سی ایس ایس اور بیوروکریسی میں اصلاحات

    May 14, 2017 9:49 pm PST
taleemizavia single page

قیصر کھوکھر

پاکستان سول سروس آج کل ایک نئے بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز سی ایس ایس کے رزلٹ کا اعلان کیا گیا جس میں کل نو ہزار چھ سو تنتالیس امیدواروں نے حصہ لیا جس میں سے صرف دو سو دو امیدوار تحریری امتحان پاس کر سکے۔ انٹرویو کے بعد 199 امیداروں کو سول سروس کے مختلف گروپ آلاٹ کئے گئے۔

اس طرح فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق کل فائنل امیدواروں میں ایک سو نو لڑکے اور چوراسی لڑکیاں سول سروس میں جاب کی مستحق ٹھہری ہیں۔ اتنی بڑی شرح سے لڑکیوں کا سول سروس میں آنا اور لڑکوں کو مات کرنا ایک نئی بات نہیں ہے۔

اس سے قبل بھی سول سروس میں لڑکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے اور اب سول سروس ایک لیڈی سروس بنتی جا رہی ہے اگلے آنے والے چند سالوں میں پنجاب سول سیکرٹریٹ میں مرد افسران کی بجائے خواتین افسران ہر جانب تعینات ہونگی ۔ پاکستان کے آئین کے تحت کسی بھی شہری کو رنگ و نسل یا مذہب یا فرقے یا مرد عورت ہونے کی بنا پر سرکاری نوکری سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کو مردوں کے برابر تعلیم کا حق حاصل ہے اور اگر آج کسی بھی یونیورسٹی کا دورہ کیا جائے تو وہاں پر لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد زیادہ نظر آئے گی۔ میڈیکل کالجز اور پروفیشنل اداروں میں بھی خواتین تعلیم کے میدان میں مردوں سے آگے ہیں اسی طرح اقلیتوں کو بھی برابر تعلیم کے حقوق حاصل ہیں۔

لیکن سرکاری ملازمتوں اور سی ایس ایس میں خواتین کا دس فی صد کوٹہ اور اقلیتوں کا کوٹہ ختم ہونا چاہیے کیونکہ جب اوپن میرٹ پر خواتین کی ایک بڑی تعداد سیلیکٹ ہو رہی ہیں تو کوٹے کا کوئیاخلاقی جواز نہیں رہتا ہے۔

حکومت پاکستان کو فوری طور پر سرکاری ملازمتوں میں خواتین اور اقلیتوں کا کوٹہ ختم کر دینا چاہیے اور یہ تمام بھرتی میرٹ پر کرنا چاہیے۔

کہا جاتا ہے کہ سرکاری ملازمین اور افسران کی کم تنخواہ کی وجہ سے اور مارکیٹ میں بھاری پے پیکیج کی وجہ سے ذہین لوگ سرکاری ملازمتوں اور سول سروس کی بجائے نجی شعبہ میں نوکری کو ترجیح دے رہے ہیں جس کی وجہ سے سول سروس کا معیار اور نام گر گیا ہے۔ افسر شاہی تباہ ہو گئی ہے ، سیکرٹری اوقاف نوازش علی اور سیکرٹری ماحولیات سعید اقبال واہلہ دوران ڈیوٹی ٹینشن لینے سے وفات پا چکے ہیں۔

سیکرٹری لیبر ڈاکٹر شعیب اکبر، سیکرٹری آئی اینڈ سی فراست اقبال اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن عبدالجبار شاہین کو بیماری کے باعث عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ کئی دیگر افسران اوور ورک، فٹیک اور ٹینشن کی وجہ سے بیمار ہو رہے ہیں۔

چیف سیکرٹری پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ زاہد سعید سارا دن اور رات گئے تک کام کی وجہ سے اجلاسوں کے دوران سو جاتے ہیں اور وہ اس طرح اپنی نیند پوری کرتے ہیں۔ سول سروس کی جانب نوجوانوں کا آنے کا رجحان کم پڑ رہا ہے کیونکہ گریڈ سترہ میں چالیس ہزار روپے تنخواہ میں گزارا کرنا اور گھر کا بجٹ بنانا بہت مشکل ہے راو تحسین اجلاس میں شریک بھی نہ تھے کہ انہیں سزا دی جا رہی ہے۔

اس صورت حال میں خواتین کی ایک بڑی تعداد سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے امتحان میں کامیاب ہو کر سول سروس جوائن کر رہی ہے۔ جس سے سول سروس ایک لیڈی سروس بنتی جا رہی ہے۔ اس وقت سول سروس میں فوری اور ضروری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

آج سے 25 سال قبل سول سروس میں ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روکنے کے لئے حکومت وقت متحرک ہوئی کہ ہر ڈاکٹر بننے والا نوجوان سی ایس ایس کی جانب جا رہا تھا جس سے ڈاکٹروں کی شدید قلت ہو رہی تھی جس طرح حکومت نے سی ایس ایس میں خواتین کا کوٹہ دس فی صد مقرر کر رکھا ہے جو کہ اوپن میرٹ سے الگ ہے۔

پی اے ایس (ڈی ایم جی ) ان لینڈ ریونیو سروس، کسٹم سروس، فارن سروس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد سروس جوائن کر رہی ہے۔ پنجاب میں پی اے ایس (ڈی ایم جی) میں خواتین کی ایک خاصی بڑی تعداد ہے جو کہ ایک تہائی کے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔

سی ایس ایس کے بھرتی ہونے والی یہ خواتین جہاں اپنی ملازمت کا حق لیتی ہیں وہیں انہیں حکومت کو ذمہ داریاں بھی دینا چاہئے۔

یہ سروس کے مزے تو وفاقی سروس کے لیتی ہیں جہاں پر ان کی گریڈ22 تک ترقی کے روشن امکانات ہوتے ہیں لیکن یہ نوکری صوبائی سروس کی طرز پر پنجاب سول سیکرٹریٹ میں ہی کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

لاہور، قصوراور شیخوپورہ میں اے سی اور ڈی سی لگنا پسند کرتی ہیں یا سول سیکرٹریٹ میں ڈپٹی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹری کو ہی ترجیح دیتی ہیں۔ اگر یہ وفاقی سروس کی طرز پر سروس سٹرکچر لیتی ہیں تو انہیں سندھ بلوچستان، کے پی کے اور گلگت بلتستان نوکری بھی کرنا چاہیے اور حکومت کو انہیں مرد افسران کی طرز پر ان کی روٹیشن کرانا چاہیے۔

لیکن اس وقت پی اے ایس افسر نرگس چوہری اسلام آباد کی رہائشی ہیں اور وہ منڈی بہاوالدین میں ایڈیشنل کمشنر تعینات ہیں ۔ خواتین کو ہر شعبہ میں آگے آنا ترقی کی ضرورت ہے یہ ہونا چاہیئے اور یہ بہت ضروری بھی ہے لیکن ساتھ ساتھ جب خواتین وفاقی سروس لیتی ہیں تو اس کے ساتھ انصاف بھی کیا جائے جو اس سروس میں مردوں کے لئے قوانین ہیں وہی خواتین کے لئے بھی ہونا چاہئے اور یہ کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مرد افسر بلوچستان اور گلگت نوکری کے لئے جائیں اور خواتین افسر لاہور کراچی یا گھر کے قریب تر نوکری کریں اور پروموشن گریڈ 22 تک لیں کیا یہ انصاف ہوگا ؟؟؟۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں اس وقت انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کیریئر گروتھ میں مختلف فیلڈ اور ہیڈ کوارٹر کی اسائنمنٹ ضروری ہوتی ہے۔ سی ایس ایس کرنے کے بعد یہ خواتین افسران اپنے اپنے صوبوں میں چلی جاتی ہیں اور پھر وہی پر ساری سروس کرتی ہیں۔

ان خواتین افسران کو اگر ڈی جی خان ، راجن پور یا رحیم یار خان بھیجا جائے تو یہ وہاں جانے کو تیار نہیں ہیں۔ اس وقت ڈی سی او قصور عمارا خان اور ڈی سی او ننکانہ سائرہ عمر ایوان وزیر اعلیٰ میں کام کرنے کی وجہ سے لاہور کے نزدیک ترین ڈی سی تعینات ہیں۔

خواتین افسران کی ساری سروس اربن کلچر اور گھر کے نزدیک کی ہوتی ہے،اگر وفاقی حکومت ان خواتین افسران کو مرد افسران کی طرز پر بلوچستان ، کے پی کے ، گلگت بلتستان میں تعینات کرے تو اس سے عوام میں ان کا امیج بھی بہتر ہوگا اور ان کی آوٹ پٹ اور ڈیلیوری میں بھی بہتری آئے گی۔ اور وفاقی سروس کے ساتھ انصاف بھی ہو سکے گا،اس عمل سے معاشرہ بھی انہیں تسلیم کرے گا۔

پنجاب حکومت خواتین افسران کو ڈی سی او اور کمشنر لگانے سے کتراتی ہے کہ ان کے کئی ایشو ہوتے ہیں۔ سیکورٹی اور سال میں چھٹیاں لینا بھی ایک خامی میں آتا ہے۔

اس لئے اب سروس میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں سول سروس ایک لیڈی سروس بن کر سامنے آنے پر کیا کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں سول سیکرٹریٹ لاہور میں تمام ہیڈ کوارٹر اسامیوں پر ان خواتین افسران کی تعداد زیادہ ہوجائے گی اور پی سی ایس اور پی ایس ایس افسران کو کھڈے لائن جانا پڑے گا کیونکہ ان خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد نے نہ فیلڈ میں جانا ہے اور نہ ہی دیگر کسی صوبہ میں۔

سارا زور لاہور میں پوسٹ تلاش کرنے پر ہوگا۔ یہی کچھ حال کسٹم سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس اور فارن سروس کا ہے ۔

دور دراز اور ہارڈ ایریاز میں یہ خواتین جانے کو تیار نہیں ہیں۔اس وقت بلوچستان ، کے پی کے، گلگت بلتستان میں افسران کی شدید کمی ہے۔ خواتین افسران اپنے صوبے اور گھر سے دور جانے کو تیار نہیں ہیں اور مرد افسران کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے لیکن جب اہم اسامیوں پر تعیناتی کا وقت آتا ہے تو یہ خواتین افسران کہتی ہیں کہ حکومت نے ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا ہے اور انہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا ہے۔

جب کوئی بھی شہری سروس جوائن کرتا ہے تو اس کے ساتھ مرد اور خاتون کی تمیز ختم ہونی چاہیئے۔ سب کو برابر ی کی بنیاد پر تبادلے ، بین الصوبائی روٹیشن، فیلڈ پوسٹنگ ، ہارڈ ایریاز میں تعیناتی بلا امتیاز اور بلا تفریق ہونا چاہئے۔

سول سروس میں خواتین کی بھڑتی ہوئی تعداد سے یہ ساری کواتین لاہور کراچی اور اسلام آباد نوکری کو ترجیح دے رہی ہیں جس سے گلگت، اندرون سندھ، کے پے کے اور بلوچستان میں افسران کی کمی کو پورا نہیں کیا جا سکے گا۔

وفاقی سروس وفاق پاکستان کی علامت ہوتی ہیں انہوں نے پورے ملک کی پالیسیاں بنانا ہوتی ہیں لیکن ایک ہی شہر یا ایک ہی صوبے میں تیس ،تیس سال نوکری سے یہ سارے تجربات ، مشاہدات اور ویژن نہیں مل سکتا ہے۔

پنجاب سول سیکرٹریٹ میں خواتین افسران کو ہیلکی اسائنمنٹ پر ایڈیشنل سیکرٹری، ڈپٹی سیکرٹری اور کم اہم محکموں کا سیکرٹری لگایا جاتا ہے کیونکہ یہ کواتین افسران رات گئے تک نوکری نہیں کر سکتی ہیں اور نہ ہی زیادہ بھاگ دوڑ والی نوکری کر سکتی ہیں یہ کواتین افسران پنجاب سول سیکرٹریٹ میں صبح گیارہ بجے پہنچتی ہیں اور ایک بجے دفتر سے واپس گھر چلی جاتی ہیں۔

کئی خواتین افسران تو محض رسمی کاروائی کے لئے سول سیکرٹریٹ حاضری لگانے آتی ہیں۔ یہ اب وقت کی ضرورت ہے کہ سول سروس میں اصلاحات لائیں جائیں، ان کے پے پیکیج اور مراعات کا از سر نو جازہ لیا جائے۔

اور خواتین کی سول سروس میں بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر انہیں بھی ہارڈ ایریا اور بلوچستان اور کے پی کے میں تعینات کیا جائے تاکہ سول سروس اور عوام کی خدمت ساتھ ساتھ چل سکیں۔ اس سے سول سروس مضبوط ہوگی اور جب سول سروس مضبوط ہوگی تو ادارے مضبوط ہونگے اور جب ادارے مضبوط ہونگے تو ملک مضبوط ہوگااور ملک ترقی کرے گا۔


qaisar khokhar

قیصر کھوکھر پندرہ سال سے سول سروس، بیوروکریسی کے ایشوز پر رپورٹنگ کر رہے ہیں وہ بیوروکریسی کے مسائل پر اپنا نقطء نظر رکھتے ہیں اور اُن کی رائے اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ چینل 24 میں ایڈیٹر بیوروکریسی ہیں۔

  1. قانون پر اخلاق کو فوقیت حاصل ہے اور تحریر میں تکرار دلچسپی کھو دیتی ہے

  2. ریاست میں قانون کو اخلاق پر فوقیت حاصل ہے۔ اخلاق اگر امتیازی نہ ہو قانون کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔نیز اخلاق یہ تشریح بہت عجیب ہے کہ ریاست مرد و خاتون میں امتیاز کر کے ذمہ داریاں سونپے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *