یو ای ٹی: نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم پر ماہرین تعمیرات کی منفرد تجاویز

  • October 18, 2018 10:31 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں وزیر اعظم عمران خان کے “نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام”کے تحت پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

کانفرنس میں منسٹر پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ڈویلمپنٹ میاں محمود الرشید، وائس چانسلریو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد اور ڈین آرکیٹیچر ڈاکٹر غلام عباس انجم سمیت ملک بھر سے 50سے زائد ہاؤسنگ ماہرین نے شرکت کی اور تجاویز پیش کیں۔

گول میز کانفرنس میں شریک ماہرین تعمیرات کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں مارکیٹ میں موجود خالی پلاٹوں پرمکان سازی کا عمل شروع کرایا جائے اور دوسرے مرحلے میں تیار شدہ مکانات کے پراجیکٹ شروع کروائے جائیں۔اسطرح حکومت کا آدھا لوڈ زمین کی قیمت کی مد میں کم ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت گوگل سروے کے ذریعے ہر پلاٹ اور اس کے مالک کی نشاندہی کرے اگر مالک کے پاس روپیہ نہیں ہے تو حکومت اس کو قرض دے گی۔

ماہرین کا خیال تھا کہ سرمایہ کاروں کو مکان سازی کی طرف راغب کرنے کیلئے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے اور خالی پلاٹوں پر شکنجہ تنگ کیا جائے۔رینٹ ایکٹ میں سرمایہ کاروں کیلئے سہولت پیدا کی جائے تاکہ مالکان کو کرایہ داروں کے قبضے کا خوف نا ہو اور ساتھ ہی کرائے کا لین دین ہاؤسنگ بینک کے ذریعے کیا جائے تاکہ مالک کو کرایہ وصول کرنے میں آسانی ہو۔

ماہرین تعمیرات و اقتصادیات اور پروفیسرز کا گول میز کانفرنس میں مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ پلاٹوں کے مالکان کیلئے مفت نقشہ بنانے کی سہولت مہیا کرے اور تمام نقشے ایک ہی معیار کے ہوں تاکہ حکومت اپنی فیکٹریاں بنا کر سستا مٹیریل فراہم کر سکے ۔

مزید برآں شہروں کے پرانے شکستہ علاقوں اور کچی آبادیوں میں تجدیدی منصوبے بنائے جائیں اور پرائیویٹ ڈویلپروں کے کاروبار حکومت اپنی سرپرستی میں لیکر ان کی مدد کریں۔آبادیوں کے مسائل کا حل مربوط ٹاؤن پلاننگ نظام کے بغیر ممکن نہیں اس نظام کو ماسٹر پلاننگ سے منسلک کر کے ارتقائی طور پر ماسٹر پلاننگ کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے.

کانفرنس میں وزیر پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ڈویلمپنٹ میاں محمود الرشید نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے منشور کے تحت پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر اس پائلٹ پروجیکٹ کا آغازسات اضلاع میں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کے اس پروجیکٹ کے لئے ایک وفاقی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے ہے جو ڈویپرز کیلئے ون ونڈ و آپریشن کے تحت زیادہ سے زیادہ نوے دن میں دفتری کاروائی پوری کرنے کی مجاز ہوگی اور گھروں کی تعمیر کے لئے ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ریلوے ہاؤسنگ منسٹری اور دیگر سرکاری زمین کو نیا پاکستان ہاؤسنگ کے حوالے سے استعمال میں لانے کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا.

Leave a Reply

Your email address will not be published.