اساتذہ کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو ماننے سے انکار

  • 255 Views
  • جنوری 9, 2017 10:48 بجے PST

pag1-image
اتھارٹیز کے باعث سکولوں کے اساتذہ اور ہیڈ ماسٹرز بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہوں گے اور سیاسی مداخلت بڑھے گی۔ اساتذہ

سٹاف رپورٹر/ملتان

پنجاب کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ نے بلدیاتی حکومتی نظام کے تحت بننے والی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو ماننے سے انکار کر دیا، اساتذہ کے مطابق یہ تعلیم کے ساتھ ایک نیا تجربہ ہے جو معیار تعلیم کو مزید گرانے کا سبب بنے گا۔

سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی تنظیم گرینڈ ٹیچرز الائنس نے اپنے بیان میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ دو ہزار تیرہ کے تحت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کے قیام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

گرینڈ ٹیچرز الائنس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سے بلدیاتی نمائندوں کو نہ صرف طاقت حاصل ہوگی بلکہ یونین کونسل کی سطح پر سکولوں پر اُن کا اثر اور کنٹرول بھی بڑھ جائے گا اور ان نمائندوں کو سکولوں کا یہ اختیار دینا تعلیم کے ساتھ نیا تجربہ ہے۔

گرینڈ ٹیچرز الائنس کے مطابق بلدیاتی نظام میں تعلیمی ڈھانچہ یورپی سسٹم سے مطابقت رکھتا ہے جسے من و عن نافذ کرنے سے سکولوں میں سیاسی مداخلت بڑھ جائے گی۔

جی ٹی اے کے مطابق اتھارٹیز کا قیام بنیادی طور پر پرانے سسٹم کو نئے انداز میں نافذ کیا گیا جو کہ سرکاری وسائل کا ضیاع ہوگا۔

جی ٹی اے لیڈرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس نئے نظام سے سکول ایجوکیشن سسٹم میں اخراجات کا اضافہ ہوگا، سیاسی مداخلت بڑھنے سے سکول اساتذہ کے مسائل بھی بڑھیں گے۔

گرینڈ ٹیچرز الائنس کے مطابق حکومت صوبے میں تعلیم پر مسلسل تجربات کر رہی ہے اور اب تعلیمی نظام کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کا حکومت کو اندازہ نہیں ہے۔

گرینڈ ٹیچرز الائنس کے لیڈرز کہتے ہیں کہ نئے نظام میں ای ڈی او ایجوکیشن کا عہدہ چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ڈی سی او کا عہدہ ڈپٹی کمشنر کے عہدے سے تبدیل کرنے سے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آنے لگی اور اس نئے نظام کو انقلابی نظام کے ساتھ منسوب کرنا ظلم ہے۔

گرینڈ ٹیچرز الائنس نے ان اتھارٹیز کے خلاف احتجاج کا بھی اعلان کیا ہے۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.