مستقبل کا کلاس روم کیسا ہوگا؟

  • 646 Views
  • April 29, 2018 1:24 pm PST

pag1-image
درسگاہوں میں طلباء کیلئے 1:1 پلان کے تحت ٹیکنالوجیکل ڈیوائسز بطور لرننگ ٹول متعارف ہورہی ہے۔

لیاقت علی جتوئی

مستقبل کے ’کلاس روم‘ کا نقشہ نہ تو 2018ء جیسا ہوگا اور نہ ہی روایتی طرز کا، کیونکہ تعلیم اور طریقہ تعلیم تیزی سے بدل رہا ہے۔ ٹیکنالوجی اور معلومات تک بہتر اور تیز تر رسائی کے باعث کلاس روم اور تدریس کا طریقہ کار پہلے ہی بدل چکا ہے۔

ہرچند کہ، مستقبل میں مزید تبدیلیاں یقینی ہیں۔ایک زمانہ تھا، جب طلبا ء کے لیے چند کاپیاں، ایک قلم اورنصابی کتابیں کافی ہوتی تھیں۔ اسکول زیادہ سے زیادہ لیب روم کے لیے ڈیسک ٹاپ خریدلیتا تھا۔ تاہم اب یہ باتیں قصہ ماضی بن چکی ہیں۔ اب کئی تعلیمی اداروں میںان کی جگہ آئی پیڈ، میک بک ایئر اور اسمارٹ فونز نے لے لی ہے۔

طلبا کی سیکھنے کے عمل میں دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انھیںاس عمل میں مصروف رکھا جائے۔ آج کی نئی نسل ٹیکنالوجی سے بہت رغبت رکھتی ہے، جیسے لیپ ٹاپس، اسمارٹ فونز اور آئی پیڈز۔ نئی نسل کے بچے، اسی ماحول میں پرورش پارے رہے ہیں، اُنہیں اپنے ارد گرد گیجیٹس ہی نظر آتے ہیں۔ یہ اثرات تعلیمی اداروں میں بھی منتقل ہورہے ہیں۔

امریکا میں تمام تعلیمی ادارے 1:1پلان پر یا تو پہلے ہی عمل کرچکے ہیں یا اس پرعملدرآمد کرنے میں مصروف ہیں۔ 1:1پلان کا مطلب ہے، ایک بچے کے لیے ایک ڈیوائس یا پھر برنگ یور آن ڈیوائس کا کلچر متعارف کرایا جارہا ہے۔ ٹیکنالوجیکل ڈیوائس بطور لرننگ ٹولز شامل ہورہی ہیں۔

اندازہ ہے کہ آج کی نئی نسل کے بچے جب فارغ التحصیل ہوکر جاب مارکیٹ میں آئیں گے توانھیں ہر قدم پر موبائل ڈیوائسز کے ساتھ ہی کام کرنا ہوگا۔ اس وقت بھی صورت حال یہ ہے کہ کلاس روم میں ٹیکنالوجی کا استعمال تعلیم کو بدل رہا ہے۔

تعلیم اب کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی

جدید ٹیکنالوجی سے مزین ڈیوائسز جیسے آئی پیڈز کے آنے کے بعد طلباء اب کمپیوٹر لیب تک محدود نہیں رہے۔ ایک اسائنمنٹ ملتے ہی، طلباء کلاس میں بیٹھے بیٹھے، گھرپر یا بس میں اسکول آتے جاتے وقت بھی اس پر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔ موبائل کلاس روم ٹیکنالوجی، کلاس روم اور ہوم لرننگ کے درمیان پائے جانے والے فاصلے کو ختم کردے گی۔

نصابی کتب نایاب ہورہی ہیں

ایک زمانہ تھا جب چھٹیوں کے بعد واپس اسکول جانے کی تیاری کرناطلباء کے لیے ایک پرجوش عمل معلوم ہوتا تھا۔ کتابوں اورکاپیوں کے نئے بناناانتہائی دلچسپ ہوتاتھا۔ تاہم جس کور طرح تعلیمی مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے، ماہرین کا اندازہ ہے کہ نصابی کتب نایاب ہوجائیں گی۔کلاس روم میں موبائل ڈیواسز کے متعارف ہونے کے بعد ای بُکس کا استعمال بڑھ جائے گا۔ ای بکس سستی اور زیادہ اپ۔ٹو۔ڈیٹ ہوتی ہیں، ان تک رسائی بھی بہت آسان ہے اور یہ انٹریکٹو بھی زیادہ ہوتی ہیں۔

استاد اور طالب علم کا کردار بدل رہاہے

کلاس روم میںٹیکنالوجی کے آنے کے بعداستاد اور طالب علم کا کرداربدل گیا ہے۔ طلباء بہت زیادہ سرگرم اور مصروف ہوگئے ہیں۔پہلے طالب علموں کو سیکھانے کے لیے استادکو دماغی اور جسمانی طور پر بہت زیاہ محنت کرنا پڑتی تھی جبکہ طلباء کا کردار اب بڑھ گیا ہے اب اُستاد کا کردارسہولت کار والا بن گیا ہے۔

مستقبل کے کلاس روم کی جھلک

مستقبل کا کلاس روم کیسا ہوگا؟ اگر دیکھا جائے توکچھ تبدیلیاں ایسی ہیں، جوہم پہلے ہی آج کے کلاس رومز میں دیکھ رہے ہیں؛

گریڈز اور اسائنمنٹ کی آن لائن پوسٹنگ، شرکت کارسوفٹ ویئر پر گروپ پروجیکٹس مل کر مکمل کرنا، اسائنمنٹس کو آن لائن مکمل کرکے، انھیں کلاس روم پورٹل پر اپ لوڈ کرنا، فلیش ڈرائیوز پر ڈیٹامحفوظ بنانے کے بجائے کلاؤڈ اسٹوریج کو استعمال کرنا، تعلیم کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اساتذہ، والدین، طلبا ء اور ایڈمنسٹریٹرز کا باہمی رابطہ شامل ہے۔

یہ تو عمومی تعلیمی اداروں کی صورت حال ہے۔ وہ تعلیمی ادارے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں اوسط سے آگے ہیں، وہاں تو ٹیکنالوجی کا استعمال اس سے بھی زیادہ ہورہا ہے۔

مستقبل کے کلاس روم کا لے آؤٹ

کلاس روم کا تصور آتے ہی ہمارے ذہن میں قطار سے کرسیوں اور ڈیسک کا نظارہ اُبھر آتا ہے، جہاں طلباء اپنے سامنے بورڈ کے ساتھ کھڑے استاد کو دیکھ،سن اورسمجھ رہے ہیںجو انھیں ایک لیکچر دے رہے ہیں، تاہم ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ یہ نظارہ جلد ہی قصہ پارینہ بننے والا ہے۔ مستقبل میں طلباء کے بیٹھنے کے لیے کرسیوں کا بندوبست لچکدار ہوگا، جس کا تعین طلباء کو دیے جانے والے ٹاسک کی بنیاد پر ہوگا۔ مستقبل میں طلبا ء کو آرام دہ ماحول فراہم کرنے پر بھی مزید توجہ دی جائے گی۔ مستقبل کے کلاس روم کا عمومی نظارہ کچھ اس طرح کا ہوگا۔

ان طلباء کے لیے اسٹینڈنگ ڈیسک کا بندوبست، جنھیں بیٹھ کر پڑھائی کرنے میں فوکس برقرار رکھنے میں مشکلات درپیش آتی ہیں۔ ان طلبا کے لیے زیادہ جگہ بنانے کا بندوبست کرنا، جنھیں زیادہ چہل پہل کی ضرورت ہوتی ہے انفرادی کاموں کے لیے پرائیویٹ ورک اسٹیشنز ہوں گے، جب کہ گروپ پروجیکٹس مشترکہ ورک اسپیس میں مکمل کیے جائیں گے۔

انٹرایکٹیو وائٹ بورڈز کی جگہ انٹرایکٹیو پروجیکٹرز اور دیگر ٹیکنالوجی لے لے گی۔ طلبا ء کہاں اور کس طرح بیٹھنا چاہتے ہیں، اس حوالے سے انھیں زیادہ خودمختاری دی جائے گی۔ کلاس روم کی دیواریں اپنی جگہ بدل سکیں گی، جس سے کلاس روم اسپیس زیادہ آڈپٹیبل بن جائے گا۔ ورچوئل اور آگمینٹیڈ ریالیٹی کا استعمال بڑھ جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *