میٹرک میں 4 لاکھ طلباء کے40 فیصد سے کم نمبرز

    October 18, 2021 1:09 am PST
taleemizavia single page

آمنہ مسعود لاہور

پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے میٹرک امتحانات کے نتائج کا اعلان کووڈ پالیسی کے تحت کیا اور ان امتحانات میں کامیابی کا تناسب 98 فیصد سے زائد رہا جبکہ غیر حاضر طلباء کو فیل کرنے کے بعد ان کے لیے سپیشل امتحان کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

میٹرک امتحان میں طلباء کو گریڈز دیے گئے ہیں، کووڈ پالیسی کے باوجود پنجاب میں ڈی گریڈ اور ای گریڈ میں کامیاب ہونے والے طلباء کا تناسب سب سے زیاد ہے۔

اس ضمن میں تعلیمی زاویہ نے پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز کا نتیجہ جمع کیا ہے اور ہر بورڈ میں میٹرک کے امتحان میں ڈی اور ای گریڈ میں پاس ہونے والے طلباء کی تفصیلات حاصل کی ہیں۔

میٹرک امتحان میں 4 لاکھ 28 ہزار 592 طلباء نے ڈی اور ای گریڈ میں کامیابی حاصل کی ہے گویا ان طلباء کے نمبرز 33 فیصد سے لے کر 40 فیصد تک ہیں جس سے ان طلباء کا تعلیمی مستقبل خطرے سے دوچار ہے۔

پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈز میں میٹرک کا نتیجہ کیا رہا؟

تعلیمی زاویہ کی رپورٹ کے مطابق لاہور بورڈ کے امتحانات میں میٹرک میں گریڈ ‘ ڈی’ اور ‘ای’ کے ساتھ پاس ہونےوالے طلبہ کا تناسب سب سے زیادہ ہے،میٹرک میں 65 ہزار 875 طلباء نے ڈی گریڈ جبکہ 59 ہزار 351 طلباء ای گریڈ  حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔  

یوں مجموعی طور پر ایک لاکھ 25 ہزار 226 طلباء ڈی اور ای گریڈ میں پاس ہوئے ڈی اور ای گریڈ میں کامیاب طلباء کا تناسب 43.38 فیصد رہا، یہ طلباء لاہور کے سرکاری کالجوں میں داخلوں سے بھی محروم رہیں گے۔

میٹرک امتحان میں بہاولپور بورڈ میں ڈی گریڈ میں 22 ہزار 719 اور ای گریڈ میں 24 ہزار 932 طلباء، گجرانوالہ بورڈ میں ڈی گریڈ میں 50 ہزار 38 طلباء اور ای گریڈ میں 46 ہزار 596 طلباء نے امتحان پاس کیا۔  

سرگودھا بورڈ میں ڈی گریڈ میں 21 ہزار 732 اور ای گریڈ میں 16 ہزار 784 طلباء، راولپنڈی بورڈ میں 28 ہزار 728 اور ای گریڈ میں 22 ہزار 536 طلباء نے امتحان پاس کیا۔

فیصل آباد بورڈ میں ڈی گریڈ میں 27 ہزار 695 اور ای گریڈ میں 19 ہزار 108 طلباء، ڈیرہ غازی خان بورڈ میں 14 ہزار 112 ڈی گریڈ اور 17 ہزار 249 ای گریڈ جبکہ ملتان بورڈ میں ڈی گریڈ میں 24 ہزار 620 طلباء اور ای گریڈ میں 19 ہزار 542 طلباء کامیاب ہوئے۔

پنجاب کے میٹرک کے امتحان میں پاس ہونے والے 4 لاکھ سے زائد طلباء پرائیویٹ کالجوں کے رحم و کرم پر ہوں گے اور ان طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے بھاری فیسیں ادا کرنا پڑیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *