طلباء کیلئے پاکستان نیوی میں کیرئیر

  • June 24, 2018 7:09 pm PST
taleemizavia single page

لیاقت علی جتوئی

مرچنٹ نیوی ایک مشکل تاہم مہم جوئی سے بھرپور کیریئر ہے۔ اس شعبے سے وابستہ پروفیشنلز کو کئی کئی دنوں تک سمندر میں رہنا پڑتا ہے، تاہم اس دوران کئی ممالک کی سیر کے بے تحاشہ مواقع بھی ہاتھ آتے ہیں۔

پاکستان میں جہاز رانی کی تعلیم و تربیت کا ایک ادارہ ہے جو کراچی میں واقع ہے، یہ معروف ادارہ ”پاکستان میرین اکیڈمی“ کے نام سے جانا جاتاہے۔ پاکستان میں میرین اکیڈمی میں داخلے ہر سال اگست/ستمبر کے مہینے میں ہوتے ہیں او ر اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جاتی ہیں۔

میرین اکیڈمی میں داخلے کے لیے بنیادی تعلیمی اہلیت بارہویں جماعت میں پری انجینئرنگ (یامساوی امتحان) میں کم سے کم سیکنڈ ڈویژن میں کامیابی ہے۔

امیدوار کا پاکستانی شہری ہونا لازمی ہے، داخلے کے وقت عمر20سال سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ ابتدائی مرحلے میں منتخب امیدواروں کا طبی معائنہ ہوتا ہے۔ امیدواروں کا آخری انتخاب صرف اہلیت (میرٹ) کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

اکیڈمی میں داخلے کے لیے امیدوار کی ذہنی و جسمانی موزونیت کو خاصی اہمیت دی جاتی ہے۔

ذہنی و جسمانی موزونیت کا معیار

کم سے کم وزن 110 پونڈ (امیدوار کا وزن کم ہونے کے باوجود اگر ڈاکٹر اس کی جسمانی موزونیت سے مطمئن ہوں تو رعایت ہوسکتی ہے) کم سے کم قد 5 فٹ 4 انچ۔ سینے کی چوڑائی 30 انچ(عام حالت میں) پھیلاؤ 2انچ۔ اچھی سماعت، کان کی کوئی بیماری نہ ہو، پیٹ کا کوئی مرض لاحق نہ ہو، رواں گفتگو، دانت صحت مند ہوں۔ اگر کسی دانت پر کیڑا لگا ہو تو اس کی صفائی اور باقاعدہ بھرائی ہونی چاہیے۔

نصاب کی تفصیلات

میرین اکیڈمی میں امیدواروں کو دو سال کی تربیت دی جاتی ہے۔ دو سال کا یہ عرصہ چار میقات (سیمسٹرز) میں تقسیم ہوتا ہے۔ ہر سال جون اور جولائی کے مہینوں میں دوماہ کی اور دسمبر/ جنوری میں 15دن کی تعطیلات ہوتی ہے۔ تربیت کامیابی سے مکمل کرنے والے امیدواروں کو جامعہ کراچی کی جانب سے بی ایس سی(میری ٹائم اسٹڈیز) کی سند عطا ہوتی ہے۔

اکیڈمی میں دو شعبوں میں تربیت کی سہولت موجود ہے؛ ایک ناٹیکل اور دوسرا انجینئرنگ۔ ناٹیکل کے شعبے کاجہاز رانی سے براہِ راست تعلق ہے، جب کہ انجینئرنگ کے شعبے میں جہازوں کے انجن، مشینوں اور آلات سے متعلق تربیت دی جاتی ہے۔

ڈیک کیڈٹس کا نصاب دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک علمی دوسرا فنی۔ علمی موضوعات یہ ہیں: طبعیات، ریاضی، انگریزی، مطالعہء اسلام/اخلاقیات، مطالعہء پاکستان اور عمرانی و معاشرتی علوم۔

فنی مضامین میں درج ذیل موضوعات شامل ہیں :جہاز رانی (نیوی گیشن) ، بحری عمل (میرین آپریشن)، بحری نقل وحمل، موسمیات، انجینئرنگ علوم برائے جہاز رانی، اشارات (سگنلنگ) فوری طبی امداد۔

انجینئرنگ کے شعبے کے امیدواروں کو علمی مضامین کے علاوہ میرین انجینئرنگ کے مضامین میں تعلیم دی جاتی ہے۔

کیریئر کے مواقع

پاکستان میرین اکیڈمی سے دو سال کی تربیت مکمل کرنے کے بعد نوجوانوں کو بحری جہازپر یا انجینئرنگ ورک شاپ میں عملی تربیت مکمل کرنی ہوتی ہے۔

ناٹیکل (ڈیک) برانچ

ناٹیکل (ڈیک) کے سند یافتہ نوجوانوں کو بہ طور ڈیک کیڈٹ جہاز پر تربیت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور اس حیثیت سے انھیں 33 ماہ کی تربیت مکمل کرنی ہوتی ہے (جو کیڈٹ پاکستان میرین اکیڈمی کے سند یافتہ نہیں ہوتے، ان کی تربیت کا عرصہ 42ماہ ہے)۔ تربیت کے آخری چھ مہینوں میں ضروری ہے کہ وہ کسی سند یافتہ افسر کی نگرانی میں واچ کیپنگ (دیدبان کی نگرانی) کے فرائض انجام دیں۔

یہ تربیت مکمل کرنے کے بعد ڈیک کیڈٹ چوتھے درجے کی اہلیت کا امتحان (سرٹیفکیٹ آف کمپی ٹینسی کلاس فور) میں شرکت کے مجاز ہوجاتے ہیں۔ اس امتحان میں کامیابی کے بعد انھیں تھرڈ آفیسر کے عہدے پر ترقی ملتی ہے اور چھ ماہ کے تجربے کے بعد وہ تیسرے درجے کی اہلیت کے امتحان میں شرکت کرسکتے ہیں۔

یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد انھیں سیکنڈ آفیسر کے عہدے پر ترقی مل جاتی ہے۔ سیکنڈ آفیسر کی حیثیت سے18 ماہ واچ کیپنگ کے تجربے کے بعد امیدوار دوسرے درجے کی اہلیت کے امتحان میں شرکت کا مجازہوجاتا ہے اور یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد چیف آفیسر کے عہدے پر ترقی پاکر خدمات انجام دے سکتا ہے۔

مزید 18 ماہ کی واچ کیپنگ اور تیسرے درجے کی اہلیت کے امتحان کے بعد مجموعی طور پر 42ماہ کی واچ کیپنگ کے تجربے کے بعد امیدوار اوّل درجے کی اہلیت کا امتحان دے سکتا ہے ، یہ امتحان جہاز کے کپتان کے عہدے کا ہوتا ہے، جس کی کامیابی کے بعد بہ طور کپتان تقرر ہوسکتا ہے۔

انجینئرنگ برانچ

میرین اکیڈمی سے انجینئرنگ کے شعبے میں دو سال کی تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کو میرین انجینئر اپرنٹس کی حیثیت سے کسی تسلیم شدہ بحری انجینئرنگ ورک شاپ میں تین سال کی عملی تربیت مکمل کرنی ہوتی ہے۔ (اکیڈمی کے غیر سندیافتہ نوجوانوں کے لیے تربیت کا عرصہ چار سال ہے)یہ تربیت مکمل کرنے کے بعد امیدوار دوسرے درجے کی اہلیت کے امتحان حصہ اوّل (سرٹیفکیٹ آف کمپی ٹینسی، کلاس ٹو پارٹ اے) کے امتحان میں شرکت کا مجاز ہوجاتا ہے۔ یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد جہاز پر بہ طور ففتھ انجینئر یا جونیئر انجینئر تقرر ہوتا ہے۔

مقررہ عرصے کے تجربے اور اہلیت کے بعد امیدوار بالترتیب چوتھے اور تیسرے درجے کی اہلیت کا امتحان دے سکتا ہے۔

غیر ملکی سفر کرنے والے جہاز کے انجن روم میں واچ کیپنگ کے 18 ماہ سے 21 ماہ کے تجربے کے بعد امیدوار دوسرے درجے کی اہلیت کے حصہ ”ب“ امتحان میں شرکت کا مجاز ہوتا ہے۔ یہ سند حاصل کرنے کے بعد اس کا تقرر سیکنڈ انجینئرکی حیثیت سے ہوسکتا ہے۔

انجن روم میں واچ کیپنگ کے 18 تا 21 ماہ کے مزید تجربے کے بعد امیدوار درجہ اوّل کے امتحان میں شرکت کرسکتا ہے اور یہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد اس کا تقرر بہ طور چیف انجینئرہوسکتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.