محکمہ تعلیم سندھ کے 3 ہزار 600 ملازمین چار سال سے تنخواہوں کے منتظر

    November 12, 2016 9:02 pm PST
taleemizavia single page

کراچی

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2012ء میں محکمہ تعلیم سندھ میں بھرتی کیے گئے 3 ہزار 6 سو ملازمین کو چار سالوں سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوئی۔ ان ملازمین میں اساتذہ اور ملازمین شامل ہیں۔

محکمہ تعلیم نے 2012ء میں خالی سیٹوں پر اساتذہ اور ملازمین کی بھرتیاں کی تھیں اور یہ بھرتیاں میرٹ کے مطابق کی گئی تھیں۔

بھرتی ہونے والے اساتذہ اور ملازمین کو صوبہ سندھ میں ان کے متعلقہ اضلاع میں ہی تعینات کیا گیا تھا جس میں لاڑکانہ، شہدادکوٹ، شہید بے نظیر آباد، کندھکوٹ، میر پورخاص شامل ہیں۔

ان ملازمین کو پہلے دن سے ہی تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جارہی جس پر یہ اساتذہ اور ملازمین سندھ میں آئے روز احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں۔

ان بھرتیوں سے پہلے محکمہ کی جانب سے تین بڑے اخبارات میں 2011 اور 2012ء میں اشتہارات دیے گئے تھے جس میں گریڈ ایک سے لے کر گریڈ 11 تک کی بھرتیاں شامل تھیں۔

ان بھرتیوں سے پہلے اُمیدواروں کا تحریری امتحان، انٹرویوز بھی لیے گئے تھے جبکہ ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے سے پہلے محکمہ تعلیم نے ان کی اسناد کی تصدیق بھی کرائی تھی۔

ستمبر 2013ء میں سندھ حکومت نے ڈسٹرکٹ ریکروٹنمنٹ کمیٹی کے ذریعے سے ان بھرتیوں کی سکروٹنی کا عمل شروع کیا تھا۔ تین سال گزرنے کے بعد بھی ان ملازمین کی کوئی شنوائی نہیں ہورہی اور ڈیوٹیاں دینے کے باوجود انہیں تنخواہیں جاری نہیں کی جارہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *