکس یہ توجیح دی گئی کہ ”2017-2018 ء میں پاپولیشن اورہائوسنگ خانہ شماری اور مردم شماری کی وجہ سےپی ایس ایل ایم سروے نہیں کرایاگیا‘ لہٰذا 2015-2016ء کے شرح خواندگی کے اعدادوشمار موجودہ سال کے لیے بھی تسلیم کئے جائیں۔‘‘ یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ اگرموجودہ سال شرح خواندگی کے اعدادوشمار دستیاب نہیں تھے‘ تو یہ خانہ خالی کیوں نہیں چھوڑدیاگیا۔

یہ کیسے تصور کرلیاگیا کہ2015-2016ء کی شرح خواندگی کے اعدادوشمار وقت کے ساتھ ساتھ58 فیصدسے کم یازیادہ نہیں ہوںگے۔ ماضی میں شرحِ خواندگی کے اعدادوشمارپر نظرڈالیں‘ تو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات یہ اعدادوشمار بڑھنے یا ایک جگہ رہنے کی بجائے کم ہوئے‘ مثلاً:2015ء میں شرح خواندگی 60 فیصد تھی‘ لیکن 2016ء میں یہ کم ہوکر58 فیصدرہ گئی۔
اب ایک نظر جنوبی ایشیا کے ممالک کی شرح خواندگی پرایک نظرڈالتے ہیں: مالدیپ99 فیصد‘ سری لنکا 92 فیصد‘ بنگلہ دیش 72 فیصد‘ بھارت 70 فیصد‘ نیپال63 فیصد‘بھوٹان59 فیصد اورافغانستان30 فیصد‘ یوں پاکستان جنوبی ایشیا کے ممالک میں آخری سے دوسرے نمبر پرہے۔

آخر وہ کیا وجوہ ہیں‘ جن کی وجہ سے پاکستان شرح ِخواندگی کے حوالے سے زیرترین زینے پر ہے۔ بنیادی وجہ حکومتی سطح پرارادے کی کمی ہے۔ تعلیم ہمیشہ حکومتوں کے لیے آخری ترجیح رہی۔ تعلیم کے لیے مختص فنڈز کی ہی مثال لے لیں‘ 2009ء کی تعلیمی پالیسی میں یہ کہاگیا کہ ”حکومت2015ء تک جی ڈی پی کا 7 فیصد تعلیم کے لیے مختص کرے گی اوراس کے نفاذ کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔‘‘اس دعوے کے مطابق2015ء تک جی ڈی پی کا7 فیصدحصہ تعلیم کے لیے مختص ہوناچاہیے تھا‘ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اپنی تقریر میں وزیراعظم نے چاربار آئوٹ آف سکول بچوں کی تعداد کی طرف اشارہ کیا۔ یہ تعداد سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سوادو کروڑ ہے۔ ان بچوں کی اکثریت مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جاسکتی۔ نتیجے کے طورپر ان میں سے بہت سے سڑکوں پربھیک مانگتے نظرآتے ہیں۔

بہت سے چائلڈ لیبرکی چکی میں پستے ہیں اور بہت سے منفی سرگرمیوں میں الجھ جاتے ہیں اورکچھ دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں اچھی تعلیم کے لیے مالی وسائل کاہوناضروری ہے۔ یہ سہولت ان بچوں کوحاصل نہیں‘ جن کے والدین مفلسی کاشکار ہیں۔

سکول تک رسائی حاصل نہ کرسکنے والے بچے اپنے بنیادی آئینی حق سے محروم کردیئے جاتے ہیں۔یہ حق انہیں آئین کے آرٹیکل پچیس اے کے تحت دیا گیاہے‘ جس کے مطابق یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ 5سے16سال تک کے بچوں کو مفت اورلازمی تعلیم فراہم کرے‘جوبچے سکول تک پہنچ جاتے ہیں‘ ان میں سے بھی33 فیصد بچے پانچویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے سکول چھوڑنے پرمجبور ہوجاتے ہیں اوراس گروہ کاحصہ بن جاتے ہیں جو سکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ پاتے۔

یہ وہ چیلنجز ہیں‘ جن کا نئی حکومت کو سامنا کرنا ہو گا۔ان چیلنجز کا سامنا صرف سنجیدہ‘ مخلصانہ اور مربوط حکمت عملی سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ تعلیم کی وزارت کے لیے جناب شفقت محمود کا انتخاب یقینا ایک خوش آئند اقدام ہے ‘ جن لوگوں نے انہیں قریب سے دیکھا ہے‘ وہ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ نئے وزیرِ تعلیم ایک محنتی‘ شائستہ اور تجربہ کارشخصیت ہیں ‘جو وزارت کا حلف اٹھاتے ہی سرگرمِ عمل ہو گئے ہیں۔

اگرچہ تعلیم اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ایک صوبائی معاملہ ہے ‘ لیکن وفاقی سطح پر ان کا کردار اہم حیثیت کا حامل ہو گا۔ نصاب اور معیار کے حوالے سے انہیں صوبائی حکومتوں سے مل کر کام کرنا ہو گا۔ حکومتی سطح پر چند اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔

٭ تعلیمی میدان میں چیلنجز کوسامنے رکھتے ہوئے ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے۔٭ اٹھارویں ترمیم کے بعدتعلیم ایک صوبائی معاملہ ہے‘ لہٰذا صوبائی حکومتوں کو آئین کی ترمیم پچیس اے جس کے مطابق تعلیم مفت اورلازمی ہے پرعمل درآمد کویقینی بنایاجائے۔

٭ سوادوکروڑ بچوں کو واپس تعلیمی عمل میں لانے کے لیے سکولوں میں ڈبل شفٹ کے علاوہ غیررسمی تعلیمی اداروں کاقیام عمل میں لایاجائے۔٭ تعلیم کے لیے مختص فنڈزکے لیے جی ڈی پی کاکم ازکم4 فیصدمقرر کیاجائے۔ ساتھ ہی اس تعلیمی اداروں میں کیپیسٹی بلڈنگ کے لیے مربوط حکتِ عملی کے تحت کام کیا جائے۔

٭ تعلیمی حوالے سے ایکشن پلان کوقومی اسمبلی میں پیش کیاجائے‘ تاکہ تمام پارٹیاں اس پرمتفق ہوں اور پالیسیوں میں تسلسل رہے۔٭ تعلیمی ایکشن پلان پرعمل درآمد کے لیے ایک مؤثر مانیٹرنگ سسٹم تشکیل دیاجائے ‘یہ غیرسرکاری افراد پرمشتمل ماہرین تعلیم اور ماہرین معاشیات کی ایک کمیٹی ہوسکتی ہے ‘جوہرچھ ماہ کے بعد اپنی رپورٹ وزیراعظم کوپیش کرے۔


shahid-siddiqui

شاہد صدیقی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔آکسفورڈ پریس نے تعلیم پر اُن کی متعدد کتابیں شائع کی ہیں۔
shahidksiddiqui@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *