نئے بیانیہ کی تشکیل میں اُستاد کی آواز

  • 338 Views
  • اکتوبر 5, 2017 3:26 بجے PST

pag1-image

ڈاکٹر تنویرقاسم

ارسطو نے کہا تھا کہ’’ جو لوگ بچوں کو اچھی تعلیم دیتے ہیں ان کی عزت کرو، ماں باپ تمہیں پیدا کرتے ہیں لیکن استاد تمہیں اچھی زندگی گزارنے کا فن سکھاتے ہیں‘‘۔' اسی طرح ولیم آرتھر وارڈ نے کہنا تھا کہ ایک عام استاد تمہیں چیزوں کے بارے میں صرف بتاتا ہے، ایک اچھا استاد اس کی وضاحت کرتا ہے، ایک اعلیٰ درجہ کا استاد عملی طور پر کرکے دکھاتا ہے، جبکہ ایک بہترین استاد طالب علموں میں تحریک پیدا کرتا ہے"۔

دنیا کے کسی بھی کامیاب شخص کی نصرت و کامرانیوں میں استاد کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے‘ اس لئے استاد کا درجہ سب سے بڑھ کر ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ "مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے"، استاد کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی و شافی دلیل ہے۔

آج تہذیب و تمدن کی یہ جو اتنی بڑی عمارت کھڑی ہے۔ اس کے پیچھے اْسی شفیق و محترم ہستی کا ہاتھ ہے جسے اتالیق یا استاد کہتے ہیں۔ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہ، جن کی گردن ہمہ وقت اکڑی رہتی تھی، اپنے اساتذہ کے سامنے ہمیشہ سر جھکا دیا کرتے تھے۔’’سکندرِ اعظم‘‘یونانی جس نے آدھی سے زیادہ دنیا اپنی تلوار کی دھار پر فتح کی،’’ارسطو‘‘جیسے معلم اول کا شاگرد تھا۔

یہ مجلسِ یونان ہو، یا ایوانِ قیصرو کسریٰ، یہ خلافتِ بنو عباس ہو یا محمود غزنوی کا دربار، یہ اندلس کا الحمراء ہو یا ہندوستان کا شہنشاہ’’جلال الدین محمد اکبر‘‘133 تاریخ شاہد ہے کہ استاد کی عظمت سے اسقدر بلند پایہ اولولعزم حکمران بھی واقف تھے۔

جب ہندوستان کی انگریز حکومت نے حضرت علامہ اقبال ؒ کو سر کا خطاب دینے کا ارادہ کیا تو اقبال ؒ کو وقت کے گورنر نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ اقبال نے یہ خطاب لینے سے انکار کردیا۔ جس پر گورنر بے حد حیران ہوا۔ وجہ دریافت کی تو اقبالؒ نے فرمایا:۔’’میں صرف ایک صورت میں یہ خطاب وصول کرسکتا ہوں کہ پہلے میرے استاد مولوی میرحسنؒ کو ’’شمس العلماء‘‘ کا خطاب دیا جائے‘‘۔

یہ سن کر انگریز گورنر نے کہا:۔’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو تو’’سر‘‘کا خطاب اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ بہت بڑے شاعر ہیں۔ آپ نے کتابیں تخلیق کی ہیں، بڑے بڑے مقالات تخلیق کیے ہیں۔ بڑے بڑے نظریات تخلیق کیے ہیں۔ لیکن آپ کے استاد مولوی میر حسنؒ صاحب نے کیا تخلیق کیا ہے؟‘‘یہ سن کر حضرت علامہ اقبالؒ نے جواب دیا کہ:۔’’مولوی میر حسن نے اقبال تخلیق کیا ہے

الغرض استاد کا مقام اور عظمت ہر شئے سے بلند اور بسیط ہے۔ حتیٰ کہ خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استاد اللہ تعالیٰ کو کہا جاتا ہے۔اور رسولِ اکرم کی حدیث پاک ہے کہ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا‘‘۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے تاجر کا خطاب پسند نہ کیا حالانکہ آپ حجاز کے ایک کامیاب ترین تاجر تھے۔ آپ نے اپنے لیے پسند کیا تو معلم یعنی استاد کا رتبہ۔ چنانچہ استاد کی عظمت سے کچھ بھی بڑھ کر نہیں۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں ایک استاد (معلم) کی کتنی توقیر و تعظیم ہے، اس لئے آج کی نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنے اساتذہ کا بے حد احترام کر یں‘ ان کے حق میں ہمیشہ دعائے خیر کریں اور ہر معاملے میں استاد کی عزت و تکریم کو ملحوظ خاطر رکھیں اور جہاں بھی موقع ملے استاد کی خدمت اپنے لئے اعزاز سمجھ کر کریں تا کہ وہ استاد کی دعاؤں میں شامل رہیں جو ایک بہت بڑی خوش نصیبی ہے کیونکہ علم تو شاید ادب و احترام کے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن استاد کی دعاؤں سے محرومی بد نصیبی کے مترادف ہے۔

پاکستان دنیا میں اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی واحد ریاست ہے جسے کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا لیکن یہاں تعلیمی میدان میں کوئی مستقل پالیسی رائج نہ ہو سکی اور نہ ہی قومی زبان اردو کی ترویج کیلئے عملی اقدامات کئے گئے۔

قومی زبان میں تعلیمی نظام کو ڈھالنے کے باوجود انگریزی تعلیمی نظام سے طلباء تعلیمی عمل سے دور ہوئے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈراپ آوٹ کی شرح بڑھی۔ اس تجرباتی مہم میں سسٹم تباہ ہو رہا ہے۔

مختلف امتحانی نظام‘ طبقاتی طرز تعلیم جاری ہے۔ پی ایچ ڈی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا پاکستان کے مسائل حل کرنے کیلئے محققین اور سائنسدانوں کیلئے ماحول اور مواقع حوصلہ افزا ہیں؟

اگرچہ گزرتے ماہ و سال میں پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور پی ایچ ڈی سکالرز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سبب حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے اس کے باوجود سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے حقیقی مسائل حل کرنے کیلئے محققین اور سائنسدانوں کو مناسب ماحول اور وسائل دستیاب ہیں؟

دیگر سوالات نئے علوم، محققین کی تعداد بڑھانے، تحقیقی لیبارٹریز، تھنک ٹینکس کی کافی تعداد، سائنس اور ٹیکنالوجی میں نمایاں کامیابیوں سے متعلق ہیں۔

یہ ساری بحث اس بڑے سوال کے گرد گھومتی ہے کہ کیا پاکستان کی یونیورسٹیاں پہلی اسلامی ایٹمی طاقت کے سماجی معاشی منظر کو تبدیل کرنے کا مرکز ثابت ہورہی ہیں۔ ہمارے اساتذہ عموماً یونیورسٹیوں میں وسائل کی فراہمی کے ساتھ تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے رہتے ہیں۔پاکستان میں بہت سے چیلنجز کے ساتھ علاقائی تعلیم حاصل کرنے کی شرح بہت کم 3.8فیصد ہے۔

یہ شرح 2008 میں 2.6فیصد تھی۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک مثلاًجنوبی کوریا میں یہ شرح 90 فیصد تک ہے۔ حتیٰ کہ ہمسایہ ملک بھارت ہم سے آگے ہے۔ اعلیٰ تعلیم پر قومی آمدنی کا صرف 0.2فیصد صرف کرنے پر تشویش ہونی چاہیے۔ کسی بھی مغربی یونیورسٹی کا تعلیمی بجٹ ایچ ای سی کے کُل بجٹ سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں اس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی پر وہ توجہ نہیں دی جارہی جس کی فی زمانہ ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ علمی معیشت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جارہاہے۔ تحقیق کیلئے فنڈز بھی فراہم نہیں کئے جارہے جس کے باعث تحقیقی کام بہت مشکل ہوگیا ہے۔ یونیورسٹیوں کی کارکردگی اور نتائج کو جانچنے کیلئے فیکلٹی کے تحقیقی مقالے بہترین ذریعہ ہیں۔

یہ بات اہم نہیں ہے کہ یونیورسٹی نے کتنے تحقیقی مقالے پیش کئے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتنے تحقیقی مقالوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیقی نتائج کا انحصار انڈر گریجویٹ، ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے والے طلباء کی صلاحیتوں پر ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں یونیورسٹیوں کو چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری کے پس منظر میں بھی طویل المدت منصوبہ بندی کرنی چاہئے۔

عام آدمی کو فائدہ پہنچانے کیلئے بڑے سماجی معاشی مقاصد کو سامنے رکھ کر یونیورسٹیوں میں اعلیٰ معیار کی تحقیق اور نئے علوم کی تعلیم دی جاسکتی ہے۔چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ بہت بڑا موقع ہے اس سلسلے میں مناسب منصوبہ بندی کی جانی چاہئے اوریونیورسٹیوں کو پانی کی کمی اور توانائی کے بحران پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

تعلیم کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’’الف اعلان‘‘ نے ’’استاد کی آواز کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔

اس جامع اور مفصل رپورٹ میں استاد کی ذمہ داریوں میں حاہل مشکلات کوہر طرح سے کھنگالا گیا ہے۔رپورٹ میں ملک بھر کے 600 کے لگ بھگ سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے ساڑھے بارہ سو اساتذہ سے تعلیمی کارگردگی کے بارے میں رائے لی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جہاں گھوسٹ ٹیچر اہم مسئلہ ہیں وہیں استاد پر ڈالا جانے والا اضافی بوجھ اُن کے فرائض کی بجاآوری کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

کسی بھی شعبے میں ترقی کے لئے تجربہ کا ر لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔شعبہ تعلیم میں ترقی کے لئے بھی تجربہ کا ر سٹاف کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سرکاری سکولوں کے 62 فی صد سے زیادہ اساتذہ کے پاس 15سال سے بھی زیادہ کا تجربہ ہے جبکہ پرائیویٹ سکولوں کے 67 فی صد اساتذہ 5 سال سے بھی کم تجربہ رکھتے ہیں۔

پرائیویٹ تعلیمی ادارے نئے ڈگری ہولڈرز کو اہمیت دیتے ہیں۔حالانکہ زیادہ تجربہ رکھنے والے اساتذہ میں زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔

سروے کے مطابق 20 فی صد خواتین اساتذہ پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہیں۔جبکہ 55 فی صد پیدل سفر کرتی ہیں۔ دور دراز کے دیہاتی علاقوں میں یہ سفر انتہائی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق اساتذہ کی بھرتیوں کیلئے آج بھی میرٹ کو خا طر میں نہیں لایا جاتا، اساتذہ کو چھوٹے گریڈ زمیں ہائر کیا جاتا ہے اور ان کی ترقی کا عمل بھی انتہائی سست ہے۔سرکاری سکولوں میں 22 فی صد آسامیاں ایسی ہیں جن پر بھر تیوں کے لیے کوئی اشتہار جاری نہیں کیا جاتا۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں 73 فی صد آسامیوں پر بھرتیوں کے لیے کوئی اشتہار جاری نہیں کیا جاتا۔سرکاری سکولوں میں اساتذہ کو گریڈ 6 یا7 میں ہائر کیا جاتا ہے یہ گریڈز دوسرے اداروں میں کلیریکل سٹاف کے ہوتے ہیں۔

پورے ملک میں صرف 4 فی صد اساتذہ کو گریڈ 9 یا اس سے اوپر کے گریڈ میں ہائر کیا جاتا ہے۔ان کی اگلے گریڈز میں ترقی کا عمل بھی انتہائی سست ہے۔

اس سروے کے مطابق اس وقت صرف ایک فی صد اساتذہ ایسے ہیں جو گریڈ 17 یا 18 میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔جبکہ گریڈ 9 میں 26 فی صد، گریڈ 12میں 21 فی صد، گریڈ 14میں 26 فی صد،گریڈ 15 میں 11 فی صد اور گریڈ 16 میں صرف 7 فی صد اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔

تمام اساتذہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کم اجرت اور بے شمار مسائل کے باوجود اساتذہ کی اکثریت ملک و قو م کا مستقبل سنوارنے کے لئے کوشاں ہے۔ اُ ن پر تنقید کے بجائے اُن کی حوصلہ افزائی کریں۔ اور جہاں تک ممکن ہو اساتذہ کے مسائل کے حل کے لئے آواز بلند کریں۔ ان کے مسائل کے حل کی طرف کا سفر قوم و ملک کے روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا سفر ہو گا۔

اگر استاد کو تعلیمی پالیسی کا محور بنا لیاجائے تو وہ منزل جلد حاصل ہوسکے جس کا ہم سب خواب دیکھتے رہے ہیں۔

اب تو جامعات میں شدت پسندی کا مسئلہ اُٹھ رہا ہے۔ یونیورسٹیوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی وجہ اگر نصاب ہے تو جو انتہاپسندانہ رویہ سماج میں موجود ہیں اس کی وجہ کیا ہے۔

نہیں بھولنا چاہے کہ سیاسی اور لسانی تنظیموں کے کارکنوں کے درمیان یونیورسٹی اورکالج ہاسٹلوں میں فائرنگ کے تبادلے، تشدد اور ہاسٹلوں پر قبضہ کے واقعات مسلسل رونما ہورہے جنھیں فراموش نہیں کرنا چاہے۔

آج انتہا پسندی محض پاکستان کا مسلہ ہی نہیں رہی بلکہ اس کے مظاہرے پوری دنیا میں جا بجا نظر آتے ہیں، مگر بطور قوم ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا وجہ کہ ہے کہ حالات پر بدستور قابو نہیں پایا جاسکا۔بھارت میں شدت پسند ہونا سیاسی طورپر کامیابی کی ضمانت ہے مگر ہمارے ہاں اگر مگر کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا۔ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ انتہا پسندی صرف مذہبی نہیں ہر طرح کی انتہا پسندی معاشرے میں موجود ہے۔

نوجوان طلبہ کے دہشت گردی کی طرف مائل ہونے کے اسباب کا پتہ چلانے اور ان کی روک تھام کے لیے تحقیقی منصوبوں کی ضرورت ہے، اس کے لیے ایک مستقل شعبہ کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں یوای ٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل احمد خالد نے طلبہ تقریبات کے انعقاد کے بہہترین مواقع پیدا کیے ہیں۔ اصل مسئلہ جامعات میں نہیں بلکہ معاشرے میں ہے اس لیے معاشرے میں بیانیہ کی حقیقی تبدیلی کے لیے والدین اور میڈیا کو بھی اس عمل میں شریک کرنا ہوگا۔

لوگوں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ غربت، بے روزگاری اور جہالت کے خلاف جنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کو امن پر مبنی ایک نیا بیانیہ دینے کی ضرورت ہے۔

معاشرے میں بیانیے کی تبدیلی کے لیے استاد کا کردار بہت اہم ہے، اس لیے فروغ امن کی کوششوں میں ان پر بھی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔انتہا پسندی اور دہشت گردی صرف ان پڑھ یا سادہ لوح افراد کی برین واشنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اب اعلیٰ تعلیم یافتہ ذہن بھی اس زہریلی ہوا سے متاثر ہورہے ہیں۔

ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ ہمارے تعلیمی نظام میں وہ کون سی خامی ہے جو پڑھنے والوں کو منزل سے ہمکنار کرنے کے بجائے، گمراہ کررہی ہے؟

کہیں تعلیمی نصاب میں منفی اور متشدد رجحانات تو داخل نہیں ہو گئے۔۔ ان کے اثرات زائل کرنے کیلئے نصاب میں غیر معمولی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

علامہ اقبال ؒ نے اجتہاد کو اسلام کی روح اور بقا کا راز قرار دیا تاکہ اسلام زندگی کے بدلتے تقاضوں کا ساتھ دے سکے اور اجتہاد کے لئے بنیادی اصول بھی واضح کر دیا۔ وہ اصول ہے کہ اجتہاد قرآن و سنت کی حدود کے اندر جائز ہے اسلامی تعلیمات اور اصولوں سے انحراف کرنے والا اجتہاد قابل قبول نہیں۔

روشن خیالی الحاد کی حدوں کو چھوتی ہے چنانچہ اس سے وہی لوگ رہنمائی حاصل کرتے ہیں جو اسلامی اصولوں سے بالاتر آزادی کے طلب گار ہیں۔ یہ لوگ اسے روشنی کہتے ہیں جبکہ دوسرا مکتبہ فکر اسے تاریکی اور الحاد کہتا ہے کیونکہ جہاں مذہب کی حدود ختم ہوتی ہیں وہاں سے الحاد کی راہیں کھلتی ہیں۔

مغرب کے فریب میں مبتلا ان حضرات نے اسلام کا مطالعہ نہیں کیا ورنہ اسلامی نظام حکومت میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیے گئے ہیں۔ اسلامی معاشرے میں مذہب کسی بھی شہری کی زندگی میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ رہی مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہا پسندی یا فرقہ واریت تو اسلام ان کی نفی کرتا ہے اور قرآن مجید تفرقہ پھیلانے والوں کو سختی سے منع کرتا ہے۔

سچ یہ ہے کہ دہشت گردی اور مذہبی منافرت بنیادی طور پر عالمی سیاست کا شاخسانہ ہیں اور ہم اپنے حکمرانوں کی کم بصیرتی اور عالمی قوتوں کی غلامی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کا تعلق مذہب سے جوڑ کر مذہب کو انسان کا ذاتی معاملہ قرار دینا اور قومی و سیاسی زندگی سے الگ کر دینا جائز نہیں۔


tanvir-qasim
رانا تنویر قاسم یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے بطور اُستاد وابستہ ہیں۔ اُنہوں نے اسلامیات کے مضمون میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔وہ مثبت تنقیدی نقطء نظر کو اپنی قوت سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.