یوم اساتذہ پر خوشی منائیں یا پھر سوگ؟

  • 404 Views
  • اکتوبر 5, 2017 12:33 بجے PST

pag1-image
استاد کا ہی وصف ہے کہ وہ مقدس فرض کی تکمیل کے ذریعے نوع بشر کے بہتر مستقبل کیلئے سعی کرتاہے

محمد مرتضیٰ نور

دنیا بھر میں 5اکتو بر یوم اسا تذہ کے طور پرمنا یا جاتا ہے ۔اس دن کو منانے کا بنیا دی مقصد اسا تذہ کی ملک و قوم کی ترقی اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کیلئے نمایاں خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے ۔

عالمی یوم اساتذہ 2017ء کا عنوان ’’ آذادانہ ماحول میں تدریس اور اساتذہ کو با اختیار بنانا ہے ‘‘ ۔ اس سال عالمی یوم اساتذہ کی اہمیت اس وجہ سے بھی ذیادہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی اعلی تعلیم کے شعبہ میں اساتذہ کی حالت زار پہ سفارشات کو 20سال مکمل ہورہے ہیں ۔

یہ امر قابل ذکرہے کہ ہم اپنی پالیسیوں اور روزمرہ کی بات چیت میں پرائمری سیکنڈری تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیمی شعبہ میں بھی اساتذہ کے اہم کردار اور انکی گراں قدر خدمات کو نظر انداز کررہے ہیں ۔

ہمیں ان وجوہات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ ہم آج تک معیاری تعلیم کیونکر فراہم نہیں کر پارہےاور اس سلسلے میں جامعات کی خود مختاری اور یونیورسٹی اساتذہ کی پیشہ وارانہ تربیت اور ترقی کیوں ضروری ہے۔2014-15کے اعداد و شمار کیمطابق پاکستان میں مستقل یونیورسٹی اساتذہ کی تعداد 37,397ہے جن میں سے 10,214یعنی 27فیصد یونیورسٹی فکلیٹی پی ایچ ڈی ڈگری کی حامل ہے ۔

پرائیوٹ سیکٹر میں11,034میں اساتذہ کی تعداد جبکہ پبلک سیکٹر میں اساتذہ کی تعداد 25,098ہے۔اعلی تعلیم کو فروغ دینے کیلئے 2002ء میں ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر شمس لاٹھا کی سر براہی میں میرٹ پر مبنی تعیناتیوں ، یونیورسٹی اساتذہ کو بااختیار بنانے ، اساتذہ کی تمام اہم امور کی فیصلہ سازی میں شمولیت ،کارکردگی کی بنا پر مراعات اور اساتذہ کی پیشہ وارانہ ترقی کیلئے سازگار ماحول کی فراہمی جیسی اہم سفارشات پیش کی گئی لیکن 15سال گزرنے کے باوجود یہ اہم سفارشات موثر عملدرآمد کی منتظر ہیں ۔

کمیٹی نے اعلی تعلیمی شعبہ میں اصلا حات کو کامیاب کرنے کیلئے سکالرز کی اکیڈمی کے قیام اور سٹیک ہولڈرز کے دو موجودہ اداروں وائس چانسلرز کانفرنس اور یونیورسٹی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم فیڈ ریشن آف آل پاکستان یونیورسٹی ایکڈ یمک سٹاف ایسوسی ایشن کے کردار کو مضبوط بنانے کی کلیدی سفارش بھی پیش کی تھی ۔ اساتذہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

اچھے افراد کی موجو دگی سے اچھا معاشرہ جنم لیتا ہے اور اچھے معاشرے سے ہی ایک بہترین قوم تیار کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک استاد کا ہی وصف ہے کہ وہ مقدس فرض کی تکمیل کے ذریعے نوع بشر کے بہتر مستقبل کیلئے سعی کرتاہے ۔ جد ید تحقیقی علوم اور فنی سائنسی علوم کے ماہرین اور تاریخ کا دھارا بدلنے اور دنیائے افق پر تاریخ رقم کرنے والی شخصیات خواہ وہ کسی بھی طبقہ ، رنگ ، نسل سے تعلق رکھتے ہوں استاد کی فطری محبت اور روحانی تسکین اور رہنمائی کی محتاج نظر آتی ہیں ۔

دیگر ممالک بھی یوم اساتذہ محبت ، خلوص اور عقیدت سے مناتے ہیں اور اس عزم کی تایئد کی جاتی ہے کہ آنیوالی نسل کی پرورش کیلئے بھی اساتذ ہ کے کلیدی کردار کی ضرورت ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود معلم ہونے پر فخر کیا ۔

ابن انشاء نے بیرون ممالک میں استاد کی تکریم پر یہ واقعہ کسی مقام پر قلمبند کیا تھا کہ مجھے ایک بار ٹوکیو کی ایک یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں میری ملاقات اس یونیورسٹی کے ایک استاد سے ہوئی۔ ملاقات کے بعد وہ مجھے صحن تک الوداع کرنے آئے ،میں نے دیکھا کے ہر گزرنے والا طالبعلم ہمارے عقب میں اچھل کر گزر رہاہے ابن نشاء نے کہا کہ میں نے ٹوکیو یونیورسٹی کے اس استاد سے وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ ’’ سورج کی روشنی کی وجہ سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑا رہا ہے اور کوئی طالبعلم نہیں چاہتا کہ سایہ اسکے پاؤں تلے آئے لہذا یہ طلباء اچھل اچھل کرگزررہے ہیں ۔‘‘

یقیناًترقی ، خوشحالی اور امن کے مراکز یہ ممالک اساتذہ کی عزت و تکریم کی ہی بدولت ہیں ۔ اعلی تعلیم اداروں میں تشدد پسند رجحانات کا خاتمہ اور امن رواداری کے کلچر کافروغ اساتذہ کے تعاون اور شمو لیت کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اساتذہ کی اہمیت و احترام نہ ہو نے کے برابر ہے ۔

معماران قوم کی تنخواہیں بمشکل انکی گھر یلو ضررویات پورا کرتی نظر آتی ہیں ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اپنی تمام عمر طلباء کی نشو ونما اور تربیت پر صرف کرنیوالا پروفیسر جب پنشن کیلئے سررکاری دفاتر کے چکر لگاتا ہے توبے حس معاشرے کی اصلیت سامنے آجاتی ہے ۔ آئے روز اساتذہ اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر تو آتے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنا کر گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ اساتذہ کے حقوق کا تحفظ اور انہیں بااختیار بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

ہم اسوقت تک پر امن اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادؤ نہیں رکھ سکتے جب تک اساتذہ کی اہمیت و احترام کو اپنا شعار نہیں بنا لیتے ۔ یونیورسٹی اساتذ ہ کو اسوقت تک بااختیار نہیں بنا یا جا سکتا جب تک انکے اہم مسائل کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جامعات میں بیرونی مداخلت کا خاتمہ ، فیصلہ سازی کے امور میں مو ثر شمولیت ، اساتذہ کے مسائل کے حل کیلئے قومی اور صو بائی سطح پر خصوصی ٹا سک فور س ،میرٹ پر مبنی تقرریاں، یونیورسٹی اساتذہ کیلئے ٹیکس کی ادائیگی میں خصوصی رعایت اور تدریسی مقاصد کیلئے ریٹائر منٹ کی مدت میں 65سال تک کا اضافہ کرنے کے اہم مطالبات اور مسائل کا فوری حل اور عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیم دوست اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جاسکے ۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.