لاہور میں وائس چانسلرز کانفرنس کی حقیقت

    April 25, 2017 3:43 pm PST
taleemizavia single page

شاہد عمران

جی ہاں کانفرنس کا مقصد امن اور رواداری کی ترویج کرنا تھا، سماج کی اُس اکائی میں جہاں پر کثیر الذہن، کثیر المزاج طلباء روزانہ جمع ہوتے ہیں۔ وہاں سے امن کے پیغام کو پھیلانا مقصود ہے جو سماج کی پہچان ہیں، یہ جامعات کا ہی کام تھا کہ وہ ذہنوں کی ایسی آبیاری کریں کہ جب ان کے طلباء باہر نکلیں تو پھر وہ نمونہ ہوں۔

امن و سلامتی کا۔ خواب دیکھنے پر کیوں پاپندی لگانا چاہتے ہیں، خوابوں کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ابتداء تو کرنا ہوتی ہے۔ کچھ تو کر کے دکھانا ہوتا ہے اور پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس کا آغاز کردیا ہے۔

محض قصے کہانیاں تو نہیں، ہر چیز تو سو فیصد درست نہیں ہوتی لیکن نیت تو درست تھی۔ مباحثہ بنیادی طور پر مکالمہ کی طرف لے کر جاتا ہے۔ قبل از مسیح دور میں ارسطو، افلاطون، سقراط نے بھی تو سماج کی تشکیل پر مکالمہ کیا تھا ،جس کا آغاز علمی مباحثوں سے ہوا۔ آج دو ہزار سال بعد بھی اسی مکالمہ کی ضرورت ہے۔ اور اس مکالمہ کا مرکز ٹی وی چینلز نہیں بلکہ درسگاہوں کو بنانے کو ضرورت تھی اور اب اس مرکز کی پہلی اینٹ رکھ دی گئی ہے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی سوچ تو سماج کی شیرازہ بندی کرنے میں بڑی رکاوٹ ہے۔

شدت پسندی کو شکست شدت پسندی سے بھلا یوں کیسے دیں گے؟ ہم نے ایوب خان کے دور کی طلباء سیاست بھی دیکھی، بھٹو دور بھی دیکھا، ضیاء آمریت بھی دیکھی۔ کیا ملا ان درسگاہوں کو؟

کیا ہم جامعات سے علمی طور پر اپاہج فارغ التحصیل پیدا کرنا چاہتے ہیں، ہم کیا جامعات کو اشتعال انگیزی کا مرکز رکھنا چاہتے ہیں، کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ عدم برداشت کی انتہا کو پہنچ کر مردان یونیورسٹی جیسے واقعات دیگر جامعات میں بھی ہوں۔

پنجاب نے تو امن کا مکالمہ شروع کیا ہے۔ ابھی تو اس کی ابتداء ہے۔ ہم تو وائس چانسلرز کو امن کا داعی بنانا چاہتا ہیں اور درسگاہوں کا اس کا مرکز۔ اگلے درجہ میں طلباء اور اساتذہ بھی تو اس امن کا حصہ ہوں گے۔ یہ دو روز تک جاری رہنے والے اسی مکالمہ کا ہی نتیجہ تھا کہ وائس چانسلرز نے تجاویز دیں، امن کی راہیں تلاش کیں۔ سوچنے کا موقع تو دیں اور یہ موقع دیا گیا۔

لاہور میں ہونے والی اس کانفرنس کے ذریعے رواداری کے اُس جذبے کا عملی نمونہ پیش کیا گیا جس نے شرکاء کی رائے سننے کا احترام پیدا کیا اور جوابی رائے کو بھی اپنی سماعتوں کی نظر کیا۔ ورکنگ گروپ میں لازمی تو نہیں کہ سبھی فلسفیانہ گفتگو کریں لیکن ہمارا مطمع نظر تو مجموعی طور پر جمع ہونے والی تجاویز کو اہمیت دینا تھا۔

تنقید برائے تنقید تو بہت آسان کاروبار زندگی ہے مگر یونہی تنقیدی مزاج اپنا کر اپنی شناخت بنا لینا کیسی دانشوری ہے؟ کیا دانشوری کی کونپلیں صرف اُسی وقت پھوٹ سکتی ہیں جب یہاں سے نفرت کے بیج فروخت کیے جائیں۔

پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے وہ پلیٹ فارم یونیورسٹیز کو دیا جو رائے عامہ ہموار کرنے والے ٹی وی چینلز، اخبارات بھی نہ دے سکے۔ دہشت گردی کے مباحثوں میں تو سماجی اداروں نے جامعات کو جگہ ہی نہیں دی۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ یونیورسٹیز دہشت گردی کے مروجہ بیانیہ پر جوابی بیانیہ پیش کرنے کی بجائے متبادل بیانیہ پیش کریں اور شاید آپ کو بھی خوشی ہو کہ امن پر کانفرنس اس متبادل بیانیہ کی طرف پہلا قدم ہے۔

امن و رواداری کا درس کتابوں میں پڑھنے سے تھوڑی آئے گا بلکہ اس کا عملی مظاہرہ ضروری ہے۔ طلباء کو مباحثوں کے کلچر میں شامل کر کے ان میں مکالمہ کرنے کی ذہن سازی کرنا لازمی ہے اس لیے یہ تجویز آئی کہ طلباء پر مشتمل کلب بنائیں، ان کلب یا سوسائٹیز کے ذریعے طلباء کو مواقع دینا ہے کہ اُن میں ذمہ داری کا رویہ پیدا ہو، اُن میں لیڈر شپ صلاحیتیں پیدا ہوں۔ وہ گفتگو کریں، دلائل تلاش کریں، کتاب کی ورق گردانی کریں، لائبریریز کھنگالیں، انٹرنیٹ کی دُنیا پر جائیں وہاں مواد تلاش کریں۔ یہ سب کیسے ہوگا؟ اسی پر تجاویز مرتب ہوئیں۔

وائس چانسلرز نے ہی کانفرنس میں سفارش کی کہ طلباء تنظیموں کا متبادل طلباء سوسائٹیز ہی ہیں۔ اساتذہ بھی سیاست کرتے ہیں اس کی بھی مذمت ہوئی۔ علم و دانش کے موتی طلباء کو دینا چاہتے ہیں تو پھر یہ سفارش ہوئی کہ معاشرتی علوم پڑھاؤ۔ سماجی علوم اور شہری حقوق کو نصاب کا حصہ بناؤ اور اس پر طلباء کی کلاس روم میں تربیت کا بندوبست ہو۔

وائس چانسلرز نے نیند کے مزے نہیں اُڑائے بلکہ ورکنگ گروپس میں بیٹھ کر تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے مباحثوں میں حصہ لیا۔ کانفرنس کی غرض یونیورسٹیاں تھیں۔ اس لیے یہ سفارش آئی کہ یونیورسٹیوں کی مساجد کو ریگولیٹ کر دیا جائے وہاں سے امن کا پرچار کیا جائے۔

صرف یہی نہیں جب وزیر تعلیم پنجاب سید رضا علی گیلانی اختتامی تقریب میں پہنچے تو انہوں نے ان تجاویز کے نفاذ کی یقین دہانی بھی تو کرائی۔ وہ تو خود یونیورسٹیز کی رہنمائی کرنا چاہتے ہیں اور اس عزم کا اظہار اُنہوں نے کانفرنس میں شرکت کے ذریعے سے کیا بلکہ ان تجاویز کو پالیسی کی شکل دینے کا بھی ارادہ کیا گیا۔

رہی بات کہ آواری ہوٹل میں ہی امن کانفرنس کیوں؟ تو اگر لاہور کی کسی بھی یونیورسٹی کا انتخاب کر لیا جاتا تو باقی یونیورسٹیز کہتی کہ ہماری یونیورسٹی کو منتخب کیوں نہیں کیا گیا۔ کانفرنس سے پہلے تجویز تھی کہ جنوبی پنجاب کی کسی یونیورسٹی مقام ہو لیکن کیونکہ کانفرنس کے منتظمین میں دیگر ادارے بھی شامل تھے تو موزوں ترین مقام یہی بنتا تھا باقی ہمارا غرض تو مقاصد سے ہونا چاہیے۔ یہ ذیلی نقطء اعتراض ہے بس۔

اور امن کی خاطر کیا جائے؟ سماج کا ارتقائی مرحلہ یوں ہی طے ہوتا ہے، کمیشن نہ ہوتا تو یہ سب کیسے ممکن تھا؟ امن و رواداری کی بات کون کرتا؟ مباحثہ سے مکالمہ تک پہنچنے کا سفر کیسے طے ہوتا۔


shahid imran

شاہد عمران پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں اور وہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن میں ریسرچ آفیسر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *