پشتو اور ہندکو لٹریچر میں اضافہ

    January 9, 2019 1:17 pm PST
taleemizavia single page

پشاور: 2017 کے مقابلے میں 2018ء میں پشتو اور ہندکو کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہےگزشتہ سال پانچ ہزار کے قریب پشتو اور 60 ہندکو کتابوں کی اشاعت ہوئیں جبکہ صوبے میں صرف 20 اردو کی کتابوں کی اشاعت ہوئی ہے۔

محکمہ ثقافت خیبر پختونخوا کی طرف سے 2018 ء میں ادب ٗثقافت کے حوالے سے کوئی کتاب شائع نہیں کی گئی محکمہ کی طرف سے صوبہ بھر کے ادیبوں ٗشعراء سے کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے مسود ے طلب کئے گئے تھے لیکن کوئی کتاب شائع نہیں کی گئی۔

2018ء میں بحرانی کیفیت ٗ پرنٹنگ پریس کی صنعت میں کافی مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے کے باوجود اور اور اسی طرح کتاب بینی کی عدم شوق کے باوجود ، خیبر پختونخوا، افغانستان اور متحدہ عرب امارات میں مختلف اداروں نے اگلے برس کے دوران ادب اور دیگر موضوعات پر پشتو زبان میں پانچ ہزار کے قریب کئی کتابیں شائع کی ہیں۔

شعراء، ادباء، محقیقین اور نقاد سوشل میڈیا پر بھی کافی فعال رہے، اور اپنے منثور اور منظوم فن پاروں کو سوشل میڈیا کے مختلف ویب سائٹس پر شائع کرتے رہے۔

بحرانی کیفیت ٗکاغذ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتابیں پڑھنے والوں کی کمی کے باوجود کتابوں کی اشاعت میں اضافہ مثبت رحجان ہے سال 2018 میں ادب کے مختلف موضوعات پر سیمینارز، کانفرنسیں ، کتاب میلے، مشاعروں اور مباحثوں کا انعقاد کیا گیا۔
گذشتہ سال کے مقابلے میں 2018ء میں خواتین مصنفین اور لکھاریوں نے بڑی تعداد میں ادبی منثوراو منظوم کتب شائع کئے ہیںپشاورمردان، کوئٹہ، کراچی، کابل، جلال آباد، کندھار اور عرب امارات میں پشتو اردو اور ہندکو کے وسیع بنیاد پر نثر، نظم،تاریخ، تحقیق، تنقید اور ادب کے دیگر موضوعات پر کافی کتابی مواد منظر عام پر آگئے۔

اگرچہ بھرپور کوشش کے باوجو د پشتو کتابوں کی اشاعت کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی اور یہی بتایا گیا کہ 2017 کی نسبت 2018ء میں تعداد دوگنی ہے لیکن پبلشرز سے معلوم ہوا ہے کہ 2017ء کے مقابلے میں اس سال کہیں زیادہ کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہے اور انکی تعداد دگنی ہے حالانکہ 2017ء کے مقابلے میں 2018ء میں پبلشنگ کے صنعت میں کافی مہنگائی بھی آگئی ہے

پشتو اکیڈیمی میں کتب فروش انور خان لالا کا تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ سال 2018میں برطانیہ اور امریکہ میں مقیم پشتونوں نے بڑی تعداد میں تاریخ، ثقافت اور ادب پر لکھے گئے کتب حاصل کئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آن لائن پیج پر ہمیں تاریخ ثقافت ادب اور دیگر موضوعات پر اچھے اچھے ریڈررز ملے اور انہوں نے اسی قسم کتب کا مطالبہ کیا، سال 2018ء میں دو بڑی کامیابیاں ادب کے حوالے سے وقوع پذیر ہوئے ایک یہ کہ خوشحال خان خٹک کے اپنے ہاتھ کا لکھا گیا نسخہ کابل میں شائع کیا گیا اور دوسرا بایزید انصاری کا “خیرالبیان” کا قلمی نسخہ بھی کابل میں شائع کیا جارہا ہے۔

یہ بھی ایک خوش آئند بات ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف محقیقین مؤرخین، ادبی سکالرز اور شعراء کے مابین ادبی مذاکرے ہورہے ہیں۔
پشتو زبان کے ادیب ابراہیم رومان نے اردو کلاسیک ادیبوں کے نمائندہ 16 افسانہ نگاروں کے افسانے پشتو میں ترجمہ کئے ہیں جو کہ شواخون کے نام سے شائع ہیں جن میں سید سجاد حیدر، کرشن چندر، منشی پریم چند، راجندر سنگھ بیدی، احمد علی، احمد ندیم قاسمی، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، قراۃ العین حیدر، قدرت اللہ شہاب، ممتاز مفتی اور اشفاق احمد شامل ہیں۔

اسی طرح نوجوان نقاد اور محقق نے “تنقیق” کے نام سے ایک ایسی شاہکار کا اضافہ کیا ہے جس میں تنقید اور تحقیق کے امتزاج سے پشتو ادب میں ایک قیمتی اضافہ کیا ہے۔

پشاور کے پبلشنگ صنعت سے وابستہ پبلشر اور شاعر ادیب ایازاللہ ترکزی نے کہا کہ تحقیق، تنقید، فکشن، تاریخ اور دیگر ادبی موضوعات پر مبنی کتب نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ اور بڑی تعداد میں پشتو اور اردو کتب شائع ہورہے ہیں جو کہ آیک خوش آئند بات ہے جس سے اندازہ لگتا ہے کہ پڑھنے والے موجود ہیں جو کتب بینی کے شوقین ہیں۔

معروف ادیب دانشور ہندکو اکیڈمی کے بورڈ آف گورنر کے ممبر ڈاکٹر صلاح الدین نے بتایا کہ گندھارا ہندکو اکیڈمی کا قیام کو تین سال ہونے کو ہے اور اب تک اکیڈمی نے تین سالوں میں 300 سے زائد کتب شائع کی ہیں اور 2018ء میں ہندکو کی 60 سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

جبکہ بہت سی ابھی اشاعت کے مراحل میں ہے ان میں ہندکو شاعری ٗنثری ٗتخلیقی اور تحقیق شامل ہیں۔