فیثا غورث نے ہندوستان سے کیا سیکھا؟

  • 1237 Views
  • جنوری 2, 2017 11:42 بجے PST

pag1-image

اکمل سومرو

فیثا غورث کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک عظیم ریاضی دان اور فلسفی کا تصور اُبھرتا ہے۔ فیثا غورث نے پہلے بھی کُچھ ریاضی دانوں نے ریاضی کے حوالے سے کام کیا اور بعد کے ریاضی دانوں نے بھی ریاضی کے حوالے سے دریافتیں کیں لیکن فیثا غورث کا کام سائنسی بنیادوں پر تھا اور اس نے اپنے تجربات کو باقاعدہ طور پر ثابت کیا۔

فیثا غورث کو اکثر تاریخ دانوں نے پہلا خالص ریاضی دان کہا ہے یہ حقیقت ہے کہ فیثا غورث اپنے ریاضی کے اعلیٰ ترین کام کی وجہ سے اور ریاضی کے موجودہ ترقی یافتہ کام کی وجہ سے تاریخ عالم میں اہم ترین شخص ہے اس کے ریاضی کے کارنامے مشہور ہیں۔

ریاضی دان کے علاوہ بھی فیثا غورث ایک عظیم فلاسفی، سائنس دان، طبیب، موسیقار، قانون دان، فلکیات دان، فلاح کار، سیاست دان، ماہر مذہب اور عظیم اُستاد تھا۔

فیثا غورث نے اپنی تعلیم مشرق میں حاصل کی تھی قدیم زمانہ میں اکثر یونانی مختلف علوم کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مشرقی ممالک کا سفر کیا کرتے تھے۔ خاص کر بحیرہ روم کے مشرقی کناروں پر آباد شہروں میں بڑے بڑے عالم لوگ تھے جن سے مغربی لوگ تعلیم حاصل کرتے تھے۔

فیثا غورث نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سوسائٹی سیمی سرکل کی بنیاد رکھی وہ اس سوسائٹی کا سربراہ تھا۔ یہ سوسائٹی نیم مذہبی اور نیم سائنسی تھی اس کی سوسائٹی کے ممبران ایک ضابطہ کی پاپندی کرتے تھے کہ وہ اس سوسائٹی کے رازوں کو پوشیدہ رکھیں گے اس لیے آج تک فیثا غورث خود بھی پُراسرار شخصیت رہے ہیں۔

معروف تاریخ دان ویل ڈیورانٹ اپنی معروف کتاب سٹوری آف سویلائزیشن یعنی تہذیب و تمدن کی کہانی میں لکھتا ہے کہ فیثا غورث نے علم کی جستجو میں بہت زیادہ سفر کیے وہ ساموس سے مصر گیا اور وہاں کے مذہبی کاہنوں سے ریاضی، انجینئرنگ اور ادویات کا علم حاص کیا۔

وہ بابل اور اس کے قریبی جزائر پر بھی گیا لیکن اس کا ناقابل فراموش سفر ہندوستان کا ہے۔ ہندوستان سے اس نے علم ہندسہ کے علاوہ تناسخ کے نظریہ کو بھی پورے طور پر قبول کیا۔ ہندوستان کی پُراسرار زمین کا نظریہ تناسخ کبھی بھی اس کے ذہن سے محو نہ ہوسکا۔ اس نظریہ کو اس نے اپنا کر اپنے شاگردوں کو بھی تعلیم دی۔

فیثا غورث کے نظریہ تناسخ کے حوالے سے یہ بات تو یقینی ہے کہ اس نے ہندوستان کا سفر کیا لیکن اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ اس نے یہ سفر کب، کیسے اور ہندوستان کے کس علاقے تک کیا۔ ویل ڈیورانٹ کا ماننا ہے کہ فیثا غورث نے چھ سو قبل مسیح میں یہ سفر کسی ہندوستان سمیری یا اشوری تجارتی جہاز پر کیا ہوگا۔

کیونکہ اس بات کے یقینی شواہد موجود ہیں کہ سمیری، بابلی اور فونیقی تجارتی جہاز ہندوستان جاتے تھے اور وادی سندھ اور ہڑپہ سے بھی تجارتی جہاز بابل اور مصر کی بندرگاہوں تک آتے تھے۔ لیکن ویل ڈیورانٹ پورے وثوق سے کہتا ہے کہ فیثا غورث ایران کے راستے ہندوستان آیا تھا۔

فیثا غورث میں علم کی جستجو بہت زیادہ تھی کیونکہ اس علمی جستجو میں وہ مصر، بابل، کریٹ، ڈیلفی کے مندر بھی گیا تھا ان تمام جگہوں پر اس نے کاہنوں، پچاریوں اور فلسفے، ریاضی، جیومیٹری اور علم ادویات کے علماء سے گفتگو کی تھی اور ان سے بہت کچھ سیکھا تھا۔

ہندوستان میں بھی اس نے ایسے ہی علماء اور پجاریوں سے ملاقات کی ہوگی اور تناسخ کا عقیدہ یہیں سے لیا تھا۔

فیثا غورث ایران کے راستے ہندوستان کے میدانی علاقوں تک آیا تھا میدانی علاقوں سے مُراد پنجاب ہے، پنجاب کا یہ میدان دنیا کا سب سے بڑا میدان ہے جو کوہ ہمالیہ کی ترائیوں سے شروع ہوکر جس میں ہستناپور، موجودہ دہلی سے لے کر ڈیرہ غازی خان کے نیم صحرائی علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔

اس عظیم میدان میں گنگا، جمنا تہذیب کے علاوہ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کی شاندار تہذیبیں بھی تھیں جو کہ تین ہزار پانچ سو قبل مسیح میں بھی عروج پر تھیں۔ اسی عظیم میدان کی زرخیزی کی وجہ سے ہمیشہ غیر ملکیوں نے اس پر حملے کیے اور اس کی دولت کو لوٹا۔ اسی خطے میں ہندوستانی تہذیب کے بڑے بڑے معمار پیدا ہوئے جنہوں نے علم و گیان سے بھرپور وید لکھے۔

یہ وید سترہ سو قبل مسیح سے لے کر گیارہ سو قبل مسیح میں لکھے گئے ان ویدوں کو ہندوستانی رشی منی، برہمنوں، سنیاسیوں، یوگیوں اور مذہبی پجاریوں نے لکھا۔ ان میں رگ وید، یجروید، سماوید اور اتھروید ہیں۔

ان میں دیوتاؤں کے حمدیہ گیت، جادو ٹونے کے منتر، مذہبی رسوم، زمین آسمان کی تکوین، سورج چاند ستاروں کی ہیت، گیان دھیان، تذکیہ نفس، باطنیت، خارجیت، ارواح تناسخ، الفاظ و اعداد، روح کی ابدیت، محاسبہ اعمال، جنسیات اور علم و حکمت پر مشتمل ہیں اس کے علاوہ مہا بھارت اور رامائن جنگی رزمیہ ہیں۔

ہندوستان میں بارہ سو قبل مسیح سے لے کر چار سو قبل مسیح تک ریاضی، ٹرگنومیٹری، ہندسہ اور فلکیات میں بہت سی دریافتیں کی گئیں۔

ہندوستانی ریاضی دان اور ہیت دان جو کہ اپنے ریاضی کے کام کی وجہ سے بہت معروف ہوئے ان میں آریا بھاٹا، برہما گپتا، مہاویرا، بھاسکرا، مادھوا اور نیلا کنتا سومایہ جی سرفہرست ہیں۔ ان ریاضی دانوں کے ڈیسیمل نمبر اب بھی استعمال ہوتے ہیں، ڈیسمیل نمبر کے حوالے سے ہمیں پہلا ریکارڈ ہندوستان ہی سے ملتا ہے۔

صفر کو بھی ہندوستانیوں نے ہی عدد قرار دیا اس کے علاوہ منفی اعداد، ارتھمیٹک، الجبرا اور ٹرگنومیٹری کا قدیم حوالہ بھی ہمیں ہندوستان سے ہی ملتا ہے۔ دائرہ اور اس کے مرکز میں نقطء ہندوستانیوں کی روحانیت کا بنیادی مرکز تھا وہ دائرے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے انہوں نے دائرے کو تین سو بیس درجوں میں تقسیم کیا اور اس کو ہندسوں کا سردار قرار دیا تب سے اںہوں نے صفر کو ریاضی میں استعمال کرنا شروع کیا اور اس کے بارے اصول وضع کیے۔

ہندو برہمنوں نے بہت سے علوم میں مہارت حاصل کر لی تھی ان علوم میں ہیت، ریاضی، طب اور ستاروں کا علم شامل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ہندو برہمنوں نے علم نجوم اور ہیت بابلی لوگوں سے سیکھا تھا اور ان علوم کو بہت زیادہ ترقی یافتہ بنا دیا تھا انہوں نے آسمانی برجوں کی تقسیم کر کے جدول بھی مرتب کی تھی۔

ایک ہندو عالم برہم گپت نے ایک سال کی صحیح صحیح پیمائش بھی کی تھی جس کو اس وقت زیادہ اہمیت نہ دی گئی تھی۔ برہم گپت نے ایک سال کی پیمائش کر کے قرار دیا تھا کہ ایک سال تین سو پینسٹھ دن، چھ گھنٹے اور چھ سیکنڈ کا ہے۔

اس دور کا آریا بھٹ، علم ریاضی اور علم ہیت میں بہت مہارت رکھتا تھا اس کا کہنا تھا کہ زمین گول ہے اور یہ خلاء میں گردش کرتی ہے۔ آریا بھٹ نے ہی دن رات کی تبدیلی کو زمین کی گردش کا محوری نتیجہ قرار دیا۔ برہم گپت اور آریا بھٹ ریاضی میں اس قدر ماہر تھے کہ وہ کسر اعشاریہ کو بھی جانتے تھے ٹرگنو میٹری کی علامات بھی ہندوستانیوں نے ہی متعارف کرائیں۔

ویل ڈیورانٹ اور لارٹس کے مطابق فیثا غورث نے ہندوستان کا سفر کیا تھا تو اس دوران وہ ہندوستان میں برہمنوں اور ریاضی دانوں سے ملا کیونکہ ہندوستان میں یہ دور علم و گیان کا دور تھا۔

فیثا غورث جب ہندوستان پہنچا تو ہڑپائی تہذیب اپنے عروج پر تھی مہاتما بدھ کی تعلیمات اپنے روحانی فلسفہ کی وجہ سے ہندوستان میں مقبول ہورہی تھیں۔ فیثا غورث نے ہندوستانی علماء ریاضی سے بہت کچھ سیکھا۔

ہندوستان میں آٹھ سو قبل مسیح میں معروف ریاضی دان اور فلسفی بدھیانا نے سولبا سوترا میں اس تھیورم کو صرف ایک اشلوک میں واضح کر دیا تھا جس کو بعد میں فیثا غورث نے اپنے تھیورم کا نام دیا۔

فیثا غورث ہندوستان سے واپسی کے بعد عقیدہ تناسخ پر مکمل یقین رکھتا تھا وہ اپنے طلباء کو تعلیم دیتا تھا کہ اس دُنیا میں جو کچھ اچھا یا برا کرتے ہیں اسی وجہ سے مرنے کے بعد ہمیں ایک نیا جسم ملتا ہے۔ ایک فلسفی جو کہ بہت زیادہ غوروفکر کرتا ہے اسی لیے وہ جنم چکر سے آزاد ہونے کے قابل ہوجاتا ہے اس کا عقیدہ تھا کہ ایک لافانی شخص مرجائے یا زندہ رہے برابر ہے۔ یہ بات اس کے حافظے میں تھی کہ اس کے ساتھ اگلی زندگی میں کیا ہوگا۔

اس کا عقیدہ تھا کہ ہر انسان اپنے علم کے درجہ کی وجہ سے ایک زندگی سے دوسری زندگی میں چلا جاتا ہے انسان کی روح اس کے مرنے کے بعد بھی قائم رہتی ہے ۔ انسان اپنے علم کے ساتھ درجہ کی وجہ سے اپنی روح کو قائم رکھتا ہے۔

دراصل یہ عقیدہ یا نظریہ بالکل ہندوؤں کے عقیدہ آواگون جیسا ہی ہے۔

فیثا غورث اپنے پیروکاروں کو اعتدال اور ضبط نفس کی تعلیم دیا کرتا تھا، ضبط نفس سے عقل بڑھتی ہے اور انسانی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے اپنے خیالات پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ضبط نفس سے کام لیا جائے۔


akmal-dawn
اکمل سومرو سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ تاریخ اور ادب پڑھنا ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔وہ لاہور کے مقامی ٹی وی چینل کے ساتھ وابستہ ہیں۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


error: Content is protected !!