بیوروکریسی میں “کالونیل سپیرئیر سروس” کا تصور ختم کرنے کا فیصلہ

    April 24, 2019 10:07 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: حکومت پاکستان نے سول سروس ریفارمز کے لیے نوآبادیاتی عہد کے سپیرئیر سروسز کے تصور کو ختم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا۔ یہ منصوبہ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم سول سروس ریفارمز ٹاسک فورس نے تیار کیا ہے جسے کیبنیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

منصوبے کے تحت سنٹرل سپیرئیر سروسز یعنی سی ایس ایس سسٹم میں تبدیلی لائی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق سپیرئیر سروسز کے تصور کو تمام کیڈرز میں تبدیل کیا جائے گا جس کے تحت سی ایس ایس کا موجودہ امتحانی نظام سپیشلائزڈ بیوروکریسی سسٹم کے ساتھ تبدیل کیا جائے گا۔

ابتداء میں چار درجوں میں یہ تقسیم کی جائے گی جس کی بنیاد سپیشلائزڈ کوالیفکیشن ہوگی۔ ٹاسک فورس نے تجویز دی ہے کہ بیوروکریسی میں بھرتیوں کے لیے انٹری لیول پر مخصوص نالج کی بنیاد پر اُمیدوار کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

سی ایس ایس کے نئے ریکروٹمنٹ سسٹم کے مطابق پہلی سٹیج پر سکریننگ ٹیسٹ ہوگا جس کے بعد سپیشلائزڈ ریکروٹمنٹ کی جائے گی۔ تیسرے مرحلے میں نفسیاتی امور سے متعلق امتحان لیا جائے گا جبکہ چوتھے اور آخری مرحلے میں اُمیدواروں کے انٹرویوز کیے جائیں گے۔

ٹاسک فورس کی جانب سے یہ تجویز کیا جارہا ہے کہ تمام سرکاری محکموں کے ملازمین کو سول سروسز میں آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور سپیرئیر سروسز میں کیڈرز اینڈ نان کیڈرز کے تصور کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔

ٹاسک فورس نے سول سروسز ریفارمز کے تحت چھ سفارشات پہلے ہی پیش کیں تھی جس کی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔
سول سرونٹ کے ٹینور کی مدت دو سال سے تین سال تک بڑھائی جاسکے گی اور کارکردگی کی بنیاد پر چھ مہینے کی مزید توسیع ہوسکے گی۔

فیڈرل سیکرٹریز کی تقرری سلیکشن کمیٹی کے ذریعے ہوگی، اس کمیٹی میں وزراء اور سیکرٹریز ممبر ہوں گے جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے مشیر کمیٹی کی میٹنگ چیئر کریں گے۔

سرکاری کمپنیوں میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدوں پر تقرری کے لیے سپیشل سلیکشن کمیٹی کے ذریعے سے نام تجویز کیے جائیں گے۔ اس کمیٹی میں متعلقہ وزیر، سیکرٹری اور کم از کم ایک سے تین ماہرین شامل ہوں گے۔

سیکرٹریز کمیٹی کو فعال کیا جائے گا تاکہ بین الوزارتی امور اور مسائل کو حل کرنے میں آسانی ہو۔ وزیروں کے تکنیکی امور سے متعلق مشیروں کی تقرریاں کی جائیں گی۔ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے ذریعے سے ای گورننس سسٹم کو وفاقی سطح پر نافذ کیا جائے گا جس کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو مضبوط بنایا جائے گا.