تنقید کے نام پر ادبی کاروبار

  • 246 Views
  • April 22, 2018 7:57 pm PST

pag1-image

ڈاکٹر ذکیہ رانی

اکیسویں صدی میں ادب اور سماج کے مباحث زور پکڑتے جارہے ہیں، اس ضمن میں نوآبادتی ادب کے مطالعے، جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے مباحث اور لسانیاتی جائزوں کے درمیان امتزاجی تنقید کا شوشہ، اُردو کے ناقدین کو متحرک رکھے ہوئے ہے۔ بیسویں صدی میں اُردو ادب ، دوعالمگیر جنگوں، انگریزوں کی حکمرانی اور تقسیم کے عمل سے گزرا۔ ادب، سماج کا عکاس ہوتا ہے۔

اُردو تنقید میں بھی اسی نوع کی عکاسی دیکھی جاسکتی ہے کہ جب فارسی اور عربی کی روایت سے گریزاں ہونا شروع ہوئے اور ایک نئی سمت، یعنی اُردو اور ہندوستانی تہذیب کی سمت گامزن ہوا چاہتے تھے کہ انگریزکی حکمرانی نے ہمیں ایک نئی ڈگر پر ڈال دیا ، یعنی پہلے پہل ہم فارسی اور عربی کی تتبع میں اپنا آپ دیکھتے تھے،بعد ازاں انگریزی کے آئینے میں اپنے خدوخال کو حسین سمجھنے لگے ۔

اُردو تنقید کا منظر نامہ اسی شکست وریخت سے عبارت ہے، اسی بات کو ڈاکٹر محمد حسن بھی کسی اور انداز سے کہہ چکے ہیں،لہذا اُردو تنقید کا کوئی بھی محقق، تجزیہ کرتے ہوئے ہندوستان کی مذکورہ شکست وریخت کو ملحوظ نہیں رکھے گا تو یقیناً وہ تجزیے کا حق ادا انہیں کرسکتا، اس اعتبار سے اگر ہم دیکھیں تو یقیناً اُردو تنقید میں اتنی قوت ہے کہ وہ اپنا مستقبل محفوظ بنالے۔

یہ بھی پڑھیں؛ اُردو شاعری اور فن ترجمہ میں دُشواری

ساٹھ کی دہائی کے بعد، جہاں ترقی پسندوں کا زوال شروع ہوا ، وہیں نفسیات او ر لسانیات نے نئی کروٹ لی ۔ علوم وفنون کا ادب میں اظہار کا زاویہ بھی بدلنے لگا، صحافت کی گرفت نے علم ِبیان کے پُر معافی اظہاریوں پر ضرب لگانی شروع کی، ادب برائے ادب کی فضا میں قاری اور سامع کی کامیابی کا آغاز ہوا ۔

قاری اساس تنقید‘‘لکھی جانے لگی ۔ ادیب وناقد کو اس منظر نامے میں قاری یا سامع تک رسائی میں دشواری محسوس ہونے لگی ۔ ادبی جرائد ورسائل کی اشاعت خسارے کا سودا قرار پایا۔ ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اس ضمن میں رقم طراز ہیں؛

جانیئے؛ علم و حکمت کا عظیم سندھی مفکر

رسائل وجرائد میں آئے دن، جو تنقید دکھائی دیتی ہے، وہ تنقید نہیں، تنقید کے نام پر کاروبارہے اور اس کی حقیقت زیادہ سے زیادہ ادب کے اشتہار کی سی ہے ، بیشتر لکھنے والے کسی نہ کسی علاقائی یا شخصی گروہ یا انجمنِ تحسینِ باہمی کے اراکین معلوم ہوتے ہیں،لیکن ان میں سے زیادہ تر چونکہ ادب کی نوعیت وماہیئت یا اس کے نظریاتی مضمرات سے بے بہرہ ہیں یا سرے سے ادب ہی کے بارے میں سنجیدہ نہیں، دادو تحسین کا حق بھی ٹھیک سے ادا نہیں کرپاتے، روایتی تنقید ادب کے جسم پر ایک بدنما ناسور ہے،جو ادب کے خون پر پلتا ہے‘‘۔

قدما کے تبحرِ علمی کو طاقچوں میںسجا دیا گیا ۔ نئی غزل، نئی نظم، نیا افسانہ اور نئی تنقید کی باتیں ہونے لگیں۔ نئی تنقید ہو کہ نئی تخلیق اسے پورا آدمی چاہیے۔ ادب ، زندگی کی اکائی کی شکل میں پیش کرتا ہے اور ناقد، اس اکائی کی تفہیم کراتا ہے۔

ضرور پڑھیں؛ انگریز نے برصغیر کی لسانی شناخت کیسے بدلی؟

وہ قطعاً ادب میں تیسرا آدمی نہیں ہوتا، البتہ تدریسی سطح پر تشریحی تنقید، تیسرے آدمی جیسا مظاہرہ نظر آتا ہے۔ ان معروضات کی روشنی میں آج کے ناقد اور تخلیق کار کے لیے عصری علوم سے آگاہی ناگریز ہے، عصر کسی بھی مفہوم یا بات کو پہنچاتے کے لیے بنیادکاکام کرتا ہے اور عصری علوم، اُس عصر کے تلازموں کی مانند ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے صفِ اوّل کے شعرا اپنے عصری علوم وفنون سے بھی کماحقہ، بہرہ مند تھے۔

ڈاکٹرمحمد حسن’’ ہم عصر اُردو تنقید: میلانات ومسائل‘‘ میں لکھتے ہیں؛

آخر مغربی آئین وضوابط کے چلن سے پہلے بھی توعلم بیان موجود تھا ۔ فصاحت اوربلاغت کے اصول بھی وضع ہوئے تھے اور ان پر شاعروں نے طبع آزمائی کی تھی ، برسہا برس نہیں، صدیوں تک اپنے اپنے ڈھنگ سے ان اصول وضوابط کی پیروی بھی ہوتی رہی اور ان کا سلسلہ، عرب کے دور جاہلیہ سے ابنِ رشیق تک اور ایران میں نظامی عروضی سمر قندی کے چہار مقالہ تک برابر جاری رہا ہے، یہ درست ہے کہ اب اس دور کی تنقیدی اصطلاحوں کے مفہوم دھندلا گئے ہیں، مگر ان کی بازیافت اب بھی عصرِ حاضر پر فرض ہے۔

آخر مضمون آفرینی، ادا بندی، بندش کی چشتی جیسی اصطلاحوں کے پیچھے کون سا تنقیدی شعور چھپا ہوا تھا اور اس نے اس دور کے تخلیقی ادب میں کیا رنگ ڈھنگ اختیار کیے، یہ بھی دریافت طلب مسائل ہیں اور ان کی روشنی میں کم سے کم کلاسیکی ادیبوں کی روش کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

جانیئے؛ پاکستان میں اُردو تحقیق کا بحران

مغرب کے اثرات کی روشنی میں آج کے عصری علوم کے شناساناقدین قومی علوم وفنون یا تہذیب وثقافت کواس طرح تفہیم کا ذریعہ نہیں بنا پاتے، جس کی وجہ سے اُردو تنقید مغرب کے لبادے میں اُردو کم ، مغربی زیادہ نظر آتی ہے یعنی چبائے ہوئے نوالوں کے اگلنے کا عمل جب تک اطلاقی نوعیت اختیار نہیں کرلیتا، اُردو تنقید کا مستقبل مشکوک نظر آتا ہے بقول ڈاکٹر محمد حسن؛

اگر تنقید محض لفاظی پر اُتر آئے، محض واحد متکلم سے لبالب انشائیوں کی خودنمائی بن جائے، محض سرٹیفکیٹ، تقریظ یا خلعت یادشنام کی خوش اسلوبی میں ڈھل جائے یا محض عملیت کی نمائش یا مغربی علوم کی جگالی سے عبارت ہوکر رہ جائے تو وہ اپنے بنیادی منصب سے روگردانی کی مرتکب ہورہی ہے۔ ان معنوں میں ہم عصر اُردو تنقید پر بھی وہی الزام عائد ہوتا ہے، جو کلیم الدین احمد نے پوری اُردو تنقید پر لگایا کہ اس کا وجود صفر کے برابر ہے وہ اُردو شاعری کے روایتی محبوب کی کمر کی طرح موہوم، بلکہ غیر موجود ہے۔

شمس الرحمان فاروقی کے مطابق ’’ ہماری بیشتر ادبی تنقید، افسوس ناک حد تک ژولیدہ فکری کا شکار نظر آتی ہے۔ وٹ گن شٹائن نے ایک بار برٹرنڈرسل کے بارے میں کہا تھا کہ رسل نے فلسفہ اس لیے ترک کردیا کہ اس کے پاس مسائل کا فقدان ہوگیا تھا ۔ یہ اس نے اس معنی میں کہا کہ جتنے بھی مسائل خارجی دنیا کے علم کے بارے میں ممکن تھے ، رسل نے ان سب کو جانچ پرکھ ڈالا تھا اور اب ایسے مسائل باقی ہی نہ تھے، جن پر وہ اپنا زور صرف کرتا ۔

یہ بھی پڑھیں؛ پاکستان میں اُردو کو شناخت کی تلاش

آج کی اُردو تنقید پربھی یہ قول صادق آتا ہے، لیکن اُلٹے معنوں میں ، یعنی مسائل کا فقدان اس لیے نہیں ہے کہ سارے سوالات پر بحث ہوچکی، بلکہ اس لیے ہے کہ سوالات اٹھائے ہی نہیں گئے‘‘۔

جامعات کی سطح پر طالب علموں کے تخلیقی میلانات کے ظہور کا اہتمام کرناناگریز ہے کہ اب اُردو تخلیق، تحقیق تا تنقید کا مستقبل اُن ہی کے ہاتھ ہے کہ دیکھیں آنے والے کل میں کون حالی ہوتا ہے، کون فراق، کون شمس الرحمن فاروقی، کون وارث علوی۔ ہرچند کہ یہ باتیں مایوسی لیے ہوئے ہیں، لیکن بیماری کا خاتمہ مرض کی تشخیص کے بغیر ناممکن ہوتا ہے۔

آنے والے کل میں گلوبلائزیشن کے زیر اثر انٹرنیٹ اور الیکڑانک میڈیا اُردو تنقید کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے کہ یہی اب اکیسویں صدی کے تقاضے ہیں۔ میڈیا کو یہ ذمے داری اس لیے بھی نبھانی چاہیے کہ دنیا کے ابتدائی میڈیا نے ادب کی گود میں پروان چڑھنا سیکھا تھا اور آج میڈیا کی گود میں ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *