ملالہ یوسفزئی کی زندگی کے دس ناقابل فراموش واقعات

  • April 2, 2018 12:30 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ

سوات کی کم عمر ترین لڑکی، لڑکیوں کی تعلیم اور امن کیلئے اپنی کوششوں پر نوبل انعام پانے والی ملالہ یوسفزئی چھ سال بعد اپنے ملک واپس آئی ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔

ملالہ کو عالمی شہرت اور ایسی کامیابی کیسے اور کیونکر حاصل ہوئی اور ان کی زندگی میں کون کون سے اہم واقعات پیش آئے جنہیں ہم ناقابل فراموش قرار دے سکتے ہیں۔

بی بی سی کیلئے ڈائری

ملالہ یوسفزئی نے 2009 میں اس وقت شہرت حاصل کی جب صرف 11 سال کی عمر میں انہوں نے بی بی سی کیلئے ڈائری لکھنا شروع کی ایک ایسے وقت میں جب سوات پر طالبان قابض تھے جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ ڈائری میں ملالہ اپنی روزمرہ زندگی اور تعلیمی میدان میں درپیش مشکلات اجاگر کرتی تھیں۔ بعدازان ایڈم بی ایلک نامی نیویارک ٹائمز کے صحافی نے ان پر ایک ڈاکومینٹری بنائی جس کے بعد متعدد ملکی و غیرملکی چینلز اور اخبارات نے ان کے انٹرویوز کیے اور یوں انہوں نے ملکی سطح سے ابھر کر عالمی شہرت حاصل کی۔
Malala1

نیشنل پیس ایوارڈ فار یوتھ

امن اور تعلیم کیلئے آواز اٹھانے پر ملالہ یوسفزئی کو 2011 میں تب کے وزیراعظم سید وسف رضا گیلانی نے نیشنل پیس ایوارڈ فار یوتھ سے نوازا، اس وقت ملالہ کی عمر محض 13 سال تھی۔
Malala2

قاتلانہ حملہ

نو اکتوبر 2012 کا دن ملالہ کی زندگی کا ایک ناقابل فراموش دن ہے جب سکول سے واپسی کے وقت شدت پسندوں نے پر حملہ کیا اور ان کے سر میں گولی مار دی تھی۔ حملے میں ان کی دو سہیلیاں بھی زخمی ہوئیں، ملالہ کو پہلے سی ایم ایچ پشاور اور پھر برطانیہ کے کوئین الزیبتھ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں علاج معالجے کے بعد انہوں نے ایک نئی زندگی پائی۔

اقوام متحدہ کی پٹیشن

پندرہ اکتوبر 2012 کو عالمی خواندگی کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی گورڈن براؤن نے ہسپتال جا کر ان کی عیادت کی اور اس موقع پر ایک پٹیشن شروع کی جس کا عنوان تھا “میں ملالہ ہوں”۔ پٹیشن کا اہم مطالبہ یہ تھا کہ 2015 تک تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت دی جائے،اس کے نتیجے میں پاکستان میں پہلی مرتبہ حق تعلیم بل پاس ہوا۔

دنیا کی سو بااثر ترین شخصیات میں شمار

اُنتیس اپریل 2013 کو ٹائمز میگزین نے اپنے سرورق پر ملالہ یوسفزئی کی تصویر شائع کی اور ان کا شمار دنیا کی سو بااثرترین شخصیات میں کیا۔

ملالہ ڈے

ملالہ یوسفزئی پر حملے کے بعد اقوام متحدہ نے ان کی تاریخ پیدائش کے دن کو عالمی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا۔
اس روز انہوں نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دنیا بھر کے بچوں کو تعلیم تک رسائی دی جائے۔

آئی ایم ملالہ

ملالہ یوسفزئی نے برطانوی خاتون صحافی کرسٹینا لیمب کی مدد سے آئی ایم ملالہ نامی کتاب لکھی جو 10 اکتوبر 2013 کو شائع ہوئی۔ کتاب میں اپنی زندگی کے علاوہ ملالہ نے طالبان کے قبضہ کے دور کے حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

Malala3

نوبل انعام

تعلیم اور امن کیلئے ان کی کوششوں کے اعتراف میں 10 اکتوبر 2014 کو انہیں نوبل انعام دیا گیا ان کی عمر تب 17 سال تھی اور یوں انہیں یہ انعام حاصل کرنے والی دنیا کی کم سن ترین شخصیت بننے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

یہ اعزاز انہیں اور ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کو مشترکہ طور پر دیا گیا جو ان کی طرح تعلیم کیلئے سرگرم رہے تھے۔ ملالہ سے قبل ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کی نوبل انعام یافتہ واحد شخصیت تھے جنہیں سائنسی خدمات پر یہ اعزاز دیا گیا تھا۔
Malala4

کینیڈا کی اعزازی شہریت

گزشتہ برس کینیڈا کی حکومت نے ملالہ یوسفزئی کو اعزازی شہریت دی۔ اس موقع پر ملالہ نے کینیڈین پارلیمان سے خطاب بھی کیا اور یوں وہ یہ خطاب کرنے والی کینیڈا کی کم عمر ترین شہری بھی بنیں۔
Malala5

پاکستان واپسی

ملالہ کی زندگی کا ایک اور اہم واقعہ ان کی اپنے ملک واپسی کا ہے۔ ان کے اعزاز میں گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا اپنا ملک ہے اپنی تعلیم مکمل کرکے جس کی طرف وہ ہممیشہ کیلئے لوٹ کر آئیں گی۔

Malala6


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *