پاکستان کے پیشہ ور تعزیت نگار کی اقسام

  • 256 Views
  • جولائی 1, 2017 10:36 بجے PST

pag1-image

اختر عباس

اگر آپ کسی بڑی برادری یا حلقہ احباب سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو سال میں دس پندرہ مرتبہ کسی نہ کسی تعزیت پر جانا ہی پڑتا ہے۔ اور اگر آپ آنکھیں کھلی رکھیں تو آپ کو تعزیت کرنے والوں میں طرح طرح کی قسمیں نظر آئیں گی۔

ایک طبقہ تو مرحوم کے قریبی عزیز و اقارب ہوتے ہیں۔ ان کا دکھ سچا ہوتا ہے۔ وہ آنسو بھی بہاتے ہیں، آنے جانے والوں کے لیے بریانی کا انتظام بھی کرتے نظر آتے ہیں اور مرحوم کی تدفین کے انتظامات میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔

دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جن کو دکھ تو ہوتا ہے, مگر وہ انتظامات میں شریک کم اور ڈاکٹروں، ہسپتالوں، ایمبولینس پولیس کے کارندوں یا انتظامیہ کے نااہلوں کی برائیوں پر بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ کچھ لوگ تو وہ ہوتے ہیں جو رسمِ دنیا منانے آتے ہیں اور خاموشی سے دعا پڑھ کر اور بریانی کھا کراپنے کاموں میں نکل جاتے ہیں۔

تعزیت کرنے والوں میں مگر آپ کو ایک ایسا طبقہ بھی نظر آئے گا جسے ہم پروفیشنل تعزیت نگار کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ فنکار ہیں جو مردے کے سرہانے بیٹھے روتی شکل بنا کر اس کے عزیز و اقارب سے مرحوم کی خصوصیات بھی گنوا سکتے ہیں اور مصروفیت کے ان لمحات میں واٹس ایپ پر لطیفوں اور چٹکلوں کی دنیا بھی بسائے رکھ سکتے ہیں۔

یہ لوگ آپ کو جنازے کو کندھا دیتا بھی نظر آتے ہیں اور قبرستان کے کنارے سگریٹ کے دھوئیں میں مرحوم کی موت کے پوشیدہ پہلوؤں پر روشنی بھی ڈال سکتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس کورے لٹھے کے کچھ مخصوص سوٹ، ایک بنی بنائی اداس شکل اور سینہ بہ سینہ منتقل شدہ تراشے ہوئے جملے ہوتے ہیں۔

اگر آپ نظریں کھلی رکھیں تو کچھ ہی فوتگیوں کے بعد آپ انہیں پہچاننا بھی شروع کر دیتے ہیں اور لاشعوری طور پر ان کے سکہ بند جملے اپنے ذاتی استعمال کے لیے ادھار بھی لے لیتے ہیں۔

ہماری قوم بھی سانحات کے اس سمندر میں ایک پیشہ ور تعزیت نگار بن چکی ہے۔ کہیں پر بم پھٹ جائے، کسی جگہ آگ لگ جائے، کہیں کوئی حادثہ ہو جائے، آپ کو تعزیتی الفاظ کا ایک لگا بندھا تسلسل نظر آئے گا۔ جتنا بڑا سانحہ، اتنی ہی اس کی یک بعدی تشریح اور اتنے ہی روایتی تعزیتی جملے۔

فیس بک اور ٹوئٹر پر، گلی محلے کی دلپشوری والی گپ شپ میں اور ڈرائنگ روموں میں چائے کی پیالی پر بپا طوفانوں میں بات مرنے والے کی مظلومیت سے شروع ہوتی ہے لیکن جلد ہی ان عوامل پر جا کر ختم ہوجاتی ہے کہ مرنے والے کا مرنا کیوں برحق تھا۔

عید سے پہلے پارہ چنار اور کوئٹہ میں ہماری قومی زندگی کا ایک اور سانحہ ہوا اور بجائے اس سانحے کے اسباب پر غور کرنے کے، ہم نے اپنی پوٹلی سے وہ تقریر نکالی اور چھاپ دی جو میٹرک کے امتحان میں یاد کی تھی۔ عظیم سانحہ، ناقابل تلافی نقصان، سوگواروں سے تعزیت، شہید کا درجہ اور بہت ساری دعائیں۔

حکومت کے ان بیانات کے ساتھ ساتھ ایک امدادی رقم کا دم چھلا بھی ہے۔ جتنی مشہور خبر ہوگی، جتنا شور شرابا مچے گا، ذات برادری، سیاسی وفاداری اور مذہبی شناخت کے بہت سارے ترازو ہیں جن سے تول کر امدادی رقم کا مُکّا مرحومین کے لواحقین کے منہ پر مارا جاتا ہے، کسی قیمتی ایرانی قالین کی طرح جس کے نیچے آپ اپنے گھر کا بہت سارے گند چھپا سکتے ہیں۔

اچھے دنوں میں ڈرامے بنا کرتے تھے جن میں کسی بھی قتل کی صورت میں پولیس تفتیش کیا کرتی تھی کہ مقتول کی دشمنی کس سے تھی؟ اس کا کس سے تنازع تھا؟ کسی نے اسے دھمکی تو نہیں دی؟ اگر پے درپے کسی ایک نوع یا قبیل کے انسانوں کا قتل ہو تو مقتول میں کیا قدر مشترک تھی؟ اگر کُھرا پکڑنے والے مل جاتے تو شاید قاتل کا کھرا بھی ڈھونڈا جاتا۔

ہر اس پہلو پر بات ہوتی جس سے قتل کی وجوہات دریافت ہو سکتیں۔ پارہ چنار اور ہزارہ والے مگر شاید بد قسمت ہیں کہ نہ تو ان کے قاتل کا کھرا کسی کو ملا، نہ ان کے قتل میں جُزو مشترک چیز دریافت ہو سکی اور نہ ہی ان کے قتل کی دلیلیں تراشنے والوں کی ٹوئٹر اکاؤنٹ بند ہوئے۔

حکومتی اداروں کی نااہلی اب ایسا لطیفہ ہے جس پر ہنسنے والوں کو ہنسی آنا بند ہو گئی ہے اور رونے والوں کے آنسو رو رو کر خشک ہو چکے ہیں۔ اگر آپ کسی پارہ چنار کے باشندے سے پوچھیں تو وہ کافی کچھ سنائے گا۔ کچھ جذباتی باتیں مگر بہت سارا سچ بھی۔

مثلاً وہ شہر جہاں خندقیں کھودی گئیں اور ہر داخلی دروازے پر بندوقوں کا حصار قائم کیا گیا۔ جہاں تین تین دفعہ اتر کر تلاشی دینے کے بعد ہی داخلہ ممکن ہو وہاں گولہ بارود اور اس گولہ بارود کو پھاڑنے والا اجنبی کیسے داخل ہوگیا۔ سنگ و خشت کیوں مقید کیے گئے اور سگ کیوں آزاد چھوڑے گئے؟

بہاولپور کے سانحے کا سنیں تو اس میں بھی ہماری معاشرتی مڈل کلاس نفسیات سو توجیہیں تلاش لے گی، فرانس کی اس ملکہ کی طرح جس نے بھوکے شہریوں کو کیک کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ وہ لوگ تیل کے ٹینکر کے پاس رکے کیوں تھے؟ انہوں نے اپنی ایئر کنڈیشن گاڑیوں کے شیشے نیچے کیوں کیے؟

موٹر سائیکل والے اس روڈ پر موٹر سائیکل کیوں چلا رہے تھے؟ لوگ تیل چوری کر کے کیا کرنا چاہتے تھے؟ ایسے جیسے کسی چار دن کے بھوکے بچے کو کوڑے کے ڈھیر سے مٹھائی کھانے پر ڈانٹا جائے کہ 'ہائیجین' بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔

رمضان کے شو میں ایک موبائل کے لیے اپنا مذاق اڑوانے والے اور ولیمے کے کھانے میں گوشت کی بوٹی کے لیے لڑنے والے تیل سمیٹنے والوں کی اخلاقی ابتری پر روتے نظر آئیں گے۔ ٹینکر کیوں گرا؟ پولیس کہاں تھی؟ فائر بریگیڈ کیوں نہ پہنچی؟ میٹرو کی شکل میں مغلیہ تعمیرات کے دلدادگان کو شیر شاہ سوری کی ریت کیوں نظر نہ آئی؟

ہسپتال کی دوائی کون لائے اور ڈاکٹر کو کون پابند کرے کہ وہ موضوعات شجر ممنوعہ ہیں جن پر رونا منع ہے۔ تعزیت نگار کا کام موت کی وجہ ڈھونڈنا نہیں ہے۔ اس کا کام مجمع جمع کرنا اور اپنی وجودی کشمکشوں کو اخلاقیات کے تڑکے لگا کر قابلِ ہضم بنانا ہے۔

ڈیزاسٹر مینیجمنٹ جہاں انتظامی مسئلہ ہے وہاں اس کے معاشرتی پہلو بھی ہیں۔ حادثات کے لیے عام عوام کو تیار کرنا ایک مستقل اور طویل المعیاد فرض ہے۔ اچھے معاشروں میں سکھایا جاتا ہے کہ حادثے کی جگہ پر ہجوم نہ کیا جائے۔

ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کو راستہ دیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں عام آدمی کو ایک چھوٹے دھماکے کے بعد بڑے دھماکے کے امکان پر تربیت دی جاتی ہے۔

اچھے دنوں میں ہمارا ایک محکمہ شہری دفاع ہوتا تھا۔ لوگوں کو آگ سے بچاؤ کی تراکیب سکھانے والے۔ کبھی کبھار فرسٹ ایڈ کی تربیت بھی دیا کرتا تھا۔ خدا جانے وہ محکمہ کیا کر رہا ہے آج کل۔

حکومت کو کیوں کوسیں۔ ہر سال سینکڑوں مجالس ہوتی ہیں، ہر جمعے کے خطبے میں اور عید کی نماز میں لمبی لمبی متشرع تقریریں ہوتی ہیں، اسکولوں میں دنیا جہاں کی کہانیاں پڑھائی جاتی ہیں، مگر آپ خود بتائیں آخری بار کب آپ نے کسی علامہ سے، کسی مولانا سے، کسی استاد سے یا کسی سرکاری ذمہ دار سے ان معاملات پر اور ڈسپلن پر کوئی تربیتی بیان سنا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں تو کاؤنٹر آئی ای ڈی کا مضمون بھی پڑھایا جاتا ہے کہ کیسے عمارتوں یا معاشرتی مقامات کو ڈیزائن کیا جائے کہ حادثے یا تخریب کاری کی کوشش کے نتیجے میں کم سے کم نقصان ہو۔

خیر عمارتوں کے نقشوں کی جانچ پڑتال، سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کی فٹنس، اور دہشت گردی کے خلاف تنصیبات کا قیام تو الف لیلوی داستانوں کی حد تک ٹھیک ہے مگر عوام کی تربیت تو ہم میں سے ہر کوئی کر سکتا ہے۔ پڑھ کر بھی، سن کر بھی اور عمل کر کے بھی۔

مگر قالین رکھنے کا شاید یہی فائدہ ہے۔ آپ صفائی کی زحمت میں پڑے بغیر، کس نے اور کیوں کی تاویل میں پڑے بغیر سکون کی نیند سو سکتے ہیں۔ روڈ پر کسی خاتون کو موچ آجائے، کسی کی موٹر سائیکل پھسل جائے، کوئی راہگیر زخمی ہوجائے یا کسی دھماکے میں کوئی زخمی ہو جائے، ہم سب کام چھوڑ کر جمع ہو جاتے ہیں، سیلفیاں بناتے ہیں یا مجروح کی حالت زار کو فیس بک کی زینت بناتے ہیں۔

کیا ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا، اور آئندہ کیسے روکا جائے کی بحث ہم سے نہ کروائیں۔ مرحوم کو مرنا چاہیے تھا یا نہیں، کیا وہ شہید ہے یا نہیں؟ بس یہ فیصلہ آپ ہم پر چھوڑ دیں۔


akthar abbas
اختر عباس اس آخری نسل کے نمائندے ہیں جس نے لکھے ہوئے لفظوں سے دور افتادہ رشتوں کا لمس محسوس کیا۔ بشکریہ ڈان نیوز

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.