پاکستان کے خوبصورت تعلیمی ادارے

    March 31, 2019 2:35 pm PST
taleemizavia single page

رپورٹ: تعلیمی زاویہ

جان کیٹس نے اپنی نظم “اے تھنگ آف بیوٹی از جوائے فارایور” میں بالکل درست کہا کہ کوئی بھی شخص قدرتی حُسن کا انکار نہیں کرسکتا، ہم میں سے ہر ایک خوبصورت دکھنا چاہتا ہے اور اپنے ارد گرد خوبصورت اشیاء کو پسند بھی کرتا ہے۔

پھر ہم تعلیمی ادارے کو منتخب کرنے کے دوران اس پہلو کو کیسے نظر انداز کرسکتے ہیں۔ کتنی مرتبہ ایسا ہوا کہ ہمارے والدین نے کالج کو منتخب کرتے ہوئے اس کے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ اس کی خوبصورتی کو بھی مد نظر رکھیں؟

کالج سے وابستہ یادیں زندہ رہتی ہیں پھر کیوں نہ ایسے خوبصورت کالج کا انتخاب کیا جائے جو ان یادوں کو میٹھا بھی رکھے۔ ذیل میں ہم آپ کو پاکستان کے ایسے کالج دکھاتے ہیں جو تعلیمی معیار اور خوبصورتی کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

چنار آرمی پبلک سکول، مری

chinar-army-school-jpg2

یہ کالج کوئین آف ہلز مری میں واقع ہے۔ پاکستان آرمی کے تحت اس کالج کا آغاز 1990ء میں ہوا۔ خوبصورت پہاڑوں اور ارد گرد کے قدرتی مناظر انتہائی دل لبھا دینے والے ہیں۔ عمومی طور پر سردیوں کے موسم میں اس کالج کی عمارت کو برف کی چادر اوڑھ لیتی ہے لیکن گرمیوں میں یہاں گرمی کا احساس بالکل بھی نہیں ہوتا۔

برن ہال کالج، ایبٹ آباد

burn-hall-college-jpg-2

برن ہال کالج کی خوبصورتی بھی قابل دید ہے ایبٹ آباد میں اس کالج کا قیام 1948ء میں ہوا۔ موسم گرما میں چنار درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں اور موسم سرما میں برف باری سے اس کالج کا حُسن دوبالا ہوجاتا ہے۔ اس کالج میں لگے چنار کے درخت ٹھنڈک اور تازگی کا خوب احساس پیدا کرتے ہیں۔

ایچی سن کالج، لاہور

aitchison-beauty-jpg2

ایچی سن کالج کا شمار پاکستان کے قدیم ترین کالجوں میں ہوتا ہے اور یہاں کا معیار تعلیم اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہاں کا میرٹ اور ضوابط سخت ہونے کی بناء پر داخلہ لینا قدرے مشکل ہوتا ہے۔

ایچی سن کالج 1886ء میں بنایا گیا، اس کالج میں سبزہ، درختوں کی ورائٹی اس کے حُسن میں اضافہ کرتی ہے۔ جبکہ اس کالج کی عمارت مغل اور جدید آرکیٹیکچر کا بہترین امتزاج ہے۔

یہ کالج لاہور کے خوبصورت مال روڈ پر واقع ہے۔

لارنس کالج، گوڑا گلی مری

lawrence-college-jpg3

ہمالیہ اور پیر پنجال کے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان یہ کالج بنایا گیا ہے۔ اگرچے اس کالج کا شمار پاکستان کے ایلیٹ کالجوں میں ہوتا ہے لیکن یہاں کا قدرتی حُسن بے مثال ہے۔

گوڑا گلی مری میں واقع اس کالج کو خوبصورت پہاڑوں ، درختوں اور قدرتی حُسن نے گھیر رکھا ہے۔

اس کالج کو 1860ء میں بنایا گیا جس کا کل رقبہ 150 ایکڑ ہے۔

صادق پبلک سکول، بہاولپور

spss

یہ سکول تاریخی شہر بہاولپور میں واقع ہے تقسیم ہند سے پہلے یہ خطے کی امیر ترین ریاست میں شمار ہوتا تھا۔ اس کالج کا افتتاح 1954ء میں نواب آف بہاولپور نے کیا۔ اس کا مجموعی رقبہ 1851 ایکٹر ہے جو پاکستان بلکہ ایشیاء کے کسی بھی سکول اور کالج کا سب سے بڑا رقبہ۔ جو 7٫5 کلو میڑ تک پھیلا ہوا ہے۔

اس کالج کی پرانی عمارت اور یہاں پر لگے درخت ہی اس کی خوبصورتی ہیں۔ کالج کا معیار تعلیم اور روایات بھی مثالی ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی، لاہور

campuspu9876

مال روڈ پر جہاں بے شمار تاریخی عمارتیں ہیں وہیں پنجاب یونیورسٹی کی پُرشکوہ عمارت بھی طلباء کے لیے کشش رکھتی ہے۔ 1882ء میں مغل فن تعمیر کی طرز پر یہ عمارت بنائی گئی۔

اسے اب پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کہا جاتا ہے، یہاں پر موجود کالج آف آرٹ ایںڈ ڈیزائن، کالج آف فارمیسی اور کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں داخلہ لینا طلباء کی خواہش ہوتی ہے۔

اس عمارت کے چاروں اطراف لگے درخت اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔

گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی) لاہور

gc-university-lahore21

گورنمنٹ کالج (یونیورسٹی) اپنی روایات کے باعث منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہاں کا انٹرمیڈیٹ پروگرام اس کی شناخت ہے۔ کالج کی مرکزی عمارت کے سامنے اوول گراؤنڈ، مغربی طرف ایمفی تھیٹر اور علامہ اقبال ہاسٹل کی خوبصورتی انتہائی جاذب نظر ہے۔

یہاں کے “لو گارڈن” کے ساتھ بے شمار داستانیں وابستہ ہیں جس کا تذکرہ بانو قدسیہ کے ناولز میں بھی ملتا ہے۔ وکٹورین طرز کی اس عمارت کو گھنے درختوں نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

کالج کی یہ عمارت 1874ء میں مکمل ہوئی تھی جہاں سر گنگا رام اور کنہیا لال جیسے نامور انجینئرز نے تعلیم حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج میں پڑھنا اور راوین کہلانا آج بھی فخر سمجھا جاتا ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *