انٹرنیٹ پرنفرت انگیز مواد کا ایشو: 4 بڑی کمپنیوں کے درمیان معائدہ

    August 25, 2016 2:11 pm PST
taleemizavia single page

دی نیکسٹ ویب، واشنگٹن

امریکا کی چار بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت یورپی ممالک میں انٹرنیٹ پر موجود نفرت انگیز مواد کا چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر جائزہ لے کر اسے حذف کر دیا جائے گا۔

غیر قانونی اور نفرت آمیز مواد کے بارے میں یورپی یونین کے نئے ضابطہ اخلاق یا کوڈ آف کنڈکٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی چار بڑی انٹرنیٹ کمپنیاں، فیس بُک، یوٹیوب، ٹوئٹر اور مائیکروسافٹ انٹرنیٹ پر موجود نفرت انگیز مواد کا چوبیس گھنٹے کے اندر اندر جائزہ لیے کر اسے حذف کرنے کی پابند ہوں گی۔

یورپی یونین کے اس نئے ضابطہ اخلاق کا مقصد یورپ میں سامیت دشمنی، مہاجرین کے خلاف نفرت اور عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی حمایت میں انٹرنیٹ پر پھیلائے جانے والے مواد کی روک تھام ہے۔

تاہم انٹرنیٹ کی پیچیدہ دنیا کو سمجھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے بعد دوسرے ممالک کے لیے آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی راہ ہموار ہو جانے کا خطرہ ہے۔

گوگل کمپنی کی سابق جنرل کونسل اور اسٹینفورڈ سینٹر فار انٹرنیٹ سوسائٹی سے وابستہ خاتون ماہر ڈافنے کَیلر کا کہنا تھا، دوسرے ممالک اس معاہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوشش کر سکتے ہیں کہ وہ بھی اپنی مرضی کا مواد انٹرنیٹ سے حذف کرنے کے لیے ایسا ہی کوئی معاہدہ کر لیں۔

مختلف یورپی ممالک میں غیر قانونی نفرت انگیز مواد کی تعریف دیگر ممالک سے مختلف ہے اور اس معاہدے کی رو سے انٹرنیٹ کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ ہر ملک کے اپنے معیارات کے مطابق انٹرنیٹ پر موجود ایسے مواد کا جائزہ لے کر اسے حذف کر دیں یا اس ملک میں عام صارفین کی ایسے مواد تک رسائی ختم کر دی جائے۔

عام شہریوں کے ڈیجیٹل رائٹس کے لیے سرگرم یورپی تنظیم ’اَیکسَیس ناؤ‘ نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔
Access Now کی اَیسٹَیل ماسے نے کہا، یہ معاہدہ انٹرنیٹ کمپنیوں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ انتظامیہ یا اتھارٹی کا کام سرانجام دیں۔ یہ ضابطہ اخلاق کمپنیوں کی ’ٹرمز آف سروسز‘ یا کاروباری شرائط کو ملکی قوانین سے بالاتر کر دیتا ہے۔

دوسری جانب فیس بُک اور گوگل کے جاری کردہ بیانات کے مطابق وہ پہلے ہی سے نفرت آمیز مواد کا جائزہ لے کر اسے حذف کر رہی ہیں۔ فیس بُک کے ایک مرکزی ترجمان نے نیوز ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ہماری اپنی پالیسیوں پر زیادہ بہتر عمل درآمد کرنے کا معاہدہ ہے۔
‘‘
آزادی اظہار کے لیے سرگرم کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے اس معاہدے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ضابطہ اخلاق کی وجہ سے انٹرنیٹ کمپنیوں پر قانونی اور جائز مواد کو بھی حذف کرنے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔

الیکٹرانک فریڈم فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈینی اوبرائن کے مطابق، یہ ایک غلط روایت ڈال دی گئی ہے۔ اگر یورپی یونین انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اس سلسلے میں مشاورت کرتی تو اسے یہ حقیقت معلوم ہو جاتی اور پھر شاید وہ یہ معاہدہ نہ کرتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *