فیس بک نے چھ ماہ میں 3 ارب جعلی اکاؤنٹس بلاک کر دیے

    May 26, 2019 12:50 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ نے چھ ماہ کے دوران تین ارب جعلی اکاؤنٹس حذف کرکے 70 لاکھ سے زائد نفرت انگیز پوسٹوں کو اپنی سائٹ سے ہٹا یا ہے ۔ نفرت انگیز پوسٹوں میں سے ایسی پوسٹیں بھی تھیں جنہیں نظرثانی کی ملنے والی درخواستوں کے بعد بحال کردیا گیا۔

فیس بک نے یہ اعداد و شمار اپنی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ میں بتائے ہیں۔ ممتاز ویب سائٹ ’العربیہ‘ کے مطابق فیس بک انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اکتوبر 2018 سے مارچ 2019 کے درمیانی عرصے میں مختلف اکاؤنٹس اور پوسٹوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات درج ہیں۔

العربیہ کے مطابق ’رپورٹ‘ میں کہا گیا ہے کہ چھ ماہ کے دوران فیس بک نے پہلی مرتبہ تین ارب جعلی اکاؤنٹس کو حذف کیا ہے جب کہ 70 لاکھ سے زائد نفرت انگیز پوسٹوں کو ویب سائٹ سے ہٹایا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ خود ایک ریکارڈ ہے۔

رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد و شمار کو درست تسلیم کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ فیس بک کی انتظامیہ نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران یومیہ ایک کروڑ 66 لاکھ ،66 ہزار 666 اکاؤنٹس حذف کیے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک غیرمعمولی کام ہے۔

فیس بک کی جانب سےجاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویب سائٹ نے بعض ایسی پوسٹوں کو دوبارہ بحال بھی کیا ہے جنہیں پہلے حذف کردیا گیا تھا۔ حذف شدہ پوسٹوں کے متعلق نظرثانی کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض پوسٹوں کو تو چند منٹ ہی میں شناخت کرکے حذف کیا گیا۔ ممتاز ویب سائٹ ’العربیہ‘ کے مطابق فیس بک کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اسلحہ فروخت کرنے والے دس لاکھ پوسـٹوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

فیس بک کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد العربیہ نے بتایا ہے کہ جنوری 2019 سے مارچ 2019 کے دوران فیس بک کو نفرت انگیز پوسٹیں حذف کرنے پر دس لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے ایک لاکھ 50 ہزار پوسٹوں کا دوبارہ جائزہ لے کر بحال کردیا گیا۔

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں جب سفید فام نسل پرست دہشت گرد نے ملسمان نمازیوں کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا تو اس نے فائرنگ کا واقعہ ماتھے پر لگائے ہوئے کیمرے کے ذریعے پوری دنیا کو براہ راست دکھائے تھے۔

خوفناک اور خونی منا ظرکے براہ راست دکھائے جانے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ سب سے زیادہ نکتہ چینی اور تنقید کا نشانہ بنی تھی جس کے بعد نفرت انگیز پوسٹوں کے خلاف ’بھرپور‘ کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔