کراچی بورڈ: میٹرک میں سرکاری سکولوں کے صرف 9 فیصد طلباء پاس ہونے کا انکشاف

    October 8, 2019 12:25 pm PST
taleemizavia single page

کراچی: صفدر رضوی

سندھ میں سرکاری اسکولوں پر اربوں روپے سالانہ کے اخراجات، طالبات کو وظائف اورپہلی سے دسویں جماعت کے طلبا و طالبات کودرسی کتابوں کی مفت تقسیم کے باوجودمیٹرک بورڈ کراچی کے نتائج نے سرکاری اسکولوں کے معیارکاپول کھول دیاہے۔

کراچی میں رواں سال 2019کے میٹرک کے سالانہ امتحانات میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے انتہائی ہوش رُبا نتائج ہیں۔ واضح رہے کہ میٹرک سائنس کے امتحانات میں مجموعی طورپر کل 161882طلبا وطالبات شریک ہوئے تھے جن میں سے 110924امتحان میں پاس ہوئے۔

کراچی کے 288سرکاری اسکولوں سے طلبا وطالبات نے میٹرک کے امتحانات میں شرکت کی تھی جبکہ 6949نجی اسکولوں کے طلبہ میٹرک کے امتحان میں شریک ہوئے۔

ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج کے مطابق میٹرک سائنس کے امتحانات میں سرکاری ونجی تعلیمی اداروںکے مجموعی طورپرپاس ہونے والے طلبہ کی تعداد(ایک لاکھ 10ہزار924)ہے تاہم ان میں سرکاری اسکولوں کے محض 9فیصد طلبہ و طالبات شامل ہیں۔

110924 بچوں میں سے سرکاری اسکولوں کے محض (10ہزار85)طلباوطالبات نے میٹرک کاامتحان پاس کیاہے۔ ان میں 1.7فیصد نے اے ون گریڈ ،11فیصد نے اے گریڈ،27.4نے بی گریڈ،37.6نے سی گریڈ ،21.5نے ڈی گریڈاور0.6نے ای گریڈ حاصل کیا۔

دلچسپ امریہ ہے کہ میٹرک کے امتحانات میں کُل 5206لڑکوں نے اے ون گریڈ حاصل کیاہے جن میں سرکاری اسکولوں کے صرف 26لڑکے شامل ہیں،یہ لڑکوں کی مجموعی تعدادکا0.4فیصدہے یعنی اے ون گریڈ حاصل کرنے والے میٹرک کے لڑکوں میں سے سرکاری اسکولوں کے لڑکوں کی تعداد ایک فیصدسے بھی کم ہے۔

اسی طرح میٹرک سائنس کے امتحانات میں پاس ہونے والے مجموعی امیدواروں میں سے 10688طالبات نے اے ون (A1)گریڈ میں امتحان پاس کیاجن میں سرکاری اسکولوں سے اے ون گریڈ لینے والی طالبات کی تعداد148ہیجواے ون گریڈ لینے والے مجموعی طالبات کی 1.3فیصدہے۔

یادرہے کہ میٹرک کے امتحانات میں کُل 15894طلباو وطالبات نے اے ون گریڈ حاصل کیاتھا۔ اے ون گریڈ حاصل کرنے والے طلبہ کی اس مجموعی تعداد میں سرکاری اسکولوں کے محض 1.0فیصدطلبا شامل ہیں ۔ سرکاری اسکولوں سے کل 174طلبہ نے اے ون گریڈ حاصل کیاہے اورپاس ہونے والے سرکاری اسکولوں کے کل 10085طلبہ میں سے 1.7فیصداے ون گریڈ لے سکے ہیں۔

اعدادوشمارکے مطابق سرکاری اسکولوں کے جن 10085طلباء وطالبات نے میٹرک کاامتحان پاس کیاہے ان میں 5298لڑکے اور4787لڑکیاں شامل ہیں۔میٹرک سائنس کے امتحانی نتائج کے سرکاری اسکولوں کے حوالے سے موصولہ اعداد و شمار مزید دلچسپ ہیں۔

مزید براں سرکاری اسکولوں کے کل 1110طلباء وطالبات نے میٹرک کے امتحانات میں اے (A)گریڈ سے کامیابی حاصل کی جن میں 258لڑکیاور852لڑکیاں شامل ہیں۔ پاس ہونے والے سرکاری اسکولوں کے کل طلبہ میں سے 11فیصد اے گریڈ میں پاس ہوئے ۔

واضح رہے کہ میٹرک سائنس کے نتائج میں مجموعی طورپر 30608طلباوطالبات نے اے گریڈ میں امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی اوراے گریڈ حاصل کرنے والی طلبہ کی مجموعی تعدادمیں سے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی تعداد3.6فیصد ہے۔

اے گریڈ حاصل کرنے والے لڑکوں کی کل تعداد13329اورلڑکیوں کی کل تعداد17279ہے۔ اس طرح اے گریڈ حاصل کرنے والے لڑکوں کی مجموعی تعدادمیں سے سرکاری اسکولوں کے لڑکوں کی تعداد 1.9 فیصدہے جبکہ مجموعی طورپرجن لڑکیوں نے اے گریڈ حاصل کیاہے ان میں سرکاری اسکول کی لڑکیاں 4.9 فیصدہیں۔

کراچی میں میٹرک سائنس کے سالانہ امتحانات میں سرکاری اسکولوں کے پاس ہونے والے کل 10085بچوں میں سے 931لڑکوں نے امتحانات میں بی (B)گریڈ حاصل کیاجبکہ سرکاری اسکولوں کی 1836لڑکیوں نے بی گریڈ حاصل کیااورسرکاری اسکولوں کے پاس ہونے والے کل طلبہ میں سے 27.4فیصدبی گریڈ میں کامیاب ہوئے۔

سرکاری اسکولوں کے 2204لڑکوں اور 1593 لڑکیوں نے ’’سی‘‘(C)گریڈ میں میٹرک کاامتحان پاس کیا۔

سرکاری اسکولوں کے کل 3797طلبہ سی گریڈ میںپاس ہوئے اورسرکاری اسکولوں کے کل پاس ہونے والے طلبہ کا37.6فیصد سی گریڈ میںکامیاب ہوا۔سرکاری اسکولوں کے کل پاس ہونے والے طلبہ میں ڈی (D)گریڈ لینے والے طلبہ کی کل تعداد2175ہے جن میں1822لڑکے اور353لڑکیاں شامل ہیں۔

اس طرح سرکاری اسکولوں کے پاس ہونے والے کل طلبہ میں سے 21.5فیصد نے ڈی گریڈ میں یہ امتحان پاس کیا۔

ان امتحانات میں سرکاری اسکولوں کی کُل 4طالبات نے ’’ای‘‘(E)گریڈ میں امتحان پاس کیاجبکہ کل 57طلبا نے مذکورہ گریڈ میں یہ امتحان پاس کیا۔ امتحان میں مجموعی طورپر171طلبہ ای گریڈ میں پاس ہوئے اورای گریڈ میں پاس ہونے والے ان مجموعی طلبہ میں سے 35.6فیصدحصہ سرکاری اسکولوں کے طلبا وطالبات کاہے۔

یاد رہے کل 20طالبات اور151طلباء نے ای گریڈ میں میٹرک کاامتحان پاس کیا جبکہ سرکاری اسکولوں کے پاس ہونے والے کل 10085طلبہ میں سے 0.6فیصد نے ای گریڈ حاصل کیاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *