پنجاب میں یکساں نظام تعلیم کیلئے نصاب اتھارٹی کے قیام کی تجویز

    August 3, 2019 1:13 pm PST
taleemizavia single page

لاہور: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے لیے نصاب اتھارٹی ( کریکولم اتھارٹی) قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے.

محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ نئے سسٹم کے تحت ثانوی جماعت یعنی میٹرک تک پانچ مضامین لازمی ہونگے۔ ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ان پانچ لازمی مضامین می ہی امتحانات لیے جائینگے۔

ذرائع نے بتایا کہ نجی ادارے ان پانچ لازمی مضامین کے علاوہ بھی کورس پڑھا سکیں گے، تاہم امتحان پانچ مضامین کا ہی لیا جائیگا. نئے تعلیمی نظام کا نفاذ 2020 سے ہوگا۔

اس سے قبل پنجاب حکومت نے تمام مضامین انگریزی کے بجائے اردو میں پڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 45 فیصد بچے لکھ اور دیکھ کر پڑھنے سے قاصر ہیں۔

ایک سروے رپورٹ کے مطابق پنجاب میں پانچویں جماعت کے 30 فیصد بچے انگریزی اور اردو پڑھنے سے اور ریاضی کا سوال حل کرنے سے قاصر ہیں۔

ادارہ تعلیم و آگاہی کی ایک رپورٹ کی مطابق پنجاب بھر میں 6 سے 16 سال کی عمر کے 89 فیصد بچے اسکولوں میں داخل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تناسب 2016 میں 86 فیصد تھا۔

واضح رہے کہ 2007ء میں‌ پنجاب کریکولم اتھارٹی قائم کی گئی تھی تاہم 2014ء میں‌ اس اتھارٹی کو پنجاب ٹیکسٹ بُک بورڈ میں ضم کر دیا گیا تھا جس کی منظوری پنجاب اسمبلی سے حاصل کی گئی تھی.