پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیز میں وائس چانسلر اہلیت کا طریقہ تبدیل

    February 22, 2019 10:27 pm PST
taleemizavia single page

راولپنڈی: آمنہ مسعود

پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر تقرری کے لیے اُمیدواروں کی اہلیت کی نئی پالیسی جاری کر دی گئی ہے. پالیسی کے تحت وائس چانسلر کے لیے ریسرچ پیپرز کی اشاعت کی تعداد 10 سے کم کر کے پانچ کر دی گئی ہے۔ بطور وائس چانسلر اور ڈین کے عہدے پر تجربے کے نمبرز بھی برابر کر دیے گئے ہیں

گورنر پنجاب کی بطور چانسلر منظوری کے بعد محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کی سرکاری یونیورسٹیز میں وائس چانسلرز تقرری کی اہلیت کی نئی پالیسی جاری کر دی ہے۔

نئی پالیسی کے مطابق مختلف اداروں میں انتظامی عہدوں پر بطور ایگزیکٹو آفیسر کام کرنے والے افراد بھی وائس چانسلر کے عہدے کے لیے اہل تصور کیے جائیں گے جس میں چیف فنانس آفیسر، چیف آپریٹنگ آفیسر، چیف ایگزیکٹو آفیسر، ڈی جی اور سی ٹی او کے عہدے شامل ہیں۔

سی ٹی او، سی ایف او، سی او او، سی ای او کے عہدے پر تقرری کے 2 نمبرز، این جی اوز میں بطور ڈائیریکٹر5 سال کام کرنے کے 10 نمبرز جبکہ 3 سال تعیناتی کے 7 نمبرز مقرر کیے گئے ہیں۔ ان پوزیشنز پر کام کرنے والے افراد کو ایک سال کا تجربہ ہونے پر دو نمبرز اور ڈائریکٹرز کے عہدے پر کام کرنیوالے کو ایک سال تجربہ کا ایک نمبر دیا جائے گا۔

قومی و بین الاقوامی اداروں سے 50 کروڑ سے 1 ارب کے درمیان تک کی گرانٹ جیتنے پر 5 نمبر اور اُمیدوار کو 100 ملین سے 499 ملین تک کی گرانٹ جینتے پر 3 نمبرز ملیں گے۔

نجی و سرکاری کمپنیوں میں تقرری کا طریقہ کار بھی واضح کیا گیا ہے جس کے مطابق ایسی نجی کمپنی میں جہاں 500 سے زائد ملازمین ہوں، سرمایہ 250 ملین روپے ہوں اور سالانہ ٹرن اوور 500 ملین روپے ہو جبکہ سرکاری کمپنی جہاں ملازمین کی تعداد 1000 سے زائد ہو، اخراجات 1 ارب روپے سے زائد ہوں۔

پنجاب حکومت کی اس نئی پالیسی کے تحت پی ایچ ڈی اور ایم فل ڈگری کے نمبر دینے کا طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا گیا۔

پی ایچ ڈی ڈگری کے 10 نمبرز جبکہ متعلقہ مضمون میں پی ایچ ڈی کے 2 نمبرز، ایم فل ڈگری کے 5 نمبرز اور متعلقہ مضمون میں ایم فل کرنے کے 2 اضافی نمبرز ملیں گے۔۔ دُنیا کی پہلی 500 بہترین یونیورسٹیز سے پی ایچ ڈی ہونے پر 8 نمبرز اضافی دیے جائیں گے۔

اسی طرح وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر یا ڈین کے عہدے پر کام کرنے کے فی سال کے2 نمبرز اور چیئرمین، پرنسپل اور بطور پروفیسر کام کرنے کا فی سال کا ایک نمبر مختص کیا گیا ہے۔

10 سے زائد ریسرچ آرٹیکلز کے 10 نمبرز جبکہ 5 سے 9 کے درمیان ریسرچ آٹیکلز کی اشاعت کے 5 نمبرز مقرر کیے گئے ہیں۔

ریسرچ آرٹیکلز، کتاب، اور ریسرچ اینڈ پالیسی دستاویز لکھنے کے مجموعی نمبرز 10 مقرر کیے گئے ہیں۔

ایک پیٹنٹ رجسٹرڈ کرانے کے 4 نمبرز، ریسرچ اینڈ پالیسی دستاویز لکھنے کا ایک نمبر ہوگا۔ریسرچ ایوارڈز، سول ایوارڈز ملنے کے 5 نمبرز مقرر کیے گئے ہیں۔

پالیسی کے مطابق سرچ کمیٹی اُمیدواروں کی سکروٹنی کرے گی اور سرچ کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ٹیکنیکل ریویو کمیٹی تشکیل کرے جو اُمیدواروں کی جانچ پڑتال کرے گی۔

واضح رہے کہ پنجاب کی بارہ سرکاری یونیورسٹیوں‌ میں وائس چانسلر تقرری کا اشتہار جمعرات کو جاری کیا گیا ہے اور اس کے لیے اُمیدواروں سے 8 مارچ تک درخواستیں‌ وصول ہوں گی.