درجہ حرارت میں اضافہ گندم کیلئے نقصان دہ؛ زرعی یونیورسٹی

  • 167 Views
  • جنوری 10, 2017 1:03 صبح PST

pag1-image

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو

پاکستان میں رواں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت معمول سے دو سے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہاہے۔ محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کا کہنا ہے کہ رواں برس جنوری میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔

رواں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کے باعث گندم کی فصل متاثر ہونے کے خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ گندم پاکستانی اجناس کی پیداوار میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

پوٹھوہار ریجن میں گندم کی بوائی کا سیزن اکتوبر میں شروع ہوتا ہے۔ پاکستان ایگریکلچر انفارمیشن سسٹم کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں میں گندم کی بوائی کا عمل پوٹھوہار کے مقابلے میں ذرا تاخیر یعنی نومبر سے شروع ہوتا ہے جبکہ اندرون سندھ میں گندم کی فصل مارچ اپریل تک کٹائی کے لئے تیار ہو چکی ہوتی ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق کا کہنا ہے کہ موسم میں ہونے والی اس تبدیلی کے باعث ممکن ہے کہ گندم کی فصل وقت سے پہلے ہی پک جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دسمبر کی طرح جنوری میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہتا ہے تو اس کے اثرات گندم کی فصل پر ضرور مرتب ہونگے ان کا کہنا تھا کہ عموماً گندم کا پودا ریپروڈکٹو فیز میں فروری میں داخل ہو جاتا ہے۔

تاہم اگر درجہ حرارت اسی طرح زیادہ رہتا ہے تو اس کا امکان موجود ہے کہ گندم کا پودا وقت سے پہلے ہی ری پروڈکٹیو فیز میں داخل ہو جائے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ گندم کی فصل معمول کے مطابق تیار نہیں ہو سکے گی اور اس کی پیداوار میں کمی آئے گی اس کے ساتھ ساتھ گندم کے دانے بھی معمول سے چھوٹے رہ جائیں گے۔

بارانی علاقوں میں گندم کی فصل زیادہ خطرات کا شکار ہے کیونکہ اس برس بارشیں بھی معمول سے کم ہیں۔ ڈاکٹر فاروق کے مطابق ملک میں گندم کی فصل کا پچیس فیصد بارانی علاقوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور اگر جنوری میں بھی بارشیں معمول سے کم ہوئیں تو ان علاقوں میں بھی گندم کی فصل متاثر ہو سکتی ہے۔

اگرچہ محکمہ موسمیات نے رواں ہفتے کے دوران ملک میں بارشوں کی پشین گوئی کی ہے اور اس حوالے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل غلام رسول کا ٹیکنالوجی ریویو پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جنوری میں بھی معمول سے کم بارشوں کا امکان ہے۔

زرعی ماہر ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے اور بارشوں میں کمی سے پالیسی سازوں کے لئے فوری اقدامات کا تقاضہ اس لئے نہیں کیا جا رہا کہ پاکستان میں گندم کی پیداوار ملکی ضروریات سے زیادہ ہوتی ہے لہذا اگر پیداوار میں کمی بھی ہوتی ہے تو وہ ملکی ضروریات کے لئے کافی ہو گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی ضروریات کے لئے ہمیں 21 سے 22 ملین ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہماری پیداوار ملکی ضروریات سے چار سے پانچ ملین ٹن زیادہ ہی ہوتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت میں اضافے کے سبب حکومتی اداروں کو فوڈ سیکیورٹی اور گندم کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات اٹھانا ہونگے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے ملکی اداروں کے ساتھ عالمی ادارے جن میں ناسا بھی شامل ہے یہ شواہد پیش کر چکے ہیں کہ دنیا کا درجہ حرارت گزشتہ ایک سو پچاس برسوں کے مقابلے میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ناسا کی جانب سے 1880 ءسے 2015 ءتک کے پیش کئے جانیوالے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 35 برسوں میں عالمی درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہےاور سال 2015ءتاریخ کا گرم ترین سال ریکارڈ کیا گیا ہے ۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.