نوآبادیاتی تعلیمی دور:انگریزوں نےہندوستان کو کیسے ذہنی غلام بنایا؟

    August 24, 2016 9:10 pm PST
taleemizavia single page

ناصر عباس نیر

برطانوی ہندوستان میں جتنی تعلیمی پالیسیاں نافذ ہوئیں،ان کی جہت اور مقصد میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی، تاہم اس مقصد کے حصول کے طریقِ کار میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف تک ہندوستان میں پاﺅں جمالیے تھے۔

اہم سیاسی اور تجارتی کام یابیوں کے بعد کمپنی اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوئی،جسے ثقافتی غلبے کی خواہش کہنا چاہیے۔ اگرچہ کمپنی اپنے تجارتی قلعوں،فوجی چھاﺅنیوں،اپنے سول انتظامی دفتروں، گرجاﺅں، سول لائنوں کے ذریعے بھی اپنے ثقافتی شکوہ کا اظہار کرتی تھی۔

مگر یہ سب اس کی امپیریل ثقافت کا ایک پہلو تھا اور فقط مرعوب کن اظہار تھا؛وہ ثقافتی غلبہ چاہتی تھی اور اس غلبے کی راہ سے اپنے سیاسی اقتدار میں وسعت اور استحکام کی خواہش مند تھی۔تعلیم اس غلبے کا سب سے اہم اور موثر ذریعہ تھی ۔ہندوستان کے برطانوی حکمران تعلیم کاوہی تصوررکھتے تھے۔

جو نشاة ثانیہ کے دوران میں تھا جس میں ”انسانی آدمی“ یعنی اور ”حیوانی آدمی“ یعنی کی تفریق موجود تھی۔ تعلیم حیوانی آدمی کو اس انسانی آدمی میں منقلب کرتی تھی ،جس کا تصور ریاست تشکیل دیتی تھی یا جسے ریاست درجہءاعتبار دیتی تھی۔ اسی غرض سے ریاست نے تعلیم کواپنے ہاتھوں میں لیا۔اٹھارویں صدی کے اواخر میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانیوں کی تعلیم کو اپنا ”فریضہ“ سمجھنا شروع کر دیا تھا۔

کمپنی کی حکومت سے لے کر تاجِ برطانیہ کی براہِ راست حکومت تک ہندوستان میں ہمیں تین قسم کی تعلیمی پالیساں ملتی ہیں:مشرقی علوم کی تدریس کی پالیسی؛انگریزی علوم کی تدریس کی پالیسی اور دیسی زبانوں کے ذریعے تعلیم کی پالیسی۔

کلکتہ مدرسہ(1781ء) اور بنارس کا سنسکرت کالج(1791ء)بالترتیب مسلمانوں اور ہندوﺅ ں کی کلاسیکی زبانوں یعنی عربی اور سنسکرت کی تدریس کے لیے کھولے گئے۔1725ءاور1813ء کے درمیانی عرصہ میں کمپنی کی تعلیمی پالیسی کا خاص مقصدسنسکرت اور عربی زبان میں روایتی علومِ شرقیہ کی ہمت افزائی ہو گیا۔

کمپنی کے اربابِ اختیار یہ بات جان گئے تھے کہ مسلمان اور ہندو اشرافیہ طبقات اپنی قومی شناختیں کلاسیکی زبانوں کے ذریعے کرتے تھے اوریہی ان کی علمی زبانیں تھیں۔ چناں چہ ان زبانوں کی سرپرستی سے دونوں طبقات کے با اثر طبقات کی ہمدردیاں حاصل کرنا ممکن تھا ۔ ہندوستان کے محدود علاقوں پر قابض ایسٹ انڈیا کمپنی نے تعلیمی نظام کا واضح خاکہ تشکیل نہیں دیا تھا۔

مسلمانوں اور ہندوﺅں کی کلاسیکی زبانوں کی تعلیم کا انتظام کرنا،بڑی حدتک اس سیاسی حکمت عملی کا مظہر تھا کہ کمپنی ہندوستان کے اشرافیہ طبقات کے شناخت کے حساس معاملات میں دخل اندازی نہیں کر رہی۔ بلکہ ان کے تحفظ کا ذمہ اپنے سر لے رہی ہے۔1813ء میں جب کمپنی کے چارٹر کی تجدید ہوئی تو اس میں ایک نئی شق کا اضافہ ہوا جس کی رو سے کمپنی کے لیے لازم ہوا کہ وہ ایک لاکھ روپیہ سالانہ ہندوستانیوں کی تعلیم پہ خرچ کیا کرے۔

جس کا واضح مطلب تھا کہ اس نے ”شناخت کے حساس معاملات میں عدم مداخلت“ کی پالیسی پر نظرِ ثانی کی ہے؛

اوردرپردہ مطلب یہ تھا کہ اپنے مقبوضات کے تعلیمی نظام کو کمپنی اپنے ہاتھ میں لے لے۔

اس شق سے جڑایہ لازمی سوال کہ ہندوستان کا تعلیمی نظام کیاہو،چارلس گرانٹ پہلے ہی اٹھا چکا تھا۔چارلس گرانٹ نے 1790ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے ہندوستان کی تعلیمی اور اخلاقی حالت کا نقشہ کچھ ایسا کھینچ کر دکھایا کہ جیسے ہندوستانی جاہل اور وحشی لوگ ہوں۔

اس نے اس کا یہ علاج تجویز کیا کہ برطانوی حکومت ہندوستانیوں کی تعلیم کی ذمہ داری قبول کرے۔نیز انھیں مغربی علوم ،سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ عیسائیت کی تعلیم دے اور اس مقصد کے لیے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے کے ساتھ انگریزی زبان و ادب کو بھی نصاب میں شامل کرے۔ چارلس گرانٹ کے خیالات ،نشاةِ ثانیہ کے یورپی تصوراتِ تعلیم کی سادہ اور کسی قدر خام تفسیر تھے۔

آگے چل کر ہندوستانیوں کی تعلیم کا مسئلہ جب بھی نوآبادیاتی آقاﺅں کے زیرِ غور آیا،اس کی بنیاد میں یہ قضیہ لازماً شامل رہا کہ ”ہندوستانی جاہل اور وحشی ہیں اور ان کو مہذب بنانے کا واحد طریقہ انگریزی تعلیم اور یورپی ثقافت کی ترویج ہے۔

دس برس تک کمپنی نے ہندوستانیوں کی تعلیم کے لیے مختص رقم خرچ نہیں کی۔

چارلس گرانٹ کے موقف میں جوبات ایک خیال کی سطح پر تھی تھا،وہ لارڈ میکالے کی تعلیمی رپورٹ میں ایک زور دار نظریے میں بدل گئی۔ میکالے 1834ء میں حکومت ہند کے نئے رکن قانون کی حیثیت سے مدراس میں وارد ہوا اور اسے مجلس تعلیمات عامہ کا صدر بنایا گیا۔ اس نے 1835ءکی تعلیمی رپورٹ میں یہ قطعیت سے لکھا کہ کمپنی کو اپنا تعلیمی بجٹ صرف اور صرف انگریزی تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے اور کمپنی کو روایتی و مقامی مدارس کی مالی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے۔

میکالے نے دھمکی دی تھی کہ اگر اُس کی تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو وہ مجلس تعلیمات عامہ سے استعفیٰ دے دے گا۔ یہ دھمکی کارگر رہی اور 1835ءسے انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنا دیا گیا۔اس میں کسی شک کی گنجایش نہیں کہ انگریزی نظام تعلیم ایک نئی ہندستانی اشرافیہ پیدا کرنے کی غرض سے رائج کیا گیا۔ جو باہر سے ہندستانی، مگر اندر سے انگریز ہو۔ نئی ہندستانی اشرافیہ کی دو غلی شخصیت نوآبادیاتی ضرورت تھی۔

باہر سے ہندستانی ہونے کی وجہ سے، وہ انگریز حکم رانوں کے یہاں برابری کا رتبہ نہ پا سکے اور اندر سے اینگلو ہونے کے سبب وہ ہندستانیوں میں خود کو اجنبی محسوس کرے۔ نیز اس کی منقسم شخصیت کا داخلی رُخ خود اپنے ہم نسلوں، اپنی روایت اور اپنے ماضی سے منقطع ہی محسوس نہ کرے اُس سے حقارت کا رویہ بھی اختیار کرے۔ اپنے ماضی سے انقطاع کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو بدیسی علوم، اقدار اور طرزِ فکر سے پُر کرے۔

میکالے کے بہنوئی چارلس ٹریویلین نے 1838 ءمیں ہندوستانیوں کی تعلیم سے متعلق ایک کتاب تصنیف کی ۔سیاسی طور پرانگریزوں کے غلام ہندوستان پر یورپی ثقافتی غلبے کی کوششوں کو سمجھنے کے لیے ٹریولین کی کتاب بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ ٹریولین کا خیال ہے کہ غلام ہندوستان کے پاس آزادی حاصل کرنے کے دو راستے ہیں: انقلاب اور اصلاح۔ انقلاب کے ذریعے فقط ایک ماہ میں ”مرہٹہ یا اسلامی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔

(یاد رہے ابھی 1857ءکی جنگ ِآزادی میں انیس برس باقی تھے)

اور اصلاح کے ذریعے ہند وستان کو آزادی حاصل کرنے کے لیے ایک صدی درکار ہوگی۔یہ پیش گوئی حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی۔ ٹریولین یہ رائے طاہر کرتا ہے کہ اگر ہندوستانیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا تو وہ اپنے ماضی کی طرف پلٹ جائیں گے،یعنی اپنے کلاسیکی علوم کی طرف متوجہ رہیں گے۔ اور اپنے احیا کی متشددانہ کوششیں کریں گے اور اس راہ میں حائل ہونے والے یورپی ثقافتی اثرات کو ملیا میٹ کر دیں گے۔

لہٰذا ٹریولین نے انگریزی زبان و ادب کی تدریس کی پر زور حمایت کی۔ ” ہندوستانی نوجوان ہم سے ہمارے ادب کے ذریعے مانوس ہونے کے بعد ہمیں غیر ملکی سمجھنا ترک کر دیتے ہیں۔ وہ ہماری ہی طرح ہمارے عظیم لوگوں کا ذکر کرتے ہیں ۔وہ یکساں طریقے سے تعلیم حاصل کرنے ،یکساں باتوں میں دل چسپی لینے ،یکساں مشاغل میں ہمارے ساتھ مصروف ہونے کے بعد ہندوﺅں[ہندوستانیوں] سے زیادہ انگریز بن جاتے ہیں۔

اگرچہ انگریزی تعلیم کی حمایت،مشرقی علوم کی تعلیم کی مخالفت کے مترادف تھی اور میکالے کو اپنی تعلیمی رپورٹ منظور کرانے میں مشرقی علوم کی تدریس کے ہم وطن حامیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ مگر دونوں انگریزی سیاسی استحکام اور ثقافتی تغلب کے نکتے پر متفق تھے،بس طریقِ کار کا فرق تھا۔ایک اور بات بھی دونوں میں مشترک تھی۔

دونوں ہندوستان کے اشرافیہ طبقے کی تعلیم کے حامی تھے۔شرق شناس موجود اشرافیہ طبقے کی ہمدردی کے خواہاں تھے اور انگریزی پسند ایک نیا اشرافیہ طبقہ (کالے انگریز) تخلیق کرنا چاہتے تھے۔ اس تعلیمی پالیسی میں ایک نیا موڑ 1854 ءمیں چارلس ووڈ کے مشہور تعلیمی مراسلے کی مدد سے آیا۔

اس مراسلے کی اہم سفارشات میں ایک تو ہر صوبے میںمحکمہ تعلیم کا قیام شامل تھا؛ دوسرا اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ اب تک اعلیٰ طبقے کی تعلیم پر توجہ دی گئی ہے۔ آیندہ عام لوگوں کی تعلیم پر توجہ دی جائے؛تیسرا انگلستان کی طرز پر ہندوستان میں بھی اساتذہ کے تربیتی ادارے قائم کیے جائیں۔

عام لوگوں کی تعلیم پر زور دینے کا مطلب دیسی زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کی طرف پیش قدمی تھا۔یہ پیش قدمی ،کلاسیکی زبانوں کومزید پس منظر میں دھکیلتی تھی مگر انگریزی کے اجارے کو گزند پہنچانے کا شائبہ تک نہیں رکھتی تھی۔ لہٰذا انگریزی تعلیم برابر جاری رہی۔ 1882ءمیں سر ولیم ہنٹر کی سربراہی میں قائم ہونے والے انڈین ایجوکیشن کمیشن نے دیسی زبانوں کو پرائمری اور ثانوی جماعتوں میںذریعہ تعلیم بنانے کی سفارش برقرار رکھی۔

لہٰذا دیسی زبانوںمیں نصابات کی تیاری1854ءکے تعلیمی مراسلے کے بعدشروع ہوئی۔یہ الگ بات ہے کہ یہ سارا عمل بے حد سست رفتاری سے ہوا۔ برطانوی ہندوستان کا نظامِ تعلیم اشرافیہ کی سطح پر انگریزی اورعوام کی سطح پر ورنیکلراور انگریزی سے بہ یک وقت عبارت تھا۔انگریزی تعلیم کی کیا جہت تھی؟ اس کا جواب ہمیں ایشیاٹک ریویو“میں شامل پنڈت شیام شنکر کے ایک مقالے سے مل جاتا ہے۔ پنڈت شیام نے 1857ءکے یونیورسٹی ایکٹ میں درج یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
یونیورسٹی کے قیام کا مقصد تعلیم نہیں۔

بلکہ جاننا یا فن تھاہندوستانی جامعات بنیادی طور پر تعلیم دینے کے لیے نہیں،جیسا کہ ہم عموماً اس اصطلاح کا مطلب لیتے ہیں،یعنی جسمانی،ذہنی اور اخلاقی صلاحیتوں کی متناسب نشوونما۔ اسی رسالے جس کا ابتدا میں نام دی امپیریل انیڈ ایشیاٹک کوارٹرلی ریویو تھا، کے چند سال پہلے کے شمارے میں جے کنیڈی کا مضمون” انڈین ایجوکیشن پالیسی “ شایع ہواتھا۔

کنیڈی ا انگریزی اور ورنیکلر تعلیم کے اہداف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” اگرچہ [انگریزی] تعلیم یافتہ مقامی لوگوں کے لیے لنگوا فرینکا ہے،مگر اس کا مطالعہ مقصودِ بالذات نہیں۔ بلکہ یہ اس لیے سیکھی جاتی ہے کہ یہ سرکاری ملازمت کی بنیادی اہلیت ہےورنیکلر تعلیم بھی سرکاری ملازمت کے نچلے عہدوں کے لیے درکار ہے۔ اگرچہ انگریزی اور ورنیکلر تعلیم میں وہی طبقاتی امتیاز قائم کیا گیا جو انگریز اور ایک عام ہندوستانی میں موجود تھا،مگردونوں کا مقصود ایک ہی تھا۔

سرکاری کارندے پیدا کرنا۔تعلیم کو انسان کی بہترین ذہنی صلاحیتوں کی دریافت و نمو اورفطری روحانی صلاحیتوںکی ترقی سے الگ کر کے چند ٹکوں کی سرکاری نوکری کا وسیلہ بنانے میں استعمار کو کئی مقاصد حاصل ہوتے تھے۔ سب سے بڑا مقصد یہ حاصل ہوتا تھا کہ سرکاری ملازمت ہندوستانیوں کو استعماری نظام کی کل کا پرزہ بنا دیتی تھی اوروہ اس کے خلاف احتجاج و مزاحمت کا حق کھو دیتے تھے۔

استعماری کل کا پرزہ بننے کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ تعلیم یافتہ ہندوستانی یورپی تہذیب اور اس کے مظاہر کی مدحت کے جذبات اپنے دل میں پیدا کریں۔ یہ سب مخصوص طرز کے نصابات کے ذریعے ممکن تھا۔لہٰذا نصابات کی تیاری میں اس مقصد کو پیشِ نظر رکھا گیا۔ عظیم فکری اور تہذیبی تبدیلیاں دیسی زبانوں کی ترقی کی مرہون ہوتی ہیں۔جدید یورپ کے تہذیبی انقلاب کو ممکن بنانے میں وہاں کی ورنیکلر زبانوںکا سب سے اہم حصہ ہے۔

کلاسیکی لاطینی اوریونانی کی جگہ جب انگریزی،جرمن،فرانسیسی،اطالوی،ہسپانوی وغیرہ نے لی اور ان میںکلاسیکی پائے کے ادبیات کی تخلیق ہوئی اور انھیں جدید علوم کی زبانیں بنایا گیا۔ لہٰذا نو آبادیاتی برصغیر میں بھی اس بات کا امکان تھا کہ دیسی زبانوںکی سرپرستی سے ’ایک عظیم فکری و تہذیبی انقلاب‘برپا ہو،مگر ایسا نہیں ہوا۔

یورپ کو ایک آفاقی مثال کے طور پر پیش کرنے کے باوجود برصغیر میں یورپ کی تاریخ نے یہاں خود کو نہیں دہرایا۔ اکثر مستشرقین اردو کے لیے انگریزی کو اس درجے کا حامل سمجھتے تھے جو لاطینی و یونانی کا انگریزی کے لیے تھا اور یہ رائے ظاہر کرتے تھے کہ جس طرح لاطینی و یونانی نے ورنیکلر انگریزی کو ثروت مند کیا ،اسی طرح انگریزی ،اردو کو بیش بہا فائدہ پہنچائے گی۔

اسی خیال سے اردو کے نصابات میں ’انگریزی روح ‘بھرنے کی کوشش کی گئی۔نو آبادیاتی عہد کے اردو نصابات کی ’روح ِ رواں‘ انگریزی فکر ہے، انگریزی ادب کی شعریات بس کہیں کہیں،ادھورے انداز میں جلوہ دکھاتی ہے۔ چوں کہ نصابات کی ترتیب کا بنیادی محرک ’سرکار کی کل کے پرزے‘ تیار کرنا ہے،لہٰذاوہ فکری و تہذیبی انقلاب ممکن نہیں تھا،جو انسان کے طبعی،ذہنی اور اخلاقی قوا کی متناسب نشوونما کا رہینِ منت ہے۔


nasir abbas nayyar

ناصر عباس نیئر نقاد اور مابعد نوآبادیات پر اپنا ایک نظریہ رکھتے ہیں وہ اورئینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں اور اُردو سائنس بورڈ میں بطور ڈائریکٹر جنرل بھی تعینات ہیں۔

  1. تجزیہ شاندار ہے۔ لیکن تشنہۤ طلب ھے-مودبآنہ گذارش ھے کہ انگریز کے ہندستان آنے سے قبل خواص اور عوام کی تعلیم کے لیےۤ کیا طریقہ کار رایۤج تھا اور کون سے تعلیمی ادارے تھے؟
    جناب ای میل درج کر رہاں ہوں مگر گزارش ھے کہ جواب اگر فیس پک پر بھیجیں تو عین نوازش ہوگی-
    اعین نوازش
    امین بیگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *