چاند پر 1972ء کے بعد کوئی خلا باز کیوں نہیں گیا؟

  • December 18, 2017 12:22 am PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک

بیس جولائی 1969 کو نیل آرم سٹرانگ نے چاند پر قدم رکھ کر تاریخ رقم کی تھی جس کے بعد مزید پانچ مرتبہ امریکی مشن چاند پر بھیجے گئے۔ 1972 میں چاند پر آخری مرتبہ کوئی خلا باز گیا تھا۔ اس کے بعد اب تک کوئی بھی انسان چاند پر نہیں گیا۔ اب تقریباً نصف صدی کے بعد امریکہ نے اعلان کیا ہے وہ چاند پر مشن بھیجے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو اس سے متعلق ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکہ یا کسی اور ملک نے اس دوران چاند پر کوئی ایسا مشن کیوں نہیں بھیجا جس میں خلا باز شامل ہوں؟

دراصل چاند پر کسی انسان یا مشن کو بھیجنا ایک مہنگا سودا ہے۔ لاس اینجلس کی کیلیفورنیا یونیورسٹی میں فلکیات کے پروفیسر مائیکل رِچ کہتے ہیں کہ چاند ہر مشن بھیجنے میں خرچ زیادہ اور اس کے فائدے بہت کم ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے مشن میں سائنسی دلچسپی سے زیادہ سیاسی وجوہات ہیں جو خلا پر قبضے کی دوڑ کے مقصد سے بھیجے جاتے ہیں۔

دو ہزار چار میں امریکہ کے اس وقت کے صدر جارج بش نے ٹرمپ کی طرح ہی چاند پر مشن بھیجنے کا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے لیے ایک لاکھ چار ہزار ملین ڈالر کا بجٹ تجویز کیا گیا تھا اور اتنے بڑے بجٹ کے سبب یہ منصوبہ ملتوی کر دیا گیا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پراجیکٹ سے متعلق حکم نامے پر دستخط کرنے سے پہلے سینیٹ سے مشورہ نہیں کیا۔

مائیکل رِچ کا کہنا ہے کہ چونکہ اس کے سائنسی فائدے کم ہیں اس لیے اتنے مہنگے پراجیکٹ کے لیے سینیٹ کی منظوری ملنا مشکل ہے دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ناسا ان برسوں میں کئی دوسرے پراجیکٹ پورے کرنے میں لگا ہوا ہے جن میں مشتری پر بھیجے گئے مشن بھی شامل ہیں۔

حالانکہ سائنسدانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ چاند پر مشن بھیجنا چاہیے اس سے انسان پر مزید نئے انکشافات ہو سکتے ہیں۔

سرکاری اور نجی طور پر پہلے بھی کوششیں کی جا چکی ہیں جن میں نہ صرف چاند پر جانے کا اعلان کیا گیا بلکہ چاند پر انسانی بستی بنانے جیسے بڑے منصوبے بھی پیش کیے گئے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published.