جامعات کی تعمیر نو اور بیوروکریسی

    September 29, 2018 8:57 pm PST
taleemizavia single page

ڈاکٹر خالد منظور بٹ

63 سال کے طویل انتظار کے بعد بالآخر سال 2010ء میں پارلیمان سے 18 ویں آئینی ترمیم کی صورت میں مرکزسے صوبوں اور صوبوں سے مقامی حکومت تک اختیار کی منتقلی یعنی De-Centralization کی منظوری دی گئی تاکہ اداروں کو مزید خود مختار بنا کر کارکردگی اور فعالیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ نتیجتاً وفاقی حکومت کے قوانین کی نظر ثانی شدہ فہرست میں تعلیم کو صوبوں کے دائرہ اختیار میں دے دیا گیا۔

اس پسِ منظر میں بجائے اس کے کہ خود مختاری بار آور ثابت ہوتی، پنجاب کے اعلیٰ تعلیمی ادارے اور جامعات بیورو کریسی کے کورکھ دھندوں کا شکار ہو کر بہت سے مالی اور انتظامی مسائل میں پھنس چکے ہیں۔ اس صورتحال نے اس منظر کی یاد تازہ کر دی جب جامعات وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت ہوا کرتی تھیں اور صوبوں کے گورنرز ان جامعات کو کنٹرول کرتے تھے۔

اگرچہ بنیادی طور پر صوبے کی جامعات کو پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ماتحت کام کرنا چاہیے لیکن تاحال یہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے کا حصہ ہے جس کی وجہ سے مختلف معاملات پر فیصلہ سازی میں غیر ضروری تاخیر ہو رہی ہے. سرکاری جامعات میں وائس چانسلرز،ڈینز،رجسٹرارز،کنٹرولرز اور خزانچی کی تقرری کے لیے سرچ کمیٹیوں کی تشکیل اور نوٹیفکیشن کے اجراء میں غیر ضروری حیلے بہانے سے تاخیر کی جاتی ہے جس کے باعث سرکاری جامعات کی کارکردگی اور فعالیت بُری طرح متاثر ہورہی ہے۔

کارکردگی کی جانچ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بیشتر جامعات میں رجسٹرارز، نگران امتحانات، اور خزانچی اضافی چارج یا عارضی چارج پر کام کر رہے ہیں جن میں سے زیادہ تر متعلقہ آسامیوں کے لیے مقرر کردہ اہلیت، تجربہ اور پیشہ وارانہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ زیادہ تر یونیورسٹیوں کے چارٹرزخاص طور پر نو زائیدہ جامعات کے اس طرح سے ڈیزائن کیے جاتے ہیں جو ان جامعات کی خود مختاری کو کمزور بناتے ہیں۔

صوبائی حکومت یونیورسٹیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے خاص استحقاق تو رکھتی ہے جو اس کو جامعات کی سرچ کمیٹیوں، سنڈیکیٹس اور دیگر تنظیموں میں اپنی مرضی کے افراد کو ایڈجسٹ کروانے میں مدد دیتی ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر سرکاری یونیورسٹیوں کوسالانہ گرانٹ فراہم نہیں کرتی۔ اسی طرح بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے سے متعدد سرکاری یونیورسٹیوں کی مالیاتی صورتحال خراب ہوگئی ہے۔ جامعات کو پرگراموں کی فیسیں بڑھا کراپنی آمدنی میں اضافہ کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی افراط زر اور مہنگائی کے اس دور میں اپنے خرچے پورے کرنے کے لیے کوئی اضافی مالی امداد دی جاتی ہے۔

در حقیقت ،وائس چانسلروں کو پیچیدہ اور طویل طریقہ کار کی وجہ سے ایسے کاموں کی منظوری کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرنے کی بھی پوری آزادی نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے سیکرٹری کی تقرری اور بار بار تبدیلی پورے محکمے کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے کیونکہ کوئی بھی سیکریٹری چند ماہ سے زیادہ اس محکمہ میں نہیں گزارتا ہے اس کو تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

موجودہ سیاسی تبدیلی کے تناظر میں مرکز اور صوبے کی سطح پر امید کی جا سکتی ہے کہ تبدیلی کا نعرہ خاص طور پرہماری جامعات کو حقیقی معنوں میں علم و دانش کے مرکز بنانے میں حقیقت کا روپ دھارن کرے گا۔ ہم پر امید ہیں کہ نئی حکومت اس طرح کے مسائل کو سنجیدگی سے دیکھے گی اور عملدرآمد میں غیر ضروری تاخیر کا سبب بننے والے عوامل سے نجات دلائے گی اور یونیورسٹیوں کو سماجی ترقی کے میدان میں معیار زندگی کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔

جیسا کہ موجودہ حکومت نوجوان طبقہ کو زیادہ کارگر بنانے او ان کے اندر ہنر مندی کو پروان چڑھانے کے لیے تعلیم، خاص طور پر اعلیٰ تعلیم کو ترجیح بنانے پر پرعزم ہے، اس سلسلے میں ذیل گذارشات تعلیمی معیار اور اداروں کی فعالیت میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

1. فی الحال، وفاقی سطح پر تعلیم کے لیے بجٹ میں جی ڈی پی کا 2 فیصد سے بھی کم مختص کیا گیا ہے جو کہ بہت کم ہے۔ لہٰذا کم از کم تعلیم کو جی ڈی پی کا4 فیصد جبکہ اس کا ایک چوتھائی حصہ اعلیٰ تعلیم کے معیار اور توسیع کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔

2. صوبائی حکومت کے سیاسی سربراہ کے بجائے، گورنر یونیورسٹیوں کے چانسلرز کے طور پر ذمہ داری کو بہتر سر انجام دے سکتے ہیں۔

3. سنڈیکیٹس کی خود مختاری کو یقینی بنایا جائے اور مزید اختیارات دیے جائیں تاکہ کوئی بھی حکومت غیر ضروری طور پر ان کے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو سکے۔

4. متعلقہ تجربہ کاراور پیشہ ور افراد کو سنڈیکیٹ کا حصہ بنانا چاہیے۔

5. یونیورسٹیوں کو بہتر طریقے سے منظم کام کرنے کے لیے پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کو با اختیار بنانا انتہائی ضروری ہے۔

6. غیر ضروری تا خیر کی وجہ بننے والے عوامل کی بیخ کنی کی جانی چاہیے، ایک علیحدہ سیکریٹری یونیورسٹیز کی تقرری کی مدت 3 سال سے کم نہ ہو کی نگرانی میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو آسان اور مختصر بنایا جانا چاہیے۔

7. خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے یونیورسٹیوں کے چارٹروں پر دوبارہ نظرثانی ہونا چاہیے۔ٕ

8. مالی بوجھ کم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو یونیورسٹیوں کو سالانہ گرانٹ کی فراہمی یقینی بنانا چاہیے۔

انتظامی معاملات میں وقت کا ضیاع روکنے اور مداخلت سے بچنے کے لیے موجودہ وائس چانسلرز کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی نئے وائس چانسلرز کی تقرری کو یقینی بنانا چاہیے۔ یونیورسٹیوں کے معاملات میں سیاسی مداخلت کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ایڈہاک پالیسی کی حوصلہ شکنی کر نی چاہیے اور خالی آسامیوں پر باقاعدہ تعیناتیاں کی جائیں۔
بہترتعلیمی ماحول کے لیے یونیورسٹیوں کو غیر سیاسی کیا جانا چاہیے، اور پیشہ وارانہ رویہ کو فروغ دینا چاہیے۔

ان اقدامات پر عملدرآمد اگرچہ ایک مشکل امر ہے تاہم اگر سیاسی عزم ہو تو یہ ممکن ہے ۔ جتنا جلدی اس چیز کو کیا جاتا ہے اتنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بہتر جامعات ہی ملک کے بہترین مستقبل کی علامت ہیں۔


پروفیسر ڈاکٹر خالد منظور بٹ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں شعبہ سیاسیات کے چیئرمین ہیں.