سائبرفوبیا: والدین بچوں سے متعلق تشویش کیسے دور کریں؟

    August 25, 2016 3:43 pm PST
taleemizavia single page

قراۃ العین فاطمہ
شعبہ انگریزی پنجاب یونیورسٹی لاہور

سائبرفوبیا یا کمپیوٹرز کا خوف نئی ٹیکنالوجی سے نفرت کا ایک پہلو ہے۔

والدین اپنے بچوں سے متعلق فکر مند ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

آفقام نے اپنے تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو ہزار پانچ کی نسبت اب بچے دو گنا زیادہ وقت آن لائن گزرتے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق پانچ سے سات سال کی عمر کے بچوں میں سٹرسٹھ فیصد جبکہ آٹھ سے گیارہ سال کی عمر کے اکانوے فیصد بچے انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔

والدین کے نزدیک ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ کرنے سے بچوں میں جدت طرازی پر مشتمل جذبات بڑھ رہے ہیں۔

والدین کا سائبرفوبیا بالخصوص دو اہم خدشات سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

پہلا یہ کہ بچے سکرین کو گھورکر اپناوقت ضیاع کرتے ہیں جبکہ وہ تازہ ہوا میں باہر کھیل سکتے ہیں جو کہ والدین کے ذہنوں میں وقت کا بہت بہتر استعمال اور تعلیم کا اچھا ذریعہ ہے۔

میرا نقطء نظر یہ ہے کہ کسی حد تک یہ بیکار نظریہ ہے کہ اُن کے بچے صرف اس لیے باہر کھلیں کیونکہ وہ خود اپنے پچپن میں باہر کھیلا کرتے تھے۔

ایک بات طے ہے، ٹیکنالوجی کسی بھی وقت جلد ہی دور نہیں جا رہی. یہ پہلے ہی ہماری روزمرہ کی زندگی کے ساتھ ہے۔

یہ گھر اور دفتر دونوں میں پہلے سے زیادہ مقبول ہو رہی ہے تو بجائے بچوں کو اس سے ہٹایا جاۓ ہمیں اس کو گلے لگانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔

مجھے لگتا ہے کہ یہاں مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کتنا وقت ایک آلہ پر خرچ ہو رہا ہے بلکہ اہم بات یہ ہے کہ اس وقت کے دوران کیا دیکھا جا رہا ہے۔

یہ والدین کا کردار ہے کہ آلات کا استعمال ذمہ داری سے ہو اور بچوں کے پاس محفوظ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کا ضروری علم ہو۔

والدین کے لیے تشویش کی دوسری اہم چیزآن لائن حفاظت کا سوال؛

ایک بہت زیادہ تشویش ہے مذکورہ بالا آفقام کا مطالعہ یہ ہے کہ عام طور پر صرف 27 فیصد والدین اپنے بچوں کے ساتھ جب وہ آن لائن ہوتے ہیں بیٹھتے ہیں، تو یہ قدرتی طور پہ فکرمندی کی بات ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں کیا دیکھا جا رہا ہے۔

یہ سچ ہے ٹیکنالوجی غنڈہ گردی اور نامناسب مواد کے دیکھنے اور اشتراک کرنے کے مقدمات میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

لیکن میں اس بات پر بحث کرتی ہوں ٹیکنالوجی خود یہاں مسئلہ نہیں ہے۔ یہ محض ایک آلہ کسی دوسرے کی طرح جس کا، غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔

دو ٹوک الفاظ میں یہ مسائل ٹیکنالوجی کی ایجاد کے بارے میں نہیں، وہ ہمیشہ سے موجود ہیں۔ یہ والدین کا کردار ہے کہ آلات کا استعمال ذمہ داری سے ہو اور بچوں کے پاس محفوظ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کا ضروری علم ہو۔

ہمیں ٹیکنالوجی کی قدر کو کم نہیں سمجھنا چایۓ کہ یہ بچوں کے لئے معلومات حاصل کرنے کاایک ذریعہ ہے بجائے غلط استعمال کے۔

انٹرنیٹ بچوں کے ہوم ورک کرنے، اہم معلومات حاصل کرنے اور بہت سی چیزوں کے متعلق ایک بہت بڑی مدد ہے۔

دو ہزار بارہ کے بعد سے دُنیا بھر میں فون کے مقابلے آن لائن بچوں کے رابطے میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ٹیکنالوجی کی راہ میں والدین کے خدشات کی اجازت دینی چایۓ جبکہ واضح طور پر بچے آن لائن اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوۓ آرام دہ محسوس کرتے ہیں؟

ہمیں اب بھی اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ انٹرنیٹ پر بری معلومات بھی موجود ہیں ویسے ہی جیسے کہ اچھی اور بچے اتنے سمجھدار نہیں ہوتے کہ انھیں شبہ ہو کہ وہ کیا دیکھ اور کر رہے ہیں۔

مجھے لگتا ہے کہ یہاں بڑوں کو نظر رکھنے کی ضروت ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ بچوں کو قابل اعتماد پورٹل کی طرف راہنمائی دیں۔ اور جہاں وہ معلومات حاصل کر سکیں وہاں اُن کی مدد کریں۔

والدین کو یہاں ایک ایسی موبائل ایپ کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو واریناٹس کہلاتی ہے۔ یہ ایپ بچوں کو ان کے خدشات سے نمٹنے میں معاونت فراہم کرتی ہے۔

یہ بچوں کے لئے قابل اعتماد معلومات اور سب سے پہلے آن لائن مدد کے لئے اپیلوں پر مشتمل ہے۔

کسی کے روبرو بات کرنے کے ابتدائی خوف اور تشویش کو دور کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا، بچوں کی پریشانیوں کو بات چیت کے زریعے واریناٹ کے کردار کو بتانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جس سے ان کے خدشات دور ہو جاتے ہیں۔

بچوں کے ماہرین نفسیات کی طرف سے باقاعدگی سے کیے گیے تجربات پر مبنی طریقوں پر مشتمل ایپ پریشانی کے امکانات کو کم کرنے کے لیے یہ تیار کی گئی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ جہاں خوف اور پریشانیاں ملوث ہیں وہاں والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ جس طرح سے وہ سب سے زیادہ آرام دہ اور پرسکون محسوس کرتے ہوں، اُن کے ساتھ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹیکنالوجی سے خوف زدہ ہونے کی بجائے، بلکہ خود کے اظہار کے لیے نئے طریقوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔

یہ نسل ڈیجیٹل باشندوں میں سے ایک ہے اور ان کے ابتدائی سالوں میں والدین کے مقابلے پر ان میں ٹیکنالوجی سے متعلق زیادہ واقفیت ہوتی ہے۔

لیکن اس کے باوجود تنازعہ اب بھی ڈیجیٹل باشندوں کو گھیرے ہوئے ہے۔

میرے خیال میں ہمیں بچوں کے ساتھ اس طرح بات چیت کرنی چاہئے جس میں وہ سب سے زیادہ آرام دہ اور پرسکون محسوس کرتے ہوں۔

اور ٹیکنالوجی کے استعمال اور خدشات کو صرف اس لیے بچوں پر مسلط نہیں کرنے چاہیے کہ یہ ایک بری چیز ہے۔ لیکن ہمیں ڈیجیٹل دور کے فوائد کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہییے۔

ڈیجیٹل دور میں بچوں کی پرورش کرنے میں والدین کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *