ڈالر ڈاکٹریٹ ڈگریوں میں رکاوٹ بن گیا، پاکستان کی یونیورسٹیاں پریشان

    May 3, 2019 11:39 am PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: آمنہ مسعود

ڈالر ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں میں رکاوٹ بن گیا ہے غیر ملکی پروفیسرز سے پی ایچ ڈی تھیسز کی جانچ پڑتال کی فیسیں ڈالر میں دینے پر پاپندی عائد کر دی گئی ہے. ڈالرز میں فیسیں ادا نہ ہونے پر تھیسز رپورٹس التواء کا شکار ہوگئیں.

حکومت کی جانب سے ڈالرز بیرون ممالک بھیجنے پر پاپندی عائد ہونے سے سرکاری یونیورسٹیوں کو مشکلات کا سامنا ہے. یونیورسٹیوں کو غیر ملکی پروفیسرز کو پی ایچ ڈی تھیسز کی جانچ پڑتال کی فیس ادا کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے. یونیورسٹیز حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکی پروفیسرز کو فیسوں کی ادائیگی میں رکاوٹ کے باعث تھیسز رپورٹس تاخیر کا شکار ہونے لگی ہیں.

حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک سال سے یہ پاپندی عائد ہے جس کی زد میں ملکی یونیورسٹیاں بھی ہیں.

تفصیلات کے مطابق سرکاری یونیورسٹیوں کو ایک پی ایچ ڈی تھیسز کی جانچ پڑتال کے لیے 900 ڈالرز غیر ملکی پروفیسرز کو دینا ہوتے ہیں. تین ممالک کے پروفیسرز کو پی ایچ ڈی تھیسز جانچ پڑتال کے لیے ارسال کیے جاتے ہیں.

ملک بھر کی سرکاری یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پی ایچ ڈی سکالرز اپنے تھیسز مکمل کرنے کے باوجود جانچ پڑتال کی رپورٹ حاصل نہیں‌ کر سکے ہیں.

یونیورسٹیوں کو سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ڈالرز بیرون ممالک بھیجنے کی اجازت نہیں مل رہی ہے،، ڈالرز میں غیر ملکی پروفیسرز کو فیسوں کی ادائیگی نہ ہونے پر یونیورسٹیوں کی پی ایچ ڈی ڈگریاں التواء کا شکار ہو رہی ہیں۔

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا حل نکالے اور حکومت پاکستان سے براہ راست بات چیت کرے. انھوں نے کہا ہے کہ غیر ملکی پروفیسرز سے رپورٹ حاصل کرنے کی شرط ایچ ای سی نے لگا رکھی ہے اور ایچ ای سی اب یونیورسٹیوں کو اس پریشانی سے نکالے.