کیا بیوروکریسی کا زوال شروع ہے؟

    March 19, 2017 4:19 pm PST
taleemizavia single page

قیصر کھوکھر

آج کل سول سروس کے زوال کی خبریں عام ہیں کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور ترقی کے لئے بھیجے گئے چار سو افسران میں سے 92 افسران کی ترقی روک لی ہے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ ان کی ترقی کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا جائے حتی کہ ڈی آئی جی بننے والے پانچ افسران کی تنزلی کر دی گئی ہے جس میں ڈی آئی جی آغا محمد یوسف، ڈی آئی جی محمد ادریس احمد اور ڈی آئی جی وسیم سیال شامل ہیں۔

دانشور حلقے سول سروس پر مختلف انداز میں تبصرے بھی کررہے ہیں کہ ملک میں کچھ ایسے ادارے ہوتے ہیں جن کی سفارشات کو ہر صورت مانا جاتا ہے جیسا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن ، صوبائی پبلک سروس کمیشن، صوبائی اور سنٹرل سلیکشن بورڈ ہیں۔ان اداروں کی سفارشات کو مستند سمجھا جاتا ہے ۔

سنٹرل سلیکشن بورڈ جس کی صدارت چیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرتے ہیں اس بورڈ نے چار سو افسران کوگریڈبیس اوراکیس میں ترقی کے لئے سفارش کی لیکن وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے ان سفارشات کو تبدیل کر دیا اور ایک بڑی تعداد میں افسران کی ترقی روک لی ہے حالانکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر سی ایس ایس کر کے یہ افسر شاہی بھرتی ہوتی ہے اور ان سفارشات کی بنیاد پر ہی ان افسران کو گروپ اور سنیارٹی آلاٹ ہوتی ہے۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں سی ایس ایس کے امتحان کے وقت تین یا چار ممبران انٹرویو کرتے ہیں لیکن سنٹرل سلیکشن بورڈ میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ کئی گریڈ 22 کے وفاقی سیکرٹری بیٹھتے ہیں لیکن اس کے باوجود جب ان افسران کو بورڈ سے کلیئر کر دیا مگر پھر بھی وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں بورڈ کے اوپر ایک اور بورڈ بٹھا دیا گیا اوراس طرح ان افسران کی سکریننگ دو بارہ کی گئی ۔

ایک چوتھائی افسران کو اس طرح مسترد کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ میں کہیں نہ کہیں کوئی خامی موجود ہے اور وزیر اعظم کو وہ خامی بھی دور کرنی چاہیے اور بورڈ کی کمپوزیشن بھی تبدیل کر دینی چاہیے۔سنٹرل سلیکشن بورڈ میں کئی افسران ترقی کے معاملے میں پسند اور نا پسند کا شکار ہوئے ہیں اور ان پر مختلف نوعیت کے بے جا الزامات لگا کر انہیں ترقی سے محروم کر دیا گیا ہے۔

آئی جی گلگت بلتستان کیپٹن (ر) ظفر اقبال کو اس پسند اور نا پسند کا خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا راتوں رات وفاقی اور پنجاب حکومت نے افسران کی پروموشن کے نوٹیفیکیشن جاری کئے اور اتوار کے دن دفتر کھلوا کر ان افسران کو چارج لینے کا حکم دیا گیا کہ کہیں کل دفتری اوقات میں کوئی افسر وزیر اعظم کی اس منظوری کے خلاف عدالت میں نہ چلا جائے۔ یہ کلرک اور پٹواریوں کے معاملے میں تو سنا تھا لیکن اب ملک کی اس ٹاپ کلاس افسر شاہی بھی اسی قسم کے حالات کا سامنا کر رہی ہے۔

سنٹرل سلیکشن بورڈ ملک کا پروموشن دینے والا سب سے بڑا ادارہ ہے جس کا اپنا ایک نام ، مقام اور عزت ہے جو اب رسوا ہو کر رہ گیا ہے ۔ اگر اتنے بڑے پیمانے پر افسران کو بورڈ کی سفارشات کے باوجود ڈیفر کرنا مقصود تھا تو وزیر اعظم ساری کارروائی ہی ختم کر دیتے اور دوبارہ بورڈ کرانے کا حکم دے دیتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے اس فیصلے سے سول سروس کو نقصان ہوا اور یہ سروس اب پٹواری اور کلرک بن کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعظم کو اب اس بورڈ کی ریگولیشن کو تبدیل کر دینا چاہیے تاکہ افسر شاہی اور عوام کو بھی اس پر اعتماد ہو سکے مسترد ہونے والے افسران اب سوال کر رہے ہیں کہ اس بورڈ کی کیا اہمیت ہے کہ اگر وزیر اعظم نے ان کی سفارشات کو ہی منظور نہیں کرنا لیکن اس بورڈ یا کسی بھی آزاد ممبران نے ابھی تک استعفی نہیں دیا کہ وہ استعفی دیتے ہیں کہ وزیر اعظم نے ان کی سفارشات کو اہمیت نہیں دی ۔

اب افسر شاہی میں اگلے گریڈ میں ترقی کے لئے لابنگ اور گروپ ضروری بن گیا ہے یا حساس اداروں میں ایک خاص تعلق ورنہ اگلے گریڈ میں ترقی مشکل ہے۔

آج کل ملک کی ٹاپ کی افسر شاہی آپس میں دست و گریباں ہے اور یہ پٹواریوں اور کلرکوں کی طرح عدالتوں کا رخ کر رہے ہیں اور دفاتر میں سارا دن عوام کی خدمت کرنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ محاذآرائی میں مصروف رہتے ہیں۔ کون آگے نکل گیا اور کون پیچھے رہ گیا۔ افسر شاہی دو حصوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔ وزیر اعظم ہاوس ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی کرپٹ افسر کو ترقی کیونکر دی جا سکتی ہے ان متاثرہ افسران میں سے کئی ایک عدالت میں چلے گئے جنہیں سال دو ہزار پندرہ میں ہونے والے بورڈ کی سفارشات کو پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ بعد ازاں سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا اور دوبارہ بورڈ کرنے کا حکم جاری کیا حتی کہ عدالت نے وزیر اعظم کی زیر صدارت ہائی پاور سلیکشن بورڈ جس سے افسران کو گریڈ 22میں ترقی دی تھی اسے بھی ختم کر دیا اور دوبارہ کرانے کا حکم دیا ہے۔

اس ہائی پاور بورڈ نے رعنا احمد، ہارون محمد خان کریم کو ترقی سے محروم کر کے راشد محمود لنگڑیال کے بھائی چوہدری صفدر حسین کو گریڈ 22 میں ترقی دے دی ۔ اس سارے کھیل میں نقصان اداروں کا ہو رہا ہے اور سول سروس تباہ ہو کر رہ گئی ہے سول سروس ڈی ایم جی نون اور ڈی ایم جی اینٹی نون میں تقسیم ہو کر رہ گئی ہے۔

حساس اداروں کی رپورٹ پر افسران کو ترقی دی جاتی ہے اور ان کی ترقی روکی جاتی ہے تو پھر اے سی آر کا کیا کردار رہ جاتا ہے، یہ ترقی سے محروم رہ جانے والے افسران آج عدالتوں کے دروازے کھٹکٹا رہے ہیں اور چیخ چیخ کر سوال کر رہے ہیں کہ اگر حساس اداروں کی رپورٹ کے پانچ نمبر پر ہی انہیں ترقی دی جانی ہے تو رپورٹنگ افسر کی کیا سپرویژن رہ جاتی ہے۔

رعنا احمد اور روبینہ فیصل ، سجاد احمد بھٹہ، فضیل اصغر جیسے آوٹ سٹینڈنگ افسر کو ترقی سے محروم کر دینا اداروں کے ساتھ زیادتی ہے۔ یہ افسر شاہی عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اور اس طرح یہ عوام کے نوکر ہیں لیکن ہر آنے والی حکمران جماعت انہیں اپنا نوکر بنانے پر تلی ہوئی ہے اور اس طرح اس سول سروس کو گھر کی لونڈی بنایا جا رہا ہے جس سے گھریلو خواتین نے گھر میں کام کاج کے لئے ”ماسی“ رکھی ہوتی ہے۔

اور اس سے اپنی مرضی کا کام لیا جاتا ہے جو افسر ماسی بننے پر تیار نہیں ہوتے ہیں انہیں ترقی سے محروم کر دیا جاتا ہے اور ان کی حساس اداروں سے من پسند رپورٹ لے کر انہیں ترقی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ فیصلہ ہو جانا چاہیے کہ سول سروس عوام کی نوکر ہے یا حکمرانوں کی۔ مسلم لیگ نون جب مشکل میں ہوتی ہے تو اسی افسر شاہی کو استعمال کرتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی ایسا ہو چکا ہے لیکن وہ مسلم لیگ نون سے کچھ پیچھے ہیں۔

ماضی میں مسلم لیگ نے پولیس اور انتظامیہ میں افسران بھرتی کئے جو آج اہم عہدوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اسلام آباد کا پاک سیکرٹریٹ ہو یا لاہور کا سول سیکرٹریٹ آج کل یہی موضوع بنا ہوا ہے کہ کون کون ترقی پا گیا اور کون کون ترقی سے محروم رہ گیا ہے۔ اس وقت چار سول سروس کے اہم بیوروکریٹ جن کا بڑا نام ہے اور سول سروس میں ان کی بڑی خدمات بھی ہیں ان کی شہرت اور نام پر حرف آ رہا ہے۔

ایوان وزیر اعظم پر بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سسٹم کو بہتر کرنے کے لئے ایک جامع پالیسی دے اور ایوان وزیر اعظم میں بیٹھے افسران فواد حسن فواد، ڈاکٹر اعجاز منیر ، نبیل احمد اعوان پر لگنے والے الزامات پر اپنی پوزیشن واضح کریں ۔ یہ سول سروس قوم کی ہے نہ کہ کسی فرد واحد کی ہونی چاہیے اور اس سروس کو کسی بھی صورت حکمرانوں کی ماسی نہیں بننا چاہیے۔


qaisar khokhar

قیصر کھوکھر پندرہ سال سے سول سروس، بیوروکریسی کے ایشوز پر رپورٹنگ کر رہے ہیں وہ بیوروکریسی کے مسائل پر اپنا نقطء نظر رکھتے ہیں اور اُن کی رائے اتھارٹی کا درجہ رکھتی ہے۔ وہ چینل 24 میں ایڈیٹر بیوروکریسی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *