32 سرکاری یونیورسٹیز میں تعلیمی معیار گراوٹ کا شکار، ایچ ای سی کا انکشاف

    November 13, 2021 1:25 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد، آمنہ مسعود

ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے ملک بھر سے 32 سرکاری یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے اور ان یونیورسٹیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، کمیشن نے ملک کی 90 سرکاری یونیورسٹیوں کی رپورٹ سینیٹ میں جمع کرا دی ہے۔

سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی فار ایجوکیشن کو جمع کی گئی رپورٹ کی دستاویزات تعلیمی زاویہ کو موصول ہوئی ہیں، ان دستاویزات کے مطابق یونیورسٹیوں کی کوالٹی اینہاسمنٹ سیل نے کمیشن کو رپورٹس جمع کرائیں۔ ان دستاویزات کے مطابق ملک بھر کی کل 32 پبلک سیکٹر جامعات جن میں وفاق کی 3، خیبر پختونخوا کی 10،پنجاب کی 9، بلوچستان کی 2، سندھ کی 5 جامعات شامل ہیں کا معیار تعلیم مسلسل تعلیمی گراوٹ کا شکار ہے۔

وفاق سے قائد اعظم یونیورسٹی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس(پائیڈ) شامل ہیں، کمیشن نے تینوں جامعات کو کارکردگی کے حساب سے بالترتیب 26.61، 45.93 اور 40.24 مارکس دیئے ہیں۔

پنجاب کی جن 9 پبلک سیکٹرجامعات کے معیار تعلیم پر سوال اٹھایا ہے ان میں بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان 44.07، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور 32.20، گومل یونیورسٹی ڈی آئی خان 14.93، نیشنل کالج آف آرٹس لاہور 46.22، دی وویمن یونیورسٹی ملتان 43.75، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی لاہور47.70، غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان 11.14، گورنمنٹ صادق کالج یونیورسٹی بہاولپور21.99، خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی رحیم یار خان46.96 شامل ہیں۔

سندھ کی غیر تسلی بخش کارکردگی کی حامل قرار دی جانے والی پبلک سیکٹر جامعات میں لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو سندھ36.22، یونیورسٹی آف کراچی27.11، قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نوابشاہ 43.62، شاہ عبد الطیف یونیورسٹی خیر پور43.26 ، اور بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ سکلز ڈیویلپمنٹ خیر پورمیرس 21.13 شامل ہیں۔

ایچ ای سی کی طرف سے خیبر پختونخواہ کی جن 10پبلک سیکٹر جامعات کے معیار تعلیم کو گرانی کا شکار کہا گیا ہے ان میں یونیورسٹی آف پشاور21.25،ہزارہ یونیورسٹی 46.41،عبد الولی خان یونیورسٹی مردان49.45، یونیورسٹی آف مالاکنڈ چکدرہ دیر42.83، اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور39.01، یونیورسٹی آف صوابی 40.12، یونیورسٹی آف سوات 32.44، باچا خان یونیورسٹی چکدرہ 39.04، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک 36.44 اور وویمن یونیورسٹی مردان 25.49 شامل ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کی جن دو پبلک سیکٹر جامعات کی کرکردگی پر سوال اٹھائے گئے ہیں ان میں یونیورسٹی آف تربت31.27 اور سردار بہادر خان خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ48.16شامل ہیں۔

ایچ ای سی کی طرف سے پبلک سیکٹر جامعات کی کارکردگی کے حوالے سے مرتب کردہ چارٹ میں 50فیصد سے کم مارکس لینے والی جامعات کے معیار تعلیم کہ غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *