پنجاب میں وائس چانسلرز کانفرنس میں حکومتی پاپندی کی سنگین خلاف ورزی

    November 6, 2020 10:29 pm PST
taleemizavia single page

اکمل سومرو ) ملک کو درپیش معاشی مسائل کے پیش نظر حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کی پالیسی کا نفاذ کیا گیا، اس پالیسی کے تحت پنجاب حکومت نے سرکاری خرچے پر نجی ہوٹل میں تقریبات کے انعقاد پر بھی پاپندی عائد کی تھی۔

حکومت پنجاب کی جانب سے پاپندی کا یہ نوٹیفیکیشن 27 اگست کو صوبے بھر کے تمام محکمہ جات کے سربراہان کو جاری کیا گیا تھا۔ 

حکومتی پاپندی کی خلاف ورزی میں گورنر پنجاب اور وزیر ہائیر ایجوکیشن بھی شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن گورنر پنجاب کے سیکرٹری، تمام خود مختار اداروں کے سربراہان اور سرکاری محکمہ جات کے سیکرٹریز کے نام بھی الگ الگ جاری کیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت نے نجی ہوٹل میں سرکاری اخراجات کے تحت ورکشاپ، سیمینارز اور کانفرنسز کے انعقاد پر مکمل پاپندی عائد کی تھی، اس پاپندی کے باوجود پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے لاہور کے نجی ہوٹل فلیٹیز میں 5 روزہ لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ پروگرام کے عنوان پر ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا۔ 

پانچ روز تک جاری رہنے والی اس ورکشاپ میں صوبے بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں سے 34 وائس چانسلرز کو مدعو کیا گیا تھا، لاہور کے علاوہ دیگر شہروں سے 25 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پانچ روزہ ورکشاپ میں شریک ہوئے۔ 

پی ایچ ای سی کے تحت منعقدہ اس ورکشاپ میں چنیدہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے حکومتی پاپندی کو مسترد کرتے ہوئے دیگر شہروں سے آنے والے وائس چانسلرز کے لیے فلیٹیز ہوٹل میں پانچ روز کیلئے ایگزیکٹیوز کمروں کی بکنگ کرائی جس میں ناشتہ، لنچ اور مفت ڈنر کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ 

تفصیلات کے مطابق فلیٹیز ہوٹل میں ایگزیکٹو کمرہ کی ایک رات کے لیے 20 ہزار روپے میں بکنگ کی جاتی ہے۔  

حیران کن امر یہ ہے کہ حکومتی پاپندی کے باوجود گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور اور وزیر ہائیر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں نے وائس چانسلرز کانفرنس کی اختتامی تقریب میں خصوصی طور پر شرکت کی۔  

ملک میں اقتصادی صورتحال کے پیش نظر یونیورسٹیوں کی فنڈنگ پر کٹوتی کی گئی اور امسال پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ پر بھی پچاس فیصد سے زائد کٹوتی کی گئی تھی۔ فنڈز کی قلت کے باعث مختلف سرکاری یونیورسٹیوں نے طلباء کی فیسوں میں بھی اضافہ کیا اور اساتذہ کے سکالر شپ میں بھی چالیس فیصد تک کمی کر دی گئی۔

پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے سرکاری خرچے پر وائس چانسلرز کی تربیت کے لیے نجی اداروں کے ٹرینرز کو بھاری معاوضے دیے گئے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ورکشاپ میں شریک وائس چانسلر نے کہا کہ نجی اداروں سے انتہائی محدود تجربے کے حامل افراد انھیں ٹریننگ دینے کے لیے آئے اور نجی اداروں کے منظور نظر افراد کو تجربہ کار وائس چانسلرز کی ٹریننگ کے لیے بلایا گیا۔

وائس چانسلر نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان اس کا نوٹس لیں اور ورکشاپ پر ہونے والے اخراجات کی رپورٹ طلب کریں

فنڈز کی قلت اور حکومتی پاپندی کے باوجود سرکاری خرچے پر پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بھی ٹریننگ میں شامل کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *