ڈیجیٹل ریڈنگ ایپس ، سیکھنے کا نیا رجحان

  • November 2, 2018 6:43 pm PST
taleemizavia single page

سلیم انور عباسی

ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا،’’پڑھو گے،لکھو گے،بنو گے نواب!کھیلو گے،کودو گے ہو گےخراب!‘‘ لیکن اب دور بدل گیاہے۔ بچوں کو تعلیم و تربیت سمیت ہر چیز میں تفریح چاہیے۔ کھیل کھیل میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ڈیجیٹل ریڈنگ ایپس اور ویب سائٹس نے مہیا کر دیا ہے۔ ڈیجیٹل لرننگ اب اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی ایجوکیشن کا لازمی جزو ہے۔

الفاظ کو پڑھنے اور سیکھنے میں آسانی

تعلیمی ٹیکنالوجی ہر طالب علم کو سیکھنے کے انداز(learning style) اور تدریس کی مخصوص ضروریات کے مطابق موزوں ہدایات و رہنمائی یقینی بناتی ہے۔ زیادہ تر اساتذہ کا خیال ہے کہ نصاب میں ٹیکنالوجی کا انضمام ہر چند تمام طلبا کے سیکھنے کی حمایت کرتا ہے لیکن خاص طور پر یہ ان طلباء کے لیے زیادہ سودمند ہے،جنہیں اضافی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات خاص طور پر انگریزی سیکھنے والے طالب علموں یا ڈیلکسیا (یعنی بھول جانے کا مرض) میں مبتلا طالب علموں پر صادق آتی ہے۔

الفاظ کو پڑھنے، یاد کرنے یا فونٹ کو بڑا کرکے دکھانے کے لیے اوور ڈرائیو ایجوکیشن کی متعار ف کرائی گئی ریڈنگ ایپ سورا (Sora) ایک بہترین مثال ہے۔ اس ایپ کوآڈیو بکس، ڈیلسکس فونٹ اوربڑا متن پڑھنے کے ساتھ انفرادی تعلیمی پروگرام (IEP)کی حمایت حاصل ہے۔ سورا میں تمام طلبا کی آسانی کے لیے پڑھنے سے متعلق نوٹس،ہائی لائٹس اور وضاحت شدہ الفاظ شامل ہیں۔ یہ ایپ آسان اور خوشگوار مطالعے کے ذریعے طالب علموں کو تخیل میں سفر کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

اس کے علاوہ بصیرت افروز سوچ، ہنر میں مہارت اور شہریت کی ترقی و توسیع کے لئے ضروری معلومات کی بنیاد کو وسیع کرتی ہے۔

پڑھنے کا ایک نیا تصور

سورا کی ایپ کو خاص طور پر K-12 ڈیجیٹل ٹول کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جو انفرادی طور پر سیکھنے(پرسنل لرننگ )میں معاونت اور پڑھنے کے تجربے کو معیاری بناتی ہے۔ ایپ کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ طالب علموں کو اساتذہ سے بار بار پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے اور وہ زیادہ وقت پڑھنے اور سیکھنے میں مصروف رہیں۔

طلبا و طالبات کے لیے اپنے کلاس فیلوز اور اساتذہ سے رابطہ اتنا مشکل نہیں رہا، وہ کسی بھی سوال کا جواب آن لائن حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل لائبریری سے ای بکس خریدکرمطالعہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ تعلیم کے روایتی انداز میں نصاب کی درجہ بندی اورمضامین کے عنوانات پر مبنی مواد کو محدود کرکے نوٹس کی شکل میں مرتب کرسکتے ہیں۔ سورا کی اسکول ایجوکیشن ایپ اینڈرائڈ5.9اسمارٹ فون پر پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔

ڈیجیٹل ریڈنگ ایپس

خوشگوار، دلچسپ اور فعال مطالعہ تعلیم و تربیت کا ضروری حصہ ہے، جسے ہم کیریئر کے سفر میں کہیں بھی فراموش نہیں کرسکتے۔ ڈیجیٹل دنیا اور انٹرنیٹ کی بدولت اب مطالعہ پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپ ہوگیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکنالوجی سے واقفیت رکھنے والے بچے اب گیجٹس لے کر اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز جاتے ہیں۔

مطالعہ وہ کھڑکی ہے جہاں سے علم کی راہیں نکلتی ہیں، تاہم مطالعے کے لیے وہی ریڈنگ ایپس استعمال کریں، جو آپ کی ذہنی استعداد کو قدم بہ قدم لیکرآگے چلیں۔ اسکول ریڈنگ ایپ’’ریڈنگ ہورائزنز‘‘ ( Reading Horizons)میں یہ تمام خوبیاں ہیں۔

اس کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ فلوریڈا کےسینٹ لوسی پبلک اسکولزسسٹمز نے اس ایپ کی خدمات اپنے 26ایلیمنٹری اسکولوں کے لیے حاصل کی ہے۔ اس میں کنڈر گارٹن سے لیکر پہلی اور دوسری جماعت کے طالب علموں کے لیے نصاب کی مکمل تیاری اور400سے زائد اساتذہ کو ان تعلیمی آلات کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی تربیت شامل ہے۔’’ریڈنگ ہورائزنز‘‘ وہ ایپ ہے، جو آپ کو مطالعے کی حکمت عملی مہیا کرتی ہے،جن کے ذریعے آپ مطالعے کا فن سیکھ سکتے ہیں۔

دلچسپ مطالعے کے 10مراحل

مطالعہ عادت ہو توآدمی فنکار ہو ہی جاتا ہے۔ پڑھاکو طالب علم ہی امتحانات میں کامیابیاں سمیٹتے ہیں۔مطالعے کو دلچسپ ، خوشگوا ر بنانے کے کئی زینے ہیں،جن میں پہلا زینہ ’’حرف‘‘ دیکھنا، بولنا، لکھنا اور سننا ہے:’’’’ا‘‘ سے اللہ۔‘‘دوسرا زینہ ہےیاد ہونے تک دہراتے ،بولتے جانا ہے۔ :’’’’ا‘‘ سے’’ اقرا‘‘‘‘!تیسرا زینہ لفظ کے بارے میں ’’سوچنا‘‘ چوتھا زینہ سبق یا کہانی سے الفاظ کا چناؤ ،اجزائے کلام اسم و صفت کا استعمال ،پانچواں زینہ پڑھتے وقت ادھورے جملے پر رک کر طالب علموں سے مکمل کرنے کے لیے کہنا ،پانچواں زینہ الفاظ کا درست تلفظ و ماخذ ہےکہ کس زبان سے نکلا ہے اور درست تلفظ کیا ہے؟

چھٹا زینہ متعلقہ مضمون سے اب ت سے شروع ہونے والے الفاظ بنانا،آٹھواں زینہ صورت خطی میں احمقانہ الفاظ کا استعمال ہے جیسے:’’خ‘‘ سے ’’خبطی‘‘۔تاکہ تفریح کا عنصر زیادہ ہونے سے نہ بھولیں۔نواں زینہ ایک دو تین حکمت عملی، جس کے تحت مختلف طلبہ سے درمیان میں سوال پوچھا جاسکتا ہے۔مضمون یا کہانی میں کون سی بات اچھی لگی کون سی نہیں بھائی۔دسواں زینہ،تجسس اور تحیر کو پروان چڑھانے کی عادت ہے۔کلاس روم میں اساتذہ کوئی بھی جادوئی سا بیگ لاکر طالب علموں سے پوچھ سکتے ہیں :’’اس میں کیا ہوسکتا ہے؟اس اسٹائل کو طالب علم مستقل مزاجی اور شوق کے ساتھ اپنے ذاتی مطالعے کو سیکھنے میں استعمال کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.