آن کیمپس: لڑکیوں کو نظروں، الفاظ، حرکتوں سے ہراساں کیا جاتا ہے

  • 254 Views
  • December 1, 2017 5:38 pm PST

pag1-image

ڈی ڈبلیو اُردو

دنیا بھر میں اہم خاتون شخصیات، فلمی ستارے اور طالبات اور عام خواتین ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کر کے جنسی طور پر ہراساں ہونے کی ذاتی کہانیوں کو سوشل میڈیا پر شیئر کر رہی ہیں۔

المی سطح پر اس مہم کا آغاز ہالی ووڈ کی نامور شخصیت ہاروی وائنسٹائن کے خلاف ان الزامات کے بعد ہوا جن کے مطابق انہوں نے کچھ دہائیوں قبل خواتین کو ریپ اور جنسی زیادتی کا شکار بنایا تھا۔ امریکی اداکارہ الیسا میلانو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ وہ تمام خواتین جو زندگی میں کبھی بھی جنسی زیادتی یا ہراس کا شکار ہوئی ہیں وہ ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کرکے سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔

پاکستان میں بھی خواتین کی بہت بڑی تعداد اس ہیش ٹیگ کو استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر ’می ٹو‘ ٹاپ ٹرینڈننگ ہیش ٹیگ بنا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کی ایک صارف حمیرہ کریم نے لکھا، ہمیں مضبوط ہونا ہوگا۔ ہراساں کرنے والے کو شرمندہ ہونا چاہیے نا کہ متاثرہ عورت کو، بزدلی اور کمزوری مجرموں کو مزید طاقت دیتی ہے۔

سماجی کارکن اور حقوق نسواں کی علمبردار گلالئی اسماعیل نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا، جب آپ پشاور میں رہتے ہوں تو ہراساں ہونا ایک عام سی بات ہے۔

Me Too2

عالمی سطح پر اس مہم کا آغاز ہالی ووڈ کی نامور شخصیت ہاروی وائنسٹائن کے خلاف ان الزامات کے بعد ہوا جن کے مطابق انہوں نے کچھ دہائیوں قبل خواتین کو ریپ اور جنسی زیادتی کا شکار بنایا تھا۔ امریکی اداکارہ الیسا میلانو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ وہ تمام خواتین جو زندگی میں کبھی بھی جنسی زیادتی یا ہراس کا شکار ہوئی ہیں وہ ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کرکے سوشل میڈیا پر اس مسئلے کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔

پاکستان میں بھی خواتین کی بہت بڑی تعداد اس ہیش ٹیگ کو استعمال کر رہی ہے۔ پاکستان کے سوشل میڈیا پر ’می ٹو‘ ٹاپ ٹرینڈننگ ہیش ٹیگ بنا ہوا ہے۔سوشل میڈیا کی ایک صارف حمیرہ کریم نے لکھا،’’ ہمیں مضبوط ہونا ہوگا۔ ہراساں کرنے والے کو شرمندہ ہونا چاہیے نا کہ متاثرہ عورت کو، بزدلی اور کمزوری مجرموں کو مزید طاقت دیتی ہے۔‘‘

پاکستان کی سرکاری و نجی یونیورسٹیز میں طالبات کو ہراساں کرنا عام بات ہے جہاں لڑکے یونیورسٹیوں میں لڑکیوں کو ہراساں کرتے ہیں وہیں پر بعض اساتذہ بھی اپنی طالبات کو مختلف حیلے بہانوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ اس معاملے پر یونیورسٹیز میں تو ہراسمنٹ کمپلین سیل بھی بنائے گئے ہیں لیکن یہ سیل بالکل غیر متحرک ہیں۔

سماجی کارکن اور حقوق نسواں کی علمبردار گلالئی اسماعیل نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ جب آپ پشاور میں رہتے ہوں تو ہراساں ہونا ایک عام سی بات ہے۔

عینی زمان نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ اگر ہر وہ عورت جو ہراساں ہوئی ہے ’می ٹو‘ ہیش ٹیگ لکھے تو اندازہ ہو کہ جنسی طور پر خواتین کو ہراساں کرنا کتنا بڑا مسئلہ ہے۔‘‘ صحافی فاریہ سحر نے لکھا،’’ میں اتنی بہادر نہ تھی کہ جنسی طور ہر ہراساں کیے جانے کو رپورٹ کر سکتی، اس لیے ہمیں ان عورتوں پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے جو ہراساں ہونے کے کچھ عرصے بعد دنیا کو بتانا چاہتی ہے کہ انہیں ہراساں کیا گیا تھا۔

Me Too1

پاکستان میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو ملتی ہیں جب عورتوں کو اس صورتحال میں شدید معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو جب کئی برس جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد پاکستان پہنچی تھیں تو انہیں ایک دہشت گردانہ حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ کئی ٹی وی پروگرامز میں سیاست دانوں کی جانب سے خواتین تجزیہ کاروں یا سیاست دانوں کو توہین آمیز جملے بھی سننے کو ملتے رہتے ہیں۔

پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ خواتین شخصیات جیسے کہ شرمین عبید چنائے، ملالہ یوسف زئی، گلالئی اسماعیل اور نگہت داد کو اندرون ملک کچھ حلقوں کی جانب سے مغربی ایجنٹ ہونے جیسے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ کسی عورت سے اس کی زندگی ہی لے لینا ہراساں کیے جانے کی بدترین صورت کہلائی جاسکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال پاکستان میں ایک ہزار سے زائد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کردیا جاتا ہے۔

ہیش ٹیگ ’می ٹو‘ استعمال کرتے ہوئے سماجی کارکن نائمہ بٹ نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا،’’ حقیقت یہ ہے کہ عورت گلی اور سڑکوں پر ہراساں ہوتی ہے۔ طاقت کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے، نظروں اور الفاظ سے ہراساں کیا جاتا ہے۔ پیچھا کیا جاتا ہے، الزامات لگائے جاتے ہیں یہاں تک کہ دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔‘‘


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *


error: Content is protected !!