چھٹیوں کی بندش پر کالج اساتذہ احتجاجی تحریک چلائینگے: صدرعبد الخالق

  • 254 Views
  • نومبر 6, 2017 12:56 بجے PST

pag1-image
گیارہ نومبر سے روز مرہ کی بنیاد پر گیارہ بجے سے لیکر 12 بجے تک اساتذہ تدریسی بائیکاٹ کریں گے

لاہور

محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے صوبے کے سرکاری کالجوں کے اساتذہ کی اتفاقیہ اور استحقاقی چھٹیوں کو بند کرنے کے فیصلے پر پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں اساتذہ بازؤوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کا آغاز کریں گے۔

پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کے صدر حافظ عبد الخالق نے تعلیمی زاویہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اساتذہ کو قانونی طور پر سالانہ 25 چھٹیاں کرنے کی اجازت ہے تاہم محکمہ کی جانب سے ان چھٹیوں کو بند کرنے پر اساتذہ برادری میں غصہ پایا جاتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں اس تحریک کو شروع کر دیا گیا ہے ۔

حافظ عبد الخالق کا کہنا ہے کہ تحریک کے دوسرے مرحلے میں 11 نومبر سے روز مرہ کی بنیاد پر گیارہ بجے سے لیکر 12 بجے تک اساتذہ تدریسی بائیکاٹ کریں گے اور روزانہ ایک گھنٹہ احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اتفاقیہ چھٹی لینے کی شرائط میں بھی تبدیلی قابل قبول نہیں ہے۔ وہ اس حوالے سے محکمہ ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹری سے بات چیت بھی کریں گے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ نے آئی ٹی کے شعبے کے لے ریسرچ ایسوسی ایٹ کنٹریکٹ پر بھرتی کیے تھے اور ان افراد سے کمپیوٹر کے شعبہ کا کام لینے کی بجائے انہیں اساتذہ، کالج پرنسپل پر جاسوس مقرر کر دیا ہے اور یہ افراد کالج میں انسکپشن کے نام پر اساتذہ کی تذلیل کرتے ہیں جس کی وہ نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ ان افراد کی مداخلت کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

پیپلا کے صدر کہتے ہیں کہ سرکاری کالجوں کو پیف ماڈل پر لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور حکومت کی نظر اب سرکاری کالجوں کو پرائیویٹائزڈ کرنے کا خفیہ منصوبہ ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔


تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.