چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کیوں برطرف ہوئے؟

    March 27, 2021 4:27 pm PST
taleemizavia single page

اسلام آباد: آمنہ مسعود

ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین کو مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل عہدے سے فارغ کیا گیا ہے اس کے لیے ایچ ای سی آرڈیننس ۲۰۰۲ء میں ترمیم کی گئی ہے۔ ڈاکٹر طارق بنوری کو ترمیمی آرڈیننس کی منظوری کے بعد عہدے سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

کمیشن کے آرڈیننس کی شق پانچ میں ترمیم کر کے چیئرمین کی مدت ملازمت چار برس سے کم کر کے دو برس کر دی گئی ہے، اس ضمن میں کیبنٹ ڈویژن نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین ایچ ای سی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی اس کمیٹی کا کنونیئر بیرسٹر فروغ نسیم کو مقرر کیا گیا، کمیٹی کی جانب سے کمیشن کے ایکٹ میں ترامیم کی سفارش کی گئی تھی جس کے بعد ڈاکٹر طارق بنوری کو عہدے سے ہٹایا گیا۔

وفاقی حکومت اور ایچ ای سی کے باوثوق ذرائع بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر طارق بنوری کو اقرباء پروری کی بناء پر عہدے سے فارغ کیا گیا جبکہ ن لیگ حکومت میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے طارق بنوری کو چیئرمین تعینات کیا تھا۔ چیئرمین سرچ کمیٹی کے کنونیئر لمز کے پرو چانسلر سید بابر علی مقرر تھے جن کی سفارش پر یہ تقرری عمل میں لائی گئی۔

تعلیمی زاویہ کو باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ دو برس کے دوران ایچ ای سی میں من پسند افراد کو ایکٹ کی سنگین خلاف ورزیاں کرتے ہوئے تعینات کیا گیا اور ان افراد کی تقرری میں کمیشن پر بھاری مالی بوجھ ڈالا گیا۔

تعلیمی زاویہ کی جمع کردہ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر طارق بنوری نے دس کنسلٹنٹس کی بھرتیاں کیں، ان بھرتیوں کے عوض ایک کنسلٹنٹ کو آٹھ لاکھ روپے تک ماہانہ تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات بھی دی جارہی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ کنسلٹنٹ کو ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کمیشن ممبر کے چارج بھی سونپ دیے گئے۔

تعلیمی زاویہ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر طارق بنوری نے ایچ ای سی میں آصف شاہد خان اور رضوان راشد کو کنسلٹنٹ آئی ٹی، ارشد احمد کو کنسلٹنٹ فنانس، ڈاکٹر سارہ زبیر کو کنسلٹنٹ پروگرام ڈویلپمنٹ بھرتی کیا گیا۔

ڈاکٹر محمد داؤد منیر کو کنسلٹنٹ پالیسی اینڈ لیگل افیئرز، فضل عباس کو کنسلٹنٹ انسٹیٹویشنل ریفارمز، ڈاکٹر ذوالفقار گیلانی کو کنسلٹنٹ انڈر گریجویٹ پروگرام بھرتی کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد اصغر کو سی پیک اکیڈمک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے عہدے پر کنسلٹنٹ بھرتی کیا گیا اور اس کے بعد انھیں کمیشن کا ممبر بنا دیا گیا اس کے ساتھ فائز عامر کنسلٹنٹ سٹریٹیجک پلاننگ تعینات کرنے کے بعد کمیشن کے ممبر بنا دیے گئے۔

ایچ ای سی میں طارق منصور کو کنسلٹنٹ لیگل افیئرز اور نادیہ طاہر کو ایم ڈی کوالٹی ایشورنس تعینات کیا گیا جن کا کنٹریکٹ ختم ہوگیا ہے۔ صرف یہی نہیں کنسلٹنٹس بھرتی کرنے کے بعد برطرف چیئرمین نے انھیں ورلڈ بینک کے پراجیکٹس کی ذمہ داریاں بھی سونپ دیں۔

ڈاکٹر طارق بنوری نے 26 مارچ کو 12 ڈائیریکٹر جنرل کے عہدوں پر تقرریوں کیلئے بھی سلیکشن بورڈ طلب کر رکھا تھا، اس بورڈ میں انھوں نے ایم پی ون اور ایم پی ٹو سکیل پر بھی مزید افراد کی بھرتیاں مکمل کرنا تھیں تاہم ملازمین کے احتجاج کے باعث یہ بورڈ گزشتہ روز منعقد نہیں ہوسکا۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن گزشتہ دو برس کے دوران مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گیا ہے اور کمیشن میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا اہم ترین عہدہ بھی دو برس سے خالی ہے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے عہدے پر ڈیپوٹیشن پر شائستہ سہیل کو تعینات کیا گیا ہے۔

دوسری جانب لمز کے پرو چانسلر سید بابر علی نے ڈاکٹر طارق بنوری کو عہدے سے ہٹانے پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے اور سید بابر علی نے وفاقی وزیر تعلیم۔شفقت محمود کے نام امریکا سے مراسلہ لکھ دیا ہے۔

سید بابر علی نے موقف اپنایا ہے کہ انھوں نے بہ طور کنونیئر سرچ کمیٹی ڈاکٹر طارق بنوری کو چیئرمین کے عہدے پر تعینات کرنے کے لیے شارٹ لسٹ کیا تھا ۔ سید بابر علی نے شفقت محمود کو باور کرایا ہے کہ انھوں نے عام انتخابات میں شفقت محمود کو ہی ووٹ کاسٹ کیا تھا۔

سید بابر علی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کو ایچ ای سی کا پہلا چیئرمین تعینات کرنا بدقسمتی تھی، کسی قوم کی تباہی کیلئے نیوکلیئر بم کی ضرورت نہیں بلکہ نااہل شخص اور بے ایمان افراد کے ہاتھوں تعلیم دینا کافی ہے، سید بابر علی نے زور دیا ہے کہ شفقت محمود صاحب اگر آپ پاکستان کے بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو آواز اٹھائیں۔

سید بابر علی نے اس مراسلہ میں یہ بھی کہا ہے کہ اُن کی عمر 95 برس ہو چکی ہے اور وہ ترقی کرتا پاکستان دیکھنا چاہتا ہیں۔

 واضح رہے کہ ڈاکٹر طارق بنوری کی عمر 72 برس ہے اور وہ اپنی تقرری سے قبل امریکا کی یونیورسٹی آف اتھاہ میں تعینات تھے۔

  1. He was Executive Director GCISC, an attached department of Ministry of Climate Change before his selection as HEC head…before GCISC , he was in serving in USA

  2. Is there any one to inform Baner sb about illigalities of his recommendedpersonality for HEC. He was a king rather than a law binding govt employees

Leave a Reply to A Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *