علامہ اقبال کی جذباتی عہد میں عشقیہ شاعری

    November 9, 2019 3:38 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو

اُردو کی عشقیہ شاعری میں حسن و جمال اور چاہنے والے کے جذبہ شوق وصال اور غم فراق کا ذکر آفاقی انداز میں کیا جاتا ہے۔ شاعر کے ذاتی حالات و واقعات اور تہذیبی پس منظر کی جھلک کلام میں ملتی ہے۔ علامہ محمد اقبال کے کلام میں برہمنیت، کاشمیریت، جمالیت، وطنیت، فطانت، ادبیت اور حکمت عیاں ہوتی ہے۔

اقبال کی زندگی کے دو پہلو ہیں: ایک ان کی ذاتی زندگی اور دوسرا وہ تہذیبی روایات جن کی آغوش میں اقبال کے ذہن نے پرورش پائی۔ اقبال کی شخصیت کو محض تصوف اور ملت اسلامیہ کے تصورات میں مقید کرنے سے ان کی شخصیت کو رومانوی پہلو چھپ گیا ہے جس کا اظہار وہ اپنی شاعری میں کرتے ہیں۔ اُن کے کلام کے مخصوص حصوں پر ہی بات کرنا اقبال کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اُنھوں نے کہا:

اقبال بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں مین موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

علامہ اقبال کے عہد شباب میں صوفی کا نہیں بلکہ ایک عام انسان کا بسیرا تھا،جس کے قلب میں محبت کے تار چھڑے، جس کے کلام میں معشوق کی تعریف ہے، جس کے جذبات میں رومانویت ہے۔ بانگ درا کے حصہ دوم میں ان کی رومانوی شاعری کی جھلک ملتی ہے لیکن اس اجمال میں تفصیل کی بے شمار رمزیں پوشیدہ ہیں۔ علامہ اقبال صاحب ذوق مرد کی طرح اپنے مذاق اور معیار کی عورت کے متلاشی رہے اور جرمنی جا کر اپنے دل کی مُراد پالی۔ اسی عہد میں لکھی ایک نظم کا شعر ملاحظہ کیجیئے:

قید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی
دل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی

اس شعر میں مخاطب معشوق حقیقی ہے، شاعر دل کی بازی ہار جانے پر اس لیے پُرمسرت ہے کہ اس سے راحت نصیب ہوئی اور معشوق کے دل کا قیدی بن کر جذبات کی تکمیل ہوئی۔ میر تقی میر نے ابتدائے عشق کے بعد، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا، کے جس مقام سے اپنے آپ کو خبردار کیا تھا، اقبال کے اس شعر میں راہ عشق کی منزل میں پُر جوش اور مصورانہ تذکرہ ہے۔ عشق و محبت کی شاعری میں اقبال کے اس شعر کا آج تک کوئی ثانی نہیں:

دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے
جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے
تاب اظہار عشق نے لے لی
گفت گو زباں کو ترستی ہے

پروفیسر محمد عثمان نے اپنی کتاب “حیات اقبال کا ایک جذباتی دور میں”، علامہ اقبال کی عشقیہ شاعری پر نظمیں نقل کی ہیں جن کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ شاعر اپنی اور محبوب کی ذات کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم قرار دیتا ہے، جیسے وہ بنے ہی ایک دوسرے کے لیے ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ رہنے اور جینے کی خاطر ہی پیدا کیے گئے ہوں، ان کے دلوں کا یہ رشتہ، ان کی روحوں کا یہ تعلق، ازلی و ابدی ہے، کبھی نہ ٹوٹنے والا۔

تو جو محفل ہے، تو ہنگامہ محفل ہوں میں
حسن کی برق ہے تُو، عشق کا حاصل ہوں میں
تُو سحر ہے تو میرے اشک ہیں شبنم تیری
شام غربت ہوں اگر میں، تو شفق تُو میری
میرے دل میں تری زلفوں کی پریشانی ہے
تیری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہے
حُسن کامل ہے ترا، عشق کامل ہے مرا

شاعر کا دل محبوب کو چھونے اور پانے کی نسبت، اُس کی دید سے زندگی کا کیف بڑھانے اور اس کی مدد سے اپنی حقیقت کو سمجھنے سمجھانے کا آرزو مند ہے۔ معشوق سے ملنے کی تڑپ اور اس کا انتطار دراصل راہ محبت کے وہ مقام ہیں جس سے دل کو عجب تسکین پہنچتی ہے۔ علامہ اقبال کی زندگی کے جذباتی عہد کی شاعری یورپ بالخصوص یورپ میں قیام میں لکھی گئی۔ وصال، حسن و عشق، کلی، فراق، سلیمی وغیرہ بانگ درا کی نظمیں ہیں۔ علامہ اقبال اور جرمنی کی ایملی ایما سے محبت شاعری اور خطوط سے عیاں ہے۔ یہ فلسفی و مفکر کی شاعری نہیں بلکہ ایک نوجوان کی شاعری ہے۔

اکیس جنوری 1908ء میں اقبال نے لندن سے ایما کے نام خط میں لکھا؛

میں یہ سمجھا کہ آپ میرے ساتھ مزید خط و کتابت نہیں کرنا چاہتیں اور اس بات سے مجھے بڑا دُکھ ہوا۔ اب پھر آپ کا خط موصول ہوا ہے جس سے مجھے بڑی مسرت ہوئی ہے۔ میں ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں اور میرا دل ہمیشہ بڑے خوبصورت خیالوں سے معمور رہتا ہے۔ ایک شرارے سے شعلہ اُٹھتا ہے اور ایک شعلے سے ایک بڑا الائو روشن ہو جاتا ہے۔ لیکن آپ سرد مہر ہیں، غفلت شعار ہیں۔ آپ جو جی میں آئے کیجئے، میں کچھ نہ کہوں گا، ہمیشہ صابر و شاکر رہوں گا۔

علامہ اقبال انسان سے عشق کرنے کا مذاق رکھتے تھے اور ان کا یہ ذوق عین جوانی میں عروج کو پہنچا۔ ان کی زندگی اور کلام میں جو درد مندی اور گداز کی کیفیت سرتاسر پائی جاتی ہے اس میں انسانی عشق کی ناکامی کو بھی دخل ہے۔ ماہرین اقبال کہتے ہیں کہ اُنھیں انسان سے عشق ہو ہی نہیں سکتا تھا؟ اقبال کی عشقیہ شاعری کی نظموں کا مطالعہ ہی اقبال کی رومانویت کا اظہار ہیں۔

عطیہ فیضی اپنی کتاب اقبال میں ایما سے متعلق لکھتی ہیں؛

ایک دن ایما دوسری لڑکیوں کے ساتھ مل کر ورزش کر رہی تھیں اور اقبال ٹکٹکی باندھ کر انھیں تکے جارہے تھے، عطیہ نے ٹوکا تو وہ کہنے لگے، میں فلکیات دان بن گیا ہوں، ستاروں کے جھرمٹ کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔ عطیہ نے لکھا کہ اقبال ایما کے ساتھ رقص بھی کیا کرتے تھے لیکن ایسے اناڑی پن کے ساتھ کہ ان کے قدم اکثر اوچھے پڑتے تھے۔

اقبال نے اپنی عشقیہ شاعری میں بھی منفرد اسلوب پیش کیا اور اپنے صنف شعر میں مخالف جنس کے تشخص کو برقرار رکھا۔ عمومی طور پر شعراء عشقیہ شاعری میں قصیدہ گوئی میں مدح سرائی کرتے ہوئے حقیقت سے دور چلے جاتے ہیں لیکن اقبال کے عورت صنف کے طور پر نہیں بلکہ فرد کی حیثیت سے آئی ہے لہذا ان کی عشقیہ شاعری میں صرف وہی باتیں، وہی واقعات ملتے ہیں جن سے وہ خود گزرے۔ اقبال انسانی عشق کے تجربے سے محروم نہیں رہے، اقبال کی زندگی سے یہ حقیقتیں نہ مٹائی جا سکتی ہیں اور نہ ہی چھپائی.

غم جوانی کو جگا دیتا ہے لطف خواب سے
ساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے


akmal-dawn

اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *