مغرب کے مرشد جلال الدین رومی

  • 213 Views
  • دسمبر 17, 2017 4:50 بجے PST

pag1-image

صفہ خان

رومی محبت کا پیامبر۔ 1207ء شہر افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے اور والد کے ساتھ علم کا سفر اناطولیہ پہنچ کر شروع کیا جو روم کا پرانا نام تھا۔اصل نام محمد ابن محمد حسین حسینی خطیبی بکری بلخی تھا۔جلال الدین کا خطاب علم اور عشق کے عرفانات کی دین ہے۔ابتدائی تعلیم اس وقت کے ان علما اکرام سے حاصل کئیں جو قنذیلوں کی حیثیت رکھتے تھے۔

کہتے ہیں تعلم مکمل کرنے کے بعد رومی ؒ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے تھے اور اپنے حصے کی شمع جلانے پرمامور تھے کہ ایک دن ایک دیوانے مجذوب سے مڈبھیڑ ہوگئی۔روایت کے مطابق یہ حوض کے نزدیک طلبا کو کتب سے درس دے رہے تھے کہ نووارد نے آکر ان سے کتب کی جانب اشارہ کرکے پوچھا یہ کیا ہے؟

؟ آپ نے آنے والے کو جو دیکھا تو حلیہ دیکھ کر چہرے پر ناگواری کے تاثرات چھاگئے اور کہا، تم نہیں جان سکتے یہ کیا ہے۔ اتنے میں آنے والے نے مسکرا کر کتب کی جانب دوبارہ دیکھا تو اس میں آگ بھڑک اٹھی، رومی ؒ نے گھبرا کر مجذوب سے پوچھا یہ کیا ہے؟؟ جواب ملا،جو تم نہیں جان سکتے۔ مسافر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال کر چل پڑا اور کتب واپس اپنی حالت میں آگئیں۔مگر ساتھ ساتھ استاد رومیؒ کا چین بھی لیتا گیا

یہ تھے حضرت شمس تبریز ؒ جو آگے مرشد بنے مولانا جلال الدین رومی کے اور عشق کا ایسا سنگم ہوا کہ مغرب کا باغی خطہ ہو یا شمال اور جنوب کی جنونی ،یا مشرق کے فراست گو سب ہی اس سنگم سے منور ہوئے اور محبت عشق صداقت کے چشمے پھوٹ پڑے۔روایت ہے رومی ؒ سب کچھ چھوڑ کر شمس ؒ کے پیچھے چل پڑے تھے اور نجانے وہ کیا جذبہ تھا جس نے ایک استاد کوایک مجذوب کا دیوانہ بنا دیا تھا اور وہ وعلم کے اس چراغ کے اطراف میں کسی پروانے کی مانند گھومتے رہتے تھے۔

روایت کے مطابق شمس تبریز ؒ لوہار تھے اور جب وہ لوہا کوٹتے تھے تو اس آواز میں بھی رومی وجد کی کیفیت میں جھوما کرتے رقص کرتے۔اور یہ عشق انکی شاعری مثنویوں سے بھی ثابت ہے ۔

یہ عشق کا یہ وہی سلسلہ ہے جس کے مرید جلالیہ کہلاتے ہیں۔ابن بطوطہ اپنی تصنیف میں اس کا تفصیلی احوال بیان کرتے ہیں۔اس فرقے کے پیروکار مخصوص لباس زیب تن کرتے ہیں اور یورپ و ایشیا رشیا کی جڑی ریاستوں میں پائے جاتے ہیں اور آج کے دور میں مولویہ سلسلے کے نام سے پہچانے جاتے ہیں

ومی کا سبق تھا محبت ،رومی کا پیغام تھا محبت ،رومی کا مقصد تھا محبت، رومی کا اوڑھنا تھا،محبت رومی کا بچھونا تھا محبت۔ محبت کا دوسرا نام اگر رومیؒ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔یہ امر حیران کن ہے کہ مغرب کا خطہ رومیؒ سے اتنی عقیدت رکھتا اور محبت رکھتا ہے اور ان کے اقوال ،شاعری کو انگریزیع و دیگر زبانوں میں ترجمہ کرکے مثال بنا کے پیش بھی کی جاتی ہیں۔رومی کی کتب کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

ہمارے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ بھی رومی کو اپنا راہ نما تسلیم کرتے تھے اور اپنی شاعری میں بھی انہوں نے انکی شمس تبریز ؒ سے عقیدت اور عشق کو مثال بنا کر پیش کیا ہے۔اسکے علاوہ امریکہ میں ’’آ گفٹ آف لو‘‘کے نام سے پورا ایک مکتب فکر ہے جو رومی پر تحقیق کے موقع فراہم کرتا ہے۔اسی حوالے سے ایک دستا ویزی فلم ’’رومی، پوئٹ آف دا ہارٹ ‘‘ کے نام سے بنائی گئی ہے جو اپنی مثال آپ ہے

مولانا رومی ترکی کے شہر قونیہ میں آسود خاک ہیں اور ان کے مزار پرعقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے جو ہر مذہب اور دنیاکے ہرخطے سے آتے ہیں اور اس حیرت انگیز انسان کے علم اور عشق پر انگشت بدنداں رہے جاتے ہیں اور ان کے پھلائے ہوئے محبت کے پیغام کو علمی سطح پر عام کرتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق رومیؒ وہ واحد بزرگ علمی ہستی ہیں جن کا کلام اور کتب ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے نے عام کیا ہے۔ یورپ انہیں اپنا مانتا ہے ،ایشیاء ان پر اپنا حق سمجھتا ہے جبکہ باقی دنیا ان کے پیغام کو دنیامحبت کا بنیادی جزو تسلیم کرتی ہے۔ بقول رومی ’’سچائی کے بے شمار راستے ہیں گر جو رستہ میں نے چنا وہ محبت ہے‘‘۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.