قائد اعظم یونیورسٹی کے طلباء نشے کی عادات میں مبتلا

    December 24, 2016 10:02 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد/سٹاف رپورٹر

سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن انٹیرئیر نے اسلام آباد کے میئر شیخ انصار عزیز سے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر یونیورسٹی کی چار دیواری کے لیے مالی معاونت کا بندوبست کیا جائے اور سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمپس میں کیمرے لگائے جائیں تاکہ منشیات کی روک تھام کے لیے نگرانی کو سخت کیا جائے۔

یہ خفیہ کیمرے طلباء کی مانیٹرنگ کریں گے، سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی آن انٹیرئیر نے اینٹی نارکوٹیکس فورس اور پولیس کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں منشیات کی سپلائی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

سینیٹ کی یہ کمیٹی اس سے پہلے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کی فروخت اور اس کے استعمال کے کیس کی تحقیقات کا حکم دے چکی ہے تاہم حکومت دارالحکومت کے سکولوں میں منشیات کے استعمال کی خبروں کو مسترد کر چکی ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے ڈین داکٹر وسیم احمد نے کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ کیمپس میں ہر قسم کی منشیات کی فروخت اور استعمال کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ لاہور میں تیار ہونے والے انٹاکسینٹ ٹیبلٹ کی فروخت طلباء میں کی جارہی ہے جس کی قیمت پانچ ہزار روپے سے پندرہ ہزار روپے تک ہے اس کے ساتھ شراب، حشیش اور ہیروئن کی فروخت بھی عام ہے۔

ڈین ڈاکٹر وسیم احمد نے مزید بتایا کہ یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی نے بعض ایسے طلباء کی نشاندہی کی تھی جو منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور اس کی رپورٹ پولیس کو بھی جمع کرائی گئی تھی۔ ڈاکٹر وسیم احمد کے مطابق کیمپس میں منشیات کے کھلے عام فروخت کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یونیورسٹی کی کوئی باؤنڈری وال یعنی دیوار نہیں ہے۔

ڈاکٹر وسیم احمد نے کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ منشیات کی فروخت کو روکنے کے لیے کیمپس کے ارد گرد چار دیواری کی جائے۔

کمیٹی نے اسلام آباد کے میئر شیخ انصار عزیز سے کہا ہے کہ سرکاری سطح پر یونیورسٹی کی چار دیواری کے لیے مالی معاونت کا بندوبست کیا جائے اور سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت کیمپس میں کیمرے لگائے جائیں تاکہ منشیات کی روک تھام کے لیے نگرانی کو سخت کیا جائے۔

اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں ڈائریکٹر اینٹی نارکوٹکس فورس بریگیڈئیر محمد بشارت نے بتایا کہ انسداد منشیات مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس میں تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کے تین سرکاری اور ایک پرائیویٹ تعلیمی ادارے کے ارد گرد منشیات فروخت کرنے والے چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

ڈائریکٹر نے کمیٹی سے گزارش کی کہ پیمرا کو ہدایات جاری کی جائیں کہ ٹیلی ویژن کی نشریات میں انسداد منشیات مہم کی زیادہ سے زیادہ کوریج کی جائے۔

کمیٹی کو اے این ایف نے بتایا کہ پاکستان میں سٹرسٹھ لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں جن کی عمر پندرہ سال سے چونسٹھ سال تک ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر سکولز اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ دارالحکومت کے چار سو بیالیس سکولوں میں سے کسی نے بھی طلباء میں منشیات کے استعمال کی زبانی یا تحریری شکایت درج نہیں کرائی۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *