پاکستان میں اُردو کو شناخت کی تلاش

  • 725 Views
  • اگست 5, 2017 5:33 بجے PST

pag1-image
قومی زبان کا درجہ ملنے کے باوجود پاکستان میں اُردو زبان کی ترویج میں بیوروکریسی بڑی رکاوٹ ہے۔

ڈاکٹر محبوب حسین

جب یہ فیصلہ ہوا کہ مقابلے کا امتحان اُردو زبان میں بھی ہوگا تو افسری کا شوق رکھنے والے اور اُردو زبان پر عبور رکھنے والے تو گویاوہ فوری طور پر سی ایس پی بن گئے۔مگر انگریزی زبان کو تہذیب کی علامت سمجھنے والی افسر شاہی یا پھر ملک کے پالیسی ساز کیسے اپنی گرفت کو اس ملک پر کمزور کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟

اُردو زبان کی ترویج کیلئے کاوشوں میں کچھ گمشدہ شخصیات بھی ہیں جو انگریز دانی کے صرف اس واسطے خلاف ہیں کہ اپنی تہذیب سے بہت لگاؤ رکھتے ہیں کیونکہ تہذیب میں زبان کی حیثیت ایک جز نہیں بلکہ کل ہوتی ہے۔

ایک ایسی ہی گمشدہ شخصیت بابا احمد حسن کی ہے۔ بابا احمد حسن کون ہے؟ اور وہ اُردو زبان کے دل دادہ کیونکر ہوئے یہ جستجو تو مجھے بھی ہوئی اس لیے میں عافیت چلا آیا۔ یہ سماجی بہبود پنجاب کا ایک فلاحی ادارہ ہے جہاں بہت سی گمشدہ شخصیات گوشہ ءعافیت اختیار کیے ہوئی ہیں۔ دُنیا سے بے غرض بلکہ دُنیا بھی ان سے کبھی کبھی بے غرض نظر آتی ہے۔

یہاں پہنچا تو ایسے لا وارث بزرگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جو راہ حیات کا سفر مکمل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے، اس ’ عافیت‘ میں موجود ہر فرد ایک پوری کتاب تھا اور کتاب بھی ایسی جو کبھی خوش کن ہو تو ہو مگر اب اس کے ہر ورق پر دکھوں کے سائے پڑ چکے تھے، اس کتاب زیست کا کوئی بھی صفحہ پلٹ لیں ہر صفحے پر لکھی جانے والی سطر ، ان سطروں میں سموئے الفاظ اور ان لفظوں میں چھپے معنی سب دکھ کی تحریر تھے ۔

پڑھیں؛ اُردو تحقیق کا بحران ہائر ایجوکیشن کمیشن خاموش کیوں؟

یہاں کے ایک شخص کی کہانی کچھ الگ تھی، بکھری ہوئی تھی، اُدھوری تھی جیسے وہ اس کہانی کو سنانے اور اسے پورا کرنے کے لیے بے تاب ہو بلکہ اسی کہانی کو پورا کرتے کرتے وہ عافیت پہنچ گیا۔

چراغ سحر ی کی مانند یہ لوگ ساری رات جل کر تھک چکے تھے اور اب خود کسی ایسے جھونکے کی تلاش میں تھے جو ان کی زندگی کا چراغ گل کر کے انہیں زیست کی زنجیر سے آزاد کر دے ان بزرگوں میں ایک بابا احمد حسن بھی تھے جو اس وقت با حوصلہ اور پر عزم تھے ان کی کہانی بڑی دلچسپ تھی۔

یہ پنجاب کے علاقے جہلم کے ایک گاوئں سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے 1941ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے گریجویشن کر رکھی تھی اور تحریک آزادی میں بھر پور کردار ادا کرنے کے بعد قیام پاکستان کا منظر اپنے ہاتھوں سے سینچ کر یہاں اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا۔

مگر زمانے کی دست برد سے قائم نہ رہ سکا اور وہ چلتے چلاتے یہاں آن پہنچے تھے، ان کا یہاں ذکر کرنے کا مقصد ان کا وہ جزبہ جنون بیان کرنا ہے جو اردو زبان سے متعلق تھا، انہیں اردو زبان سے اپنے آپ سے بھی زیادہ پیار تھا وہ ’اردو ہماری قومی زبان‘ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھ چکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں؛ سی ایس ایس امتحان کیا اُردو غریب زبان ہے؟

انہوں نے بتایا کہ میری زندگی کا مشن ہے کہ اردو کو مکمل دفتری زبان قرار دلوا سکوں ، ان کے نحیف و ہونٹوں سے اتنی پر عزم بات نے ماحول کو جزباتی بنا دیا تھا اور پھر بابا احمد حسن کے اندر اپنے وطن، اسکی زمین اور اس زبان سے جو محبت تھی وہ اچھل اچھل کر باہر آنے لگی۔

اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں سے متعلق اپنے کانپتے ہاتھوں سے ایک فائل نکال کر دکھائی جس میں ایک ایسا خط بھی تھا جو ایک سابق صدر پاکستان نے ان کے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا، آپ کی تجاویز متعلقہ حکام تک پہنچا دی گئی ہیں جن پر کسی مناسب وقت پر عمل درامد کیا جائے گا۔

اس خط کی تحریر کو غصے اور تمسخر کے ملے جلے جزبات کے ساتھ پڑھتے ہوئے بابا احمد حسن نے اسے جھٹک دیا اور بولے کہ وہ مناسب وقت نہ جانے کب آئے گا ۔ ان کو آئین کی وہ شق 251 اور اس کے الفاظ زبانی یاد تھے جس میں اردو کو سرکاری و دفتری زبان قرار دیا جانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں؛ خط کوفی عربی و اُردو تحریر کا ورثہ

جہاں واضح الفاظ میں درج ہے کہ اس دستور کے نفاذ کے بعد 15 سال کے اندر اندر اردو کو دفتری زبان قرار دیا جانا ضروری تھا اور یہ مدت چودہ اگست 1988ء کو ختم ہو چکی ہے اور اس آئینی خلاف ورزی کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی ، پھر وہ خود ہی بولے توجہ کون دیتا توجہ دینے والے تو خود ہی اسے بھلائے بیٹھے ہیں ۔

اپنے شکوئے کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کا گریڈ بائیس کا ہر افسر چاہتا ہے کہ اس کی اولاد بھی اس منصب تک پہنچے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب ان کے سر پر انگریزی کی چھتری برقرار رہے۔

وہ اس مقصد کے لیے طبقاتی نظام تعلیم کو بھی ختم نہیں ہونے دیتے بلکہ دن بدن اس میں شدت آتی جا رہی ہے، اگر ایسا ہو جائے تو میرے اور آپ جیسے لوگ بھی اختےار اور اقتدار میں حصہ لینے پہنچ جائیں گے جو ان مرات یافتہ طبقے کو کبھی گوارا نہیں ہو گا ، اسی لیے ایک خاص پلانگ کے تحت اردو کی ترویج نہیں ہونے دی جارہی ۔

وہ اپنی فائل کے اگلے ورق پلٹتے ہوئے کہتا گیا یہ دیکھو پنجاب کے ایک سابق وزیر اعلی کو بھی خط لکھا ، اردو کی ترقی کے لیے بنائی جانے والی نام نہاد تنظیموں کو بھی لکھا مگر سب نے اپنے اپنے مفاد کے کمبل اوڑھے ہوئے ہیں ۔

آج اتنے برس گزرنے کے بعد بھی بابا احمد حسن کی باتیں ملک کے 70 ویں یوم آزادی پر اسی طرح اہم ہیں ، اردو کے نفاذ کی تحریک ، قیام پاکستان کا ایک اہم نعرہ تھا ، یہ نعرہ آج استحکام پاکستان کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاکستان میں چھپنے والے اُردو اخبارات کو اُردو زبان کے تحفظ کیلئے ایک تحریک چلانا ہوگی تاکہ ہماری تہذیب کی شناخت باقی رہے۔

اُردو زبان کے ساتھ ہم نے سانجھے داری اور شراکت قبول نہیں کی تھی تو پاکستان ٹوٹ گیا، بنگالی زبان تو ہمیں قبول نہیں تھی لیکن آج تک اُردو کی سانجھے دار انگریزی کی شراکت ختم کرنے میں ہم نے کیا کیا؟


mehboob hussain final
ڈاکٹر محبوب حسین شعبہ تاریخ، پنجاب یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور فپواسا کے سابق جنرل سیکرٹری رہے ہیں۔

4 thoughts on “پاکستان میں اُردو کو شناخت کی تلاش”

  1. ڈاکٹر صاحب اس بے حس قوم کی خودغرض اشرافیہ پر آپ کے کالم کا شائد ذرہ برار بھی فرق نہ پڑے ۔شائد وہ بھول چکے ہیں کہ بیرونی دنیامیں عزت ان کو صرف اس صورت ہی مل سکتی جب ان کی بحیثت قوم دنیا میں کوئی عزت وقار ہو۔اور وہ عزت و وقار صرف اسی صورت مل سکتا ہے جب کسی قوم کا کوئی اپنا ورثہ ہو، کوئی اپنی پہچان ہو۔لیکن پھربھی شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ نے ہمیں یہ تویاد دلایا کہ ہماری قومی زبان اردو ہے۔

  2. بہت خوب
    آپ كا اسلوب اور موضوع دونوں قابل داد ہیں، اردو زبان كی ترویج اور نفاذ كے لیے ایك قابل قدر كردار ”باب أحمد حسن“ كی پیش كش كے ضمن میں آپ نے اپنی طرف سے بھی اس عظیم قومی خدمت میں اہم كردار پیش كیا ہے، ہم آپ سے اس سلسلے میں سعی پیہم كی امید ركھتے ہیں، اللہ تبارك وتعالی سے بھی دعا ہے كہ آپ كو استقامت عطا فرمائے

  3. اللہ کریم احمد حسن صاحب کو صحت و توانائی عطا فرمائے ۔قومی خدمات انجام دینے والی ایسی گم شدہ شخصیات کو متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آپ اس خدمت پر شکریہ کے مستحق ہیں۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.