نئی تکنیک سے حنوط شدہ لاشوں پر لکھی تحریر پڑھنی ممکن

    January 7, 2018 3:33 pm PST
taleemizavia single page

بی بی سی

لندن میں محقیقین نے ایک ایسی سکیننگ تکنیک تیار کی ہے جس کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے کہ ان بکسوں پر کیا لکھا ہوتا ہے جن میں حنوط شدہ لاشیں دفن کی جاتی ہیں۔ قدیم مصر میں حنوط شدہ لاشیں نرسل کی قسم کے پودے سے بنے ہوئے بکس میں بند کی جاتی تھیں۔ ان بکسوں کو بعد میں مقبروں میں رکھ دیا جاتا تھا۔

یہ بکس نرسل کی قسم کے پودوں کی باقیات سے بنتے تھے اور اس کو قدیم مصر میں شاپنگ کی فہرست تیار کرنے اور ٹیکس جمع کرانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اس تکنیک سے تاریخ دانوں کو قدیم مصر کی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں مزید جاننے میں مدد مل رہی ہے۔

فرعون کے مقبروں کی دیواروں پر تصویری زبان یہ بات واضح کرتی ہے کہ کیسے امیر اور طاقتور اپنے آپ کو ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ یہ اس وقت کا پروپیگنڈا تھا۔ پراجیکٹ کے سربراہ یونیورسٹی کالج آف لندن کے پروفیسر ایڈم گبسن کا کہنا ہے کہ نئی سکیننگ تکنیک سے قدیم مصر کا مطالعہ کرنے والوں کو قدیم مصر کی اصل کہانی جاننے میں مدد ملے گی۔

mummy2

’کیونکہ نرسل کی قسم کے پودے کی باقیات استعمال کی گئی ہیں اس لیے یہ گذشتہ دو ہزار سال سے محفوظ ہیں۔ اس لیے یہ بکسے ایک لائبریری بن گئے ہیں۔ اور چونکہ یہ نرسل کی قسم کے پودے کی باقیات سے بنے ہوئے ہیں اس لیے محفوظ ہیں ورنہ ان کو کب کا پھانکا جا چکا ہوتا۔ ان بکسوں میں انفرادی شخص کے بارے میں معلومات ہیں اور ان کی زندگی کے بارے میں معلومات ہیں۔‘

یہ بکسے 2000 سال پرانے ہیں۔ ان پر تحریر اکثر اس بکس کو جوڑنے کے لیے استعمال کیے گئے مخمور کے نیچے چھپ گئی ہیں۔ لیکن اب مختلف روشنیوں کا استعمال کرتے ہوئے سکیننگ سے اس تحریر کو پڑھا جا سکتا ہے۔

اس سکیننگ کی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے پہلی کامیابی ا حنوط شدہ لاش کے بکس پر ہوئی جو کینٹ میں واقع چڈنگنگ سٹون قلعے میں رکھا ہوا ہے۔

تحقیق دانوں کو اس بکس پر لکھی ہوئی وہ تحریر ملی جو اس تکنیک کے بغیر نہیں دیکھا جا سکتی تھی “سکیننگ سے معلوم چلا کہ اس بکس پر تحریر ہوا ہے جس کا مطلب ہے ’قدیم مصری شمسی خدا کی آنکھ میرے دشمنوں کے خلاف ہے‘۔

mummy3

اس تکنیک سے قبل ایسی تحریر کو پڑھنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہوتا تھا اور وہ تھا کہ بکس لگے مخمور کو ہٹایا جائے یعنی کے بکس کو توڑا جائے۔ اس سے مصر کا مطالعہ کرنے والے کشمکش میں مبتلا تھے۔ کیا بکس کو توڑا جائے؟ یا ان بکسوں کو جوں کا توں رہنے دیا جائے جس کا مطلب ہے کہ اس میں چھپی کہانیوں کو نہ پڑھا جائے؟

لیکن اب اس سکیننگ تکنیک سے بکس کو توڑے بغیر تاریخ دان تحریر کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔ یونیورسٹی کالج آف لندن کی ڈاکٹر کیتھرین پکیٹ اب قدیم مصر کے بارے میں بہت کچھ جان سکیں گے۔’مجھے بہت افسوس ہوتا تھا جب تحریر پڑھنے کے لیے ان نوادارت کو توڑا جاتا تھا۔ یہ ایک جرم ہے۔ اب ہمارے پاس ایک ایسا طریقہ آ گیا ہے جس سے ہم ان نوادرات کو بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں اور ان پر لکھی تحریر بھی پڑھ سکتے ہیں۔‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *