باچا خان یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر وفاقی محتسب سے سزا یافتہ

    July 29, 2017 12:54 pm PST
taleemizavia single page

چار سدہ

خیبر پختونخوا حکومت نے یونیورسٹی رولز کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے وفاقی محتسب سے سزا یافتہ اور مختلف نوعیت کے الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کو باچا خان یونیورسٹی چار سدہ کا وائس چانسلر تعینات کر دیا گیا ہے۔

اس معاملے پر ایریڈایگری کلچر یونیورسٹی راولپنڈی نے ایک تحریری مراسلہ بھی لکھا ہے۔ باچا خان یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر ڈاکٹر ثقلین نقوی کو ایریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی نے کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تعلیمی زاویہ کو موصول ہونے والی دستاویزات کے مطابق پختونخوا حکومت نے صوبے کی نو سرکاری یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز تعینات کیے جس میں باچا خان یونیورسٹی بھی شامل ہے۔

اس یونیورسٹی میں ایریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ثقلین نقوی کو وائس چانسلر تعینات کیا گیا۔

نئے وائس چانسلر کے چارج سنبھالنے کے بعد باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی سے ڈاکٹر ثقلین نقوی کی آخری تنخواہ سرٹیفیکیٹ کیلئے رابطہ کیا تو مذکورہ یونیورسٹی کی جانب سے کلیئرنس لیٹر کی بجائے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ ایریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی راولپنڈی ڈاکٹر ثقلین نقوی کو کلیئرنس نہیں دے
سکتی۔

vc

کیونکہ مذکورہ پروفیسر کو پہلے سے مختلف نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر ثقلین نقوی کے خلاف وفاقی محتسب نے دسمبر دو ہزار سولہ کو خاتون کو ہراساں کرنے کے جُرم میں سزا سنائی تھی جس کا کیس ابھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ آخری تنخواہ سرٹیفیکیٹ میں کلیئرنس کے بغیر کوئی اُمیدوار وائس چانسلر جیسے اہم عہدے کے لے اہل نہیں لیکن صوبائی حکومت نے مذکورہ رولز کو پس پشت ڈالتے ہوئے کلیئرنس آنے سے پنتالیس دن پہلے ہی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جو یونیورسٹی رولز کی خلاف ورزی ہے۔

باچا خان یونیورسٹی کے رجسٹرار کا موقف ہے کہ ڈاکٹر ثقلین نقوی کے حوالے سے ایریڈ ایگری کلچر یونیورسٹی نے گورنر خیبر پختونخوا اور محکمہ ہائر ایجوکیشن کو بھی اعتراضات پر مبنی مراسلہ ارسال کیا ہے۔ مجاز اتھارٹی سے فیصلہ آنے کے بعد کوئی اقدام اُٹھایا جا سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *