گیارہ سال بعد بھارت کا چاند مشن دوبارہ کیسے ناکام ہوگیا؟

    views 90 September 7, 2019 12:43 pm PST
taleemizavia single page

ویب ڈیسک: بھارت کی چاند پر اترنے کی دوسری کوشش بھی ناکام ہوگئی، لینڈنگ سے چند منٹ پہلے خلائی مشن کے سگنل منقطع ہوگئے ، مودی شدید مایوس ہوکر خلائی ادارے کے ہیڈ کوارٹر سے چلے گئے۔

بھارت کا خلائی مشن چندریاں ٹو چاند پرلینڈنگ سے چند منٹ قبل سگنل کھو بیٹھا، بھارتی اسپیس ایجنسی اسرو کےسربراہ کا کہنا ہے کہ چاند کی سطح سے 2.1 کلومیٹر کےفاصلے پر وگرم لینڈر کا رابطہ منقطع ہوگیا، لینڈر معمول کےمطابق مشن پر رواں دواں تھا، ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

چاند پرلینڈنگ کا منظر دیکھنے کے لیے بھارتی وزیراعظم اسرو ہیڈ کوارٹر میں موجود تھے، جب انہیں بتایا گیا کہ سگنل منقطع ہوگیا ہےتو مودی مایوس ہوکر وہاں سے چلے گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق بھارت کا چاند مشن بظاہر ناکام ہوگیا ہے، وہ چاند کےقطب جنوبی پر لینڈنگ کرنے والا پہلا ملک بننا چاہتا تھا۔

بھارت کا یہ دوسرا خلائی مشن تھا جو 50 دن کے سفر کے بعد چاند کے قریب پہنچا تھا، اس سے قبل 2008 میں بھی بھارت کا چاند مشن ناکام ہوگیا تھا جبکہ امریکا، روس اور چین چاند کی سطح پرکامیاب لینڈنگ کرچکے ہیں۔

بھارت کے خلائی ادارے نے کہا ہے کہ اس کا چاند کی جانب جانے والے اپنے مشن ، چندریان ٹو سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ یہ رابطہ اس وقت منقطع ہوا جب چندریان ٹو کچھ ہی دیر کے بعد چاند کی سطح پر اترنے والا تھا۔

خلائی تحقیق کے مرکز کے چیئر میں سروین نے کہا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے سے اس قومی منصوبے کو دھچکہ لگا ہے جو چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں اترنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ خلائی ادارے کے سائنس دان اس سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔

بھارت یہ توقع کر رہا تھا کہ امریکہ، روس اور چین کے بعد چاند کی سطح پر اپنا خلائی جہاز اتارنے والا وہ چوتھا ملک بن جائے گا۔ لیکن وہ اس سے آگے کا سوچ رہا ہے۔

بھارتی سائنس دانوں کو توقع تھی کہ ان کا چندریان ٹو چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں اترے گا جن کے متعلق ان کا کہنا ہے وہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اس سے پہلے کسی ملک کا بھی کوئی سائنسی مشن نہیں گیا اور کوئی بھی اس علاقے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔

خلائی جہاز سے الگ ہو کر چاند پر اترنے والی چاند گاڑی سائنس دانوں کو جنوبی قطبی علاقے کی سطح اور وہاں موجود معدنیات کے متعلق بہتر معلومات فراہم کرے گی۔

چاند گاڑی اتارنے کے لیے جس علاقے کا انتخاب کیا گیا تھا، وہاں کھائیاں اور گڑھے ہیں جن کے مطالعے سے سائنس دانوں کو نظام شمسی کے ابتدائی ادوار اور تخلیق کے متعلق معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔

بھارت نے چاند پر اپنا پہلا مشن چندریان وان 2008 میں بھیجا تھا۔ وہ چاند کی سطح پر تو نہیں اترا تھا لیکن اس نے ریڈار کی مدد سے یہ کھوج لگایا تھا کہ چاند کے قطبی علاقوں میں برف کی موجودگی کے آثار پائے جاتے ہیں۔

بھارتی سائنس دانوں کو توقع ہے کہ چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی کی بھاری مقدار موجود ہے اور چندریان ٹو انہیں اس بارے میں مزید ٹھوس معلومات فراہم کرے گا۔

اس تجربے سے انہیں یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ آیا چاند پر انسانی آبادی قائم کرنا ممکن ہو گا کیونکہ زندگی کے لیے پانی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

چاند پر آخری بار انسان نے اپنے قدم 1972 میں رکھے تھے۔ یہ تین امریکی خلا نورد تھے جو اپالو 17 کے ذریعے وہاں گئے تھے۔ اس کے علاوہ پانچ چوہے بھی چاند پر جا کر زمین پر واپس آ چکے ہیں۔

بھارتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ چندر یان ٹو کی کامیابی سے وہاں بھارتی انسانی مشن بھیجنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد ہماری اگلی منزل سرخ سیارہ مریخ ہے جہاں بالآخر انسانی کالونیاں بنیں گی۔

امریکہ کے خلائی دارے ناسا کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکہ 25 سال کے اندر مریخ پر انسان اتار سکتا ہے۔ جس کے لیے کام ہو رہا ہے۔ تاہم یہ بہت کھٹن کام ہے کیونکہ زمین سے مریخ کا فاصلہ 22 کروڑ 50 لاکھ کلومیٹر ہے۔ جب کہ چاند محض تین لاکھ 80 ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اگر چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پانی مل جاتا ہے تو مریخ کے سفر میں چاند ایک پڑاؤ کا کام دے گا اور اسے ان ٹیکنالوجیز کو ٹیسٹ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا جنہیں سائنس دان مریخ پر لے جانا چاہتے ہوں گے۔

بھارت کے چندریان ٹو مشن پر مجموعی طور پر 14 کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے۔ یہ چاند پر مشن بھیجنے والے دوسرے تمام ملکوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بھارت نے اس مشن میں استعمال کی جانے والی گاڑیاں اور آلات خود تیار کیے ہیں۔

اس کے مقابلے میں امریکہ نے اپنے اپالو مشن میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ صرف کیے تھے۔

اگرچندریان ٹو مشن کامیاب ہو جاتا تو چاند پر سستے مشن بھیجنے کا راستہ کھل سکتا تھا اور یہ مشن اس لیے بھی زیادہ اہم تھا کیونکہ اب پرائیویٹ سیکٹر خلا میں سرمایہ کاری کا سوچ رہا ہے جن کے سامنے اخراجات میں کفایت بہت اہمیت رکھتی ہے۔