سی ایس ایس امتحان: کیا اُردو غریب زبان ہے؟

    March 17, 2017 5:15 pm PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر منور صابر

مذہب کے بعد انسانی تاریخ گواہ ہے زبان وہ عنصر ہے جس کے معاملے میں انسان بہت حساس ہوتا ہے بالخصوص مادری زبان کے متعلق۔ دُنیا کے بہت سارے ممالک میں مادری زبان ہی قومی زبان ہے جیسے جاپان، چین، روس، جرمنی۔ قیام پاکستان کے بعد اُردو کو قومی زبان کا درجہ دیتے وقت جب قائد اعظم نے اعلان کیا تو اُسی وقت ہی شورش برپا ہوگئی تھی۔ وہاں پر موجود لوگوں نے احتجاج کیا تھا۔

مذہب کے نام پر ملک حاصل کرنے والی قوم بعد ازاں زبان کی تقسیم سے شروع ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں دولخت ہوگئی تھی۔ 1990ء کی دہائی میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن زبانوں میں ایک مقابلے کی کیفیت پائی جاتی تھی کیونکہ دُنیا گلوبلائزیشن کی طرف بڑھ رہی تھی اور گلوبلائزیشن کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر سیاسی، معاشی، سماجی رابط عروج پکڑتا ہے تو سب سے پہلی چیز جو تفریق پیدا کرتی ہے وہ زبان ہی ہوتی ہے۔

یعنی دو مختلف قوموں کے لوگ جب باہم میل ملاپ کریں گے تو سب سے پہلا ایشو ہی ہوگا کہ کس زبان میں بات کی جائے۔ میڈیا ہی کی مثال لے لیں، دُنیا کے سب سے زیادہ ممالک میں دیکھے جانے والے چینلز میں سی این این اور بی بی سی کا طوطی بولتا ہے۔ اور یہ دونوں ادارے بنیادی طور پر انگریزی زبان کے پیروکار ہیں۔

انگریزی زبان اتنی ترقی کر گئی ہے کہ بحثیت زبان یہ آمدن کا ذریعہ بن گئی ہے۔ ہر سال ہزاروں لوگ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے ممالک میں تعلیم، علاج یا روزگار کے حوالے سے جب ان ممالک میں جاتے ہیں تو اُن کو انگریزی کا ایک امتحان پاس کرنا پڑتا ہے۔

اگر آپ ایک دفعہ مطلوبہ سکور کے ساتھ امتحان پاس کر لیں تو بھی ایک یا دو سال کے بعد موثریت ختم ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں اب سی ایس ایس یعنی مقابلے کے امتحان کو اُردو میں انعقاد پذیر کے حکم نے ہلچل سے زیادہ بے چینی کی کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔ بالخصوص اُن طلباء و طالبات میں جنہوں نے دو ہزار اٹھارہ میں یہ امتحان دینا ہے۔

جانئیے؛ سی ایس ایس پاس کرنے کا25سالہ آزمودہ نسخہ

اگر بات اُردو بحثیت ایک مضمون سو یا دو سو نمبر شامل کرنے کی ہوتی تو شاید اضطراب نہ ہوتا لیکن پورے امتحان کا انعقاد اُردو میں کرنے کے حکم میں کتابیں لکھنے اور چھاپنے والوں کو اُس سے بھی زیادہ کنفیوژن میں ڈال رکھا ہے۔ اس حوالے سے متعدد سائنسی مضامین کے مصنف اساتذہ سے جب بات ہوئی تو اُنہوں نے اسے تقریبا ناممکن قرار دیا اور اس بات پر بے بسی بھرا اسرار کرتے نظر آئے اگر ہم اُردو میں ترجمہ کریں بھی تو استعمال ہونے والے مخصوص الفاظ جسے جارگن کہتے ہیں، کیلئے انگریزی زبان پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔

یعنی کتاب کا اُردو میں ترجمہ تو ہو جائے گا مگر انگریزی کے الفاظ لازمی شامل کرنا پڑیں گے۔ سی ایس ایس پاکستان کا سب سے مشکل اور بڑا امتحان قرار دیا جاتا ہے اس کو پاس کرنے کے لیے لوگ کم از کم ایم اے تک تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ اس کے لیے بنیادی ضرورت بی اے ہی ہے۔

اور جو تعلیمی اخراجات برداشت کرسکتے ہیں وہ بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہی اس امتحان کی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ سی ایس ایس میں جتنے بھی سائنسی مضامین ہیں جیسے کیمسٹری، فزکس، شماریات، زوالوجی، باٹنی، جغرافیہ، اینوائرنمنٹل سائنس ان مضامین کو اُردو میں مکمل ترجمہ ممکن نہیں ہے۔ اگر اُردو کو بطور امتحانی زبان لازم قرار دینا ہے یعنی اُردو میں منتقل کرنا ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ اس کا آغاز میڑک کی جماعت سے کیا جائے۔

میڑک سے لے کر بی اے تک تینوں امتحانات میں انگریزی بطور لازمی مضمون پاس کرنا ضروری ہوتا ہے اگر آپ امتحانی نتائج کے اعداد و شمار کا تجزیہ کریں تو نوے فیصد طلباء وطالبات انگریزی مضمون میں ہی فیل ہوجاتے ہیں۔ بی اے کی مثال لیجئے۔

بی اے کے ضمنی امتحان میں شرکت کرنے والے طلباء کی تعداد سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اب یہ بات معمولی نہیں ہے یعنی بی اے پاس کرنے کے لیے کسی اختیاری مضمون میں دُشواری کا سامنا نہیں ہوتا ماسوائے انگریزی کے۔

احترام بھری معذرت کے ساتھ ایک تلخ حقیقت کا حوالہ دے دوں کہ عربی، فارسی اور پنجابی کو بحثیت اختیاری مضامین منتخب کرنے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ان مضامین کے ممتحن پرچوں کی چیکنگ میں انتہائی کُھلے دل کا مظاہرہ کرتے ہیں تاکہ ان مضامین کا انتخاب زیادہ سے زیادہ طلباء کریں۔

یہ بھی پڑھیں؛ سی ایس ایس میں 98 فیصد اُمیدوار کیوں فیل ہوئے؟

دو سو نمبروں کا مضمون عربی یا فارسی میں پڑھنے والا طالبعلم عام زندگی میں عربی زبان کے چند فقرے بھی روانگی کے ساتھ نہیں بول سکتا جو تعلیم کے نظام اور معیار کے ساتھ ایک برہنہ مذاق ہے۔ اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے بالخصوص وہ لوگ جو نظام تعلیم کو اُردو میں منتقل کرنا چاہتے ہیں آج تک کسی نے ایسا سافٹ ویئر بنانے کا سوچا تک نہیں ہوگا جو کمپوزنگ کرتے وقت غلط لفظ ٹائپ ہونے پر سُرخ رنگ کی لکیر ظاہر کردے جس طرح انگریزی میں کوئی بھی تحریر لکھتے وقت لفظ غلط ٹائپ ہونے پر ایک سُرخ لکیر آجاتی ہے اُسے کلک کریں تو وہ ممکنہ غلطی کی نشاندہی کے سپیلنگ بھی بتا دیتا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی، علمی سرقہ یعنی کسی دوسرے مصنف کی ریسرچ کو نقل کرنا پلیجرازم کہلاتا ہے مگر اُردو، فارسی، عربی اور پنجابی میں جو تھیسز لکھے گئے ہیں اُن کی پلیجرازم رپورٹ حاصل ہی نہیں کی جاسکتی۔ جو کہ ان مضامین سے وابستہ افراد کیلئے ایک چیلنج ہے۔

کیا ہی اچھا تو کہ انگریزی زبان جس میں سالانہ محتاط اندازے کے مطابق تین ہزار نئے الفاظ آتے ہیں اُن میں سے کثرت سے استعمال ہونے والے الفاظ کا ترجمہ کرنے کی کوشش کریں تو یا ترجمہ نہیں ملتا یا پھر اس کا عام استعمال نظر نہیں ہوتا۔ جس طرح ان پڑھ آدمی بھی تھرما میڑ ہی بولے اگرچہ اُردو میں اسے حرارت پیما کہتے ہیں مگر جب درجہ حرارت بتایا جاتا ہے تو فارن ہائیٹ اور ڈگری میں بتایا جائے گا جو انگریزی کے لیے الفاظ ہیں۔

اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ انگریزی زبان نہ چاہتے ہوئے بھی ہماری مجبوری درجہ رکھتی ہے۔ انگریزی زبان کی ترقی کا راز اس زبان کے ماہرین کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اُس سائنسی ترقی کی وجہ سے ہے جو اس زبان کو بولنے والے افراد نے کی ہے۔ جیسے کمپیوٹر بنانے والے نے اس کو یہ نام دیا اور پھر کمپیوٹر سے متعلق مہاورے استعمال ہونے لگ گئے۔ جیسے تیز دماغ آدمی کو کہتے ہیں کہ اس کا دماغ کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے۔

اگر غور کریں تو زبان کی ترقی میں سب سے زیادہ اہمیت کا عنصر تشبہیہ ہوتا ہے جیسے سمندر کی طرح گہرا، علم کا دریا، پہاڑوں جیسے عزائم، کوئل کی آواز، کتے جیسے بھونکنا، ہرنی جیسی چال، شیر کا جگر، چیتے جیسی لپک یہ تمام مہاورے فطرت سے ادھار لیے گئے۔

اگر غور کریں تو یہ صرف اُردو زبان میں ہی نہیں بلکہ دُنیا کی ہر زبان میں یہ چیز ملتی ہے کہ اُس کی ضرب الامثال، مہاورے قدرت یعنی فطرت سے لیے گئے ہوں گے۔ انگریزی زبان کے ممالک نے یہ محرومی ختم کی اور انسان کی بنائی ہوئی چیزوں و ایجادات جس کا آغاز صنعتی انقلاب کے بعد ہوا قدرتی مظاہر کو چھوڑ کر حضرت انسان کی ایجادات کی طرف لے آئے۔

یعنی اب جدید مہاورے، ضرب الامثال انسانی ایجادات سے منسوب ہیں۔ جس میں موبائل کمپیوٹر، ریڈیو، مشین جیسی چیزیں ہیں آپ ڈکشنری میں لفظ مشین کا مطالعہ کریں تو درجنوں مہاورے جسے انگریزی زبان میں ایڈیمز کہتے ہیں مل جائیں گے۔ قدرت کا اُصول ہے کہ طاقتور چیز کمزور پر غالب آجاتی ہے۔ اسی طرح سائنسی و علمی اعتبار سے طاقتور لوگوں کی زبان ہم پر مسلط ہوچکی ہے۔ اس کو سیکنڈ لینگوئج کے طور پر سیکھنا امر مجبوری ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے انکار پر یہ تلخ حقیقت میں بدل جائے گی اس لیے اُردو زبان، بول چال، خط وکتابت کی حد تک خوش آمدید، مگر سائنسی علوم کے بہتر و باآسانی حصول کے لیے پہلی زبان سے ہی اُردو زبان کے ساتھ انگریزی کو بھی سیکھ لیا جائے۔

تاں آنکہ کہ اُردو زبان بولنے والے اتنی ترقی کر جائیں کہ اُن کی ایجادات اور تخلیقی چیزیں منظر عام پر آئیں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کی مجبوری بنیں کہ وہ اسے سیکھیں۔

آپ کرکٹ میں استعمال ہونے والی اصطلاح دوسرا کی ہی لے لیں۔ پاکستانی باؤلر ثقلین مشتاق نے متعارف کرائی، انگریزی زبان میں کمنڑی والے بھی اسے دوسرا ہی بولتے ہیں۔ اسے انگریزی میں سیکنڈ بھی بولا جاتا ہے۔ اب کیونکہ ایجاد پاکستانی کی تھی تو اس لیے اس کا دیا ہوا نام ہی مشہور ہوا۔

ماضی میں جب مسلمان سائنسدانوں کو طوطی بولتا تھا تو عربی زبان کو آج کے انگریزی دور کی طرح عروج حاصل تھا۔ لہذا اولا ملک میں تعلیم کو پہلی ترجیح بنایا جائے، دوئم سائنسی علوم کی تعلیم پر زور دیا جائے۔ جہاں تک ممکن ہو انگریزی اصطلاحات کا اُردو میں ترجمہ کیا جائے جس طرح پہلے ذکر ہوا کہ اس زبان کو سیکھ لینا دس مشکلوں کا ایک حل ہے۔ اس لیے اس پر بحث کی بجائے عمل کیا جائے۔

دو ہزار اٹھارہ کا امتحان اگر واقعی ہی اُردو میں ہوگا یا نہیں اس حوالے سے کمیشن کو چاہیے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو مان لے یا بصورت دیگر اعلیٰ عدلیہ میں قانونی چارہ جوئی کرے وگرنہ اُردو زبان میں سی ایس ایس امتحان کے انعقاد کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا تو یہ امتحان دینے والے طلباء محفوظ نہیں رہیں گے۔

اُردو میں انعقاد ہو بھی جائے تو ایک سال کے عرصے میں اُردو کتب کی تدوین و اشاعت کون کرے گا اور یہ کتابیں مارکیٹ میں کیسے آئیں گے جنہیں پڑھ کر سی ایس ایس کے امتحان کی تیاری کی جاسکے۔


munawer2

منور صابر پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ جغرافیہ میں بطور اُستاد تعینات ہیں۔ اُنہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ پچیس برس سے سی ایس ایس کے طلباء کو بطور اُستاد پڑھا رہے ہیں اور اُن کے ہزار سے زائد براہ راست سی ایس ایس شاگرد ہیں۔ اس تجربہ کی بنیاد پر اُنہوں نے یہ کالم خصوصی طور پر تعلیمی زاویہ کے لیے لکھا ہے۔

  1. کیا اردو زبان بذات خود کوئی زبان ہے؟
    اردو کے لغوی معنی لشکر کے ہیں اور یہ زبان ایک لشکر ہی کی طرح درجنوں زبانوں کے الفاظ کا مجموعہ ہے۔ ایک خیال کے مطابق انسان کے آسان زندگی گزارنے کے لئے دو زبانیں کافی ہوتی ہیں۔ ایک مادری زبان اور دوسری بین الاقوامی زبان۔ لہزا میری دانست میں سی ایس ایس کے امتحان کے اردو میں انعقاد کا فیصلہ بری طرح سے ناکام ہوگا۔ اس فیصلے کا مدعی یقینا کوئی نالائق شخص ہوگا جس نے اردو کے شارٹ کی کی مدد سے امتحان پاس کرنے کا سوچامگر جس کی تیاری مضبوط ہو، اسے زبان کی تبدیلی کی پرواہ نہیں ہوا کرتی۔

  2. I agree with the confusion of the language of CSS 2018. Being English teacher, I would insist that the medium of instruction in imparting knowlwdge muat be in our national language, that is, Urdu so that the best brains in the country can contribute their services. No matter if the jargons, scientific , technological words remain in English. Mostly CSS students fail in english essay due to wrong sentence structure, grammar and then spellings reapectively. We should come out of the controvery of the translation of English technological and scientific vocabulary and accept them as they are to promote Urdu language. Afterall, dont we find French, Latin and Greek words in English language!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *