عائشہ باوانی کالج تنازعہ؛ حکومتی نظر اربوں روپے کی زمین پر

    September 18, 2017 7:56 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: احمد سلیمان

عائشہ باوانی ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر وقف (ٹرسٹ) کراچی کے تحت عائشہ باوانی کالج 1961ء میں قائم ہوا تھا تاہم ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اس کالج کو 1972ء میں اُس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنلائزڈ کر دیا تھا۔

یہ ادارہ 24 سال تک حکومتی کنٹرول میں رہا تاہم 1986ء میں ٹرسٹ کے تحت چلنے والے سکول کو تو واپس تحویل دے میں دیا گیا تاہم کالج کا کنٹرول حکومت کے پاس رہا۔

اب حکومت اور ٹرسٹ کے درمیان سن دو ہزار پانچ سے کالج کے معاملے پر تنازعہ چل رہا ہے اور چھ سال تک کیس عدالت میں زیر سماعت رہا اور دو ہزار گیارہ میں عدالت نے ٹرسٹ کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

اس تعلیمی ادارے کی تحویل کے تنازعہ پر کراچی کی ماتحت عدالت نے ٹرسٹ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے حکم جاری کیا کہ ٹرسٹ کی انتظامیہ کالج کا کنٹرول سنبھالے جس کے بعد ہفتہ کے روز ٹرسٹ نے بیلف کے ذریعے سے کالج کو سیل کرا کر کنٹرول سنبھال لیا۔

ماتحت عدالت کے فیصلے کو آج سندھ ہائیکورٹ نے معطل کر کے کالج کا کنٹرول واپس حکومت کے حوالے کر دیا ہے جس پر آج یہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا اور کالج میں تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں۔ ٹرسٹ انتظامیہ کالج کا کںٹرول محکمہ تعلیم سندھ کے حوالے کرنے سے انکاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز عائشہ باوانی کالج ٹرسٹ کی انتظامیہ نے گیٹ کو مستقل طور پر بند کرادیا ہے۔

عائشہ باوانی کالج کی انتظامیہ کے مطابق حکومت کے ذمہ ٹرسٹ کو بلڈنگ کے کرایہ کی مد میں 8 کروڑ 4 لاکھ روپے کی رقم واجب الادا ہے۔

عائشہ باوانی ٹرسٹ کے سیکرٹری فرید احمد کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم پر کالج کا قبضہ ہمیں واپس دے دیا گیا ہے اور عدالت نے محکمہ تعلیم کو کوئی حکم امتناع نہیں دیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں اُنہوں نے کہا کہ سرکاری کالجوں میں معیار تعلیم بہتر نہیں ہم تعلیمی مقاصد کیلئے کالج کی عمارت کو استعمال کریں گے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر کالجز کا کہنا ہے کہ کالج کھلوانے آئے ہیں اور سپریم کورٹ تک جائیں گے۔ اںہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ ٹرسٹ انتظامیہ کالج گراؤنڈ کا کمرشل استعمال کرنا چاہتی ہے۔

کالج سیل ہونے پر آج طلباء نے شارع فیصل پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کالج کے تنازعہ کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ واضح رہے کہ کالج میں اس وقت ایک ہزار پچاس طلباء زیر تعلیم ہیں۔

aisha bawany college

وزیر تعلیم سندھ جام مہتاب ڈہرکی نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ عدالت سے حکم امتناع مل گیا ہے اور کالج میں تدریسی عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا۔ جام مہتاب ڈہرکی نے کیس کی پیروی میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چند افسران کی وجہ سے محکمہ تعلیم یہ کیس ہارا۔

ریجنل ڈائریکٹر کالجز معشوق علی کے مطابق محکمہ تعلیم دوسال قبل بھی کیس عدالت میں ہارچکا ہے اوراب بھی معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ سابق ڈائریکٹر پروفیسرانعام نے مناسب انداز میں کیس کی پیروی نہیں کی۔

ٹرسٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کالج میں زیر تعلیم طلباء کا مستقبل داؤ پر نہیں لگے گا اور وہ ان طلباء کو کالج میں ہی تعلیم جاری رکھنے کی سہولت فراہم کریں گے۔ انتظامیہ کے مطابق اگر حکومت کالج کے طلباء کو لے کر جانا چاہتی ہے تو اس پر بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

محکمہ تعلیم کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا ہے کہ کالج کی عمارت گورنر ہاؤس کے بالکل قریب ہے اور اربوں روپے مالیت کی اس جگہ پر حکومت قبضہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہے حتیٰ کہ اس زمین کی ملکیتی حقوق ٹرسٹ کے پاس ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *