بیوروکریسی کا نوآبادیاتی کلچر

    October 7, 2018 6:43 pm PST
taleemizavia single page

ندیم اکرم جسپال

عمران خان تبدیلی کے نعرے کے ساتھ حکومت میں آئے ہیں اور وہ ”تبدیلی“ کو لے کر بظاہر سنجیدہ نظر بھی آرہے ہیں۔ وہ طرزِ حکمرانی میں تبدیلی کے خواہاں ہیں، نئی سیاسی روایات ڈال رہے ہیں، اور ماضی کے حکمران طبقے کی ترجیحات کے مقابلے میں ان کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔

وزیرِاعظم اپنی ساری توانائی طرزِ حکمرانی کی بہتری کےلیے لگا رہے ہیں؛ اور اس کی بہتری، بیوروکریسی میں اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں۔ اصلاحات کےلیے ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیشن قائم ہوچکا ہے اور عمران خان افسران کو اعتماد میں لینے کےلیے 14 ستمبر کو خطاب بھی کر چکے ہیں۔

قائدِاعظم محمدعلی جناحؒ نے 25 مارچ 1948 کو سرکاری ملازمین سے خطاب کیا، آپ نے فرمایا ”لوگوں کو یہ محسوس کرائیے کہ آپ ان کے خادم اور ملازم ہیں۔ عزت، تکریم، انصاف اور غیر جانبداری کا اعلی معیار قائم کیجیے۔“ عمران خان کے الفاظ مختلف مگر پیغام وہی تھا، وہ چاہتے ہیں کہ افسران نوآبادیاتی طرزِ حکومت ترک کریں؛ اور پیشہ ورانہ و باوقارطریقے سے ملک و قوم کی خدمت انجام دیں۔

وزیرِاعظم یہ ادراک رکھتے ہیں کہ گوروں کی باقیات میں سب سے خطرناک چیز ہماری افسر شاہی کی سوچ اور رویہ ہے۔ آج 70 سال گزرنے کے باوجود ہمارے افسران کی اکثریت سیاستدانوں کو ”لاٹ صاحب‘‘ اور عوام و سائلین کو رعایا یا ”bloody Indians“ ہی سمجھتی ہے۔ ”براؤن صاحب“ کی طرز پر عالیشان رہائش گاہیں، بنگلے، طرزِ حیات اور پرانے قوانین افسران کو آج بھی ”براؤن صاحب“ بنائے ہوئے ہیں۔ افسران کی سوچ نوآبادیاتی سوچ سے اوپر نہیں اٹھ سکی۔ بیوروکریسی کا طرزِ عمل بدلنے کےلیے اس کی سوچ بدلنا ہوگی اور سوچ بدلنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کا ”کلچر“ بدلا جائے؛ اور کلچر بدلنے کےلیے ضروری ہے کہ اس کلچر کی مخصوص علامات اور نمونوں کو بدلا جائے۔

اس کلچر کے سب سے اہم نمونے گوروں کے وقت کے بابوؤں کے بنگلے ہیں۔ ان بابوؤں کو ”صاحب“ سے سرکاری نوکر اور ملازم بنانے کےلیے ضروری ہے کہ ان کا شاہی طرزِ حیات ان سے واپس لیا جائے۔ ان بنگلوں کا پیداواری استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اے سی اور ڈی سی ہاؤسز کی اتنی وسعت ہے کہ ان میں تحصیل اور ضلع کی سطح کا عالیشان اسپورٹس کمپلیکس بن سکتا ہے جس میں اِن ڈور کھیلوں کے ساتھ جم اور ایک شاندار جاگنگ ٹریک بھی موجود ہو۔ یہ کلب تشویش، پریشانی اور پژمردگی میں گھری نوجوان نسل کےلیے کسی نعمت سے کم نہیں ہوں گے۔

اس کارِثواب کے بعد بیوروکریسی کے کام کرنے کے اختیارات، تنظیمی معاملات اور سیاسی اثر و رسوخ کو کم کرنے کےلیے اصلاحات نافذ کی جا سکتی ہیں، مگر ان سب سے پہلے بھرتی اور انتخاب کے نظام کو ازسرنو دیکھنا انتہائی مفید ہوگا۔ اگر ساری ریاضتوں اور مشقتوں کے بعد بھی بیوروکریسی کی کارکردگی میں واضح فرق نہ آیا (امیدِ واثق ہے کہ ایسا ہی ہوگا) تو پھر اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ ان اصلاحات سے پہلے ضروری ہے کہ بھرتی کےلیے ہونے والے امتحانات کے معیار اور طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی جائے۔

انیسویں صدی کے نوآبادیاتی علاقے کے افسران کے انتخاب کے طریقہ کار کو ہم آج بھی من و عن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج نہ تو یہ امتحانات ”ویلڈ“ ہیں اور نہ ہی ”ریلائبل“ ہیں۔ ویلڈ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا امتحان جو ملازمت کےلیے ضروری مہارتوں اور شخصی خوبیاں ماپ سکے؛ اور ریلائبل کا مطلب یہ کہ اس امتحان میں ایک خاص امیدوار کے نمبر ہر بار ایک جیسے رہیں۔ ہمارے ہاں نہ تو یہ امتحان شخصی خوبیوں کا تعین کرسکتے ہیں اور نہ ہی ملازمت کےلیے ضروری مہارتوں کا درست پیمانہ ہیں۔

جس افسر کو ساری زندگی پنجابی، پشتو، اور بلوچی بولنے والوں سے واسطہ ہو گا اس کےلیے انگریزی کا ایسا کڑا امتحان کہ 90 فیصد ناکام ہوجائیں، سمجھ سے بالا تر ہے۔ ہر سال کتنے ہی بہادر، باکردار اور تر دماغ ہم محض انگریزی کے ایک غیر متعلقہ مضمون کے باعث ضائع کر دیتے ہیں۔

جب ساری دنیا کی توجہ علم اور شخصی خوبیوں پر ہے تو ہم آج بھی انگریزی لغت کا رٹا لگوانے پر اکتفا کررہے ہیں؛ جس کا ضروری نتیجہ یہ نکلا کہ ہر سال چند مخصوص انگریزی اسکولوں کے طلبہ امتحان پاس کرکے بابو بن جاتے ہیں اور ایک مخصوص حکمران طبقہ ہی سامنے آیا ہے۔ انگریزی اور افسر شاہی کے اس گٹھ جوڑ کو توڑے بغیر نہ تو اصلاحات کی کوئی وقعت ہوگی اور نہ ہی ”ایک پاکستان“ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا، کیونکہ جتنا حقِ حکمرانی انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے بچوں کو ہے، اتنا ہی عام اور متوسط طبقے کے، اردو میڈیم سے پڑھے ہوئے جوانوں کو ہے۔

سرکار اصلاحات کے ان پہلوؤں کو نظر انداز کرکے حقیقی اصلاحات نہیں کرسکتی۔ لہذا تصویر کے اس رخ کو بھی دیکھنے کی اشد ضرورت ہے۔


ندیم اکرم پنجاب یونیورسٹی سے انتظامی امور میں ماسٹر ڈگری حاصل کرکے ایک غیر سرکاری ادارے میں بطور ہیومن ریسورس پروفیشنل کام کررہے ہیں۔