برہمنوں کے دیس میں”شودر” اساتذہ کا احتجاج

    October 9, 2020 9:33 pm PST
taleemizavia single page

محمد عاصم حفیظ

پنجاب بھر کے کالج اساتذہ لاہور میں سراپا احتجاج ہوئے، مسجد شہداء سے اسمبلی ہال گئے اور وہاں اپنے آقاؤں کے سامنے بیٹھے رہے ۔ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ۔ کیا حیثیت ہے ان بیچاروں کی۔

وزیر مشیر ارکان اسمبلی اور بڑے بڑے افسربڑے سیانے ہوتے ہیں ان کو پتہ ہے دور دراز سے آئے یہ پردیسی کتنے دن بیٹھے رہیں گے ۔ جب ہمت جواب دے جائے گی تو چلیں جائیں گے ۔ صوبائی دارالحکومت میں بڑے سیاستدان ، حکومتی عہدیدار اور بڑے بڑے افسران کو اس احتجاج کا تو شائد پتہ بھی نہ چلا ہو کیونکہ وہ تو اپنے ہی انداز میں ” ملکی خدمت” میں مصروف ہیں ۔

جی یہ احتجاج عکاسی کرتا ہے ہماری معاشرتی بے حسی کی ۔ جنہیں قوموں کی تربیت کرنی ہوتی ہے اور جن کی شبانہ روز محنت سے ہی بہت سے بڑے بڑے آفیسر اپنی کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ انہیں یہی مقام دیتا ہے ۔

مطالبات کی منظوری تو دور کی بات کوئی سننا تک بھی گوارا نہیں کرتا ۔ یہ سوداگروں کا دیس ہے جی جہاں دولت ا،اختیارات اور عہدوں کی پوجا ہوتی ہے ۔ یہاں استاد کی کیا حیثیت ۔ بس گزارہ الاؤنس دیکر انہیں کام پر لگائے رکھو۔ مطالبات کیا ہیں ۔ صرف اتنا کہ باقی محکموں کی طرح انہیں بھی ” ملازم” سمجھ لیا جائے ۔ جو حق ہر دوسرا محکمہ لے چکا ۔

عدالت حکم دے چکی اور وزیر صاحب نے باقاعدہ وعدے کئے ۔ وہ حق دے دیا جائے یعنی پے پروٹیکشن اور سروس پروٹیکشن ۔ افسر شاہی نے ٹیکنیکل مار کے ذریعے ان بیچاروں کو لاکھوں کا نقصان پہنچا رکھا ہے۔ حق نہیں دیا جا رہا ۔ سڑکوں پر رسوا کیا جا رہا ہے ۔ 

سینکڑوں ایسے  ہیں جو کئی کئی سال کنٹرکٹ پر بھرتی رہے  جب ریگولر ہوئے تو پچھلے سالوں کو سروس سے ہی نکال دیا گیا اور تمام مراعات سے بھی محروم کر دئیے گئے ۔ جی ہاں یہ سب کرم فرمائیاں صرف کالج اساتذہ کرام پر ہی کی جاتیں ہیں۔ دیگر محکمے لمبے عرصے تک احتجاج کرکے اپنے مطالبات منظور کرا چکے ۔

اس “بڑے مطالبے” کے ساتھ ساتھ چند اور بھی ” معصوم” خواہشیں ہیں جو شائد ہی کبھی پوری ہوں کیونکہ وزراء ارکان اسمبلی اور افسر شاہی انہیں قومی خزانے پر بوجھ سمجھتی ہے ۔بڑے شہروں میں پانچ ہزار کے قریب اور چھوٹے شہروں میں تین ہزار گھر کے کرائے کی مد میں ملتا ہے ۔ بڑے بابو کہتے ہیں کہ اسی میں گھر ڈھونڈ لو کیونکہ سرکاری رہائش گاہوں کے تم لائق نہیں ہو۔

کئی برس پہلے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ایک گریڈ کی ترقی ملے گی لیکن یونیورسٹی کیڈر کو تو مل گئی لیکن کالج والے محروم رہےجبکہ سکولز والوں کے نصیب اچھے تھے کہ ان کا احتجاج رنگ لایا اور یہ حق مل گیا۔


انہیں کوئی الاؤنس نہیں ملتا ۔ ہاؤسنگ سکیم ۔ میڈیکل سمیت کچھ بھی دستیاب نہیں ۔ یوٹیلیٹی الاؤنس ان کےلئے حرام قرار دے دیا گیا ہے ۔ سیکرٹریٹ ۔ پولیس اور دیگر محکمے اپنے الاؤنس منظور کرا چکے ۔ واحد انہیں محروم رکھ گیا ہے۔

یہ بیچارے اتنے سیدھے ہیں کہ احتجاج کا طریقہ ہی نہیں آتا ۔ کالجز میں سیشن شروع نہیں ہوا ۔ ابھی کلاسز نہیں آئیں تو تعلیمی نقصان سے بچنے کےلئے ابھی احتجاج کرنے آئے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات کا نقصان نہ ہو۔ توڑ پھوڑ بھی نہیں کر رہے ۔ میڈیا کو خوش کرنے اور کوریج حاصل کرنے کے لئے فنڈز بھی موجود نہیں ۔ جذباتی نعرے اور مشتعل ٹکراؤ کر نہیں سکتے کیونکہ زندگی میں کبھی ایسا کیا ہی نہیں ۔

ویسے اسمبلی ہال کے سامنے سے گزرتے مسافر جن میں سے بہت سے ان کے طالب علم بھی رہ چکے ہوں گے انہیں ضرور ان کی حالت پر ترس آتا ہوں گا۔کیا اہل اقتدار اور اختیارات کے مالک سیاستدان ۔ وزیر مشیر اور سرکاری بابو یہ چاہتے ہیں اساتذہ کرام مسلسل محرومیوں سے تنگ آکر ڈاکٹرز ، وکلاء ، ایپکا اور دیگر محکوموں کی طرح مشتعل احتجاج کریں ، ملکی املاک کو نقصان پہنچائیں ، لاٹھی چارج ، کچھ زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ جائیں ، تعلیمی سیشن کے دوران اگر احتجاج ہو تو ہزاروں طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ جائے ۔ پھر جا کر کسی کے کان پر جوں رینگے گی اور ان کی بات کوئی سنے گا۔

کیا اس سب کچھ کے بغیر ان کی بات نہیں سنی جا سکتی ۔ کیا واقعی ہمارا معاشرہ  اس قدر بے حس ہو چکا ہے کہ جہاں روحانی ” ماں باپ ” کی کوئی نہیں سنتا ۔ انہیں اپنے جائز مطالبات کے لئے وہی طریقہ استعمال کرنا پڑے گا کہ جو ہر کوئی دوسرا استعمال کرتا ہے ۔ کاش ایسا نہ ہو ۔۔ کوئی صاحب بصیرت ان بے سہارا محروم ” ماں باپ” کی سن لے۔


اگر آپ استاد کو محروم رکھیں گے تو کیسے ایک قابل اعتماد معاشرہ بنا سکتے ہیں ۔ اگر انہیں غلام کی حیثیت دی جائے گی تو جو قوم تیار ہو گی وہ بھی غلام ہی بنے گی ۔ سیاستدانوں کے غلام ، سرکاری بابوں کے غلام ۔۔ سب کے غلام۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *