مولانا جلال الدین رومی اور مثنوی رومی کی حقیقت

  • 527 Views
  • دسمبر 17, 2017 4:39 بجے PST

pag1-image

امیر حمزہ

عرب و عجم کی کلاسیکی شاعری کے بارے میں عموماً اور فارسی کی کلاسیکی شاعری کے بارے میں خصوصاً ، جس غلط تصور کی ابتدا ہوئی ، اس تصور کی بنیاد مشرقِ وسطیٰ کی شاعری کی شراب و شباب اور حسن و عشق کے مضامین سے وابستگی ہے۔ انیسویں صدی سے قبل بھی " الف لیلیٰ " اور " امیر حمزہ " کی داستانیں اور قصص کی بنا پر یہ مفروضہ قائم کر لیا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی اقوام عیش و عشرت کی حد تک حسن پرستی سے وابستہ ہیں۔ وہ تصورِ عشق جس کی جڑیں تصوف کی سنگلاخ زمین میں پیوست ہیں ، اہلِ مغرب کی دسترس سے باہر رہا۔

اہلِ مغرب کو یا غیر مسلم اقوام کو " تصوف " کی ضرورت ہے یا اس " اسلام " کی جو تصوف کے گورکھ دھندوں کے بجائے قرآن و حدیث کی شفاف تعلیمات سے واضح ہوتا ہے؟ اور خود اپنے آپ کو پیر رومی کے مریدِ ہندی قرار دینے والے علامہ اقبال نے تو واضح طور پر فرمایا تھا کہ : تصوف ، اسلام کی سرزمین پر اجنبی پودا ہے

بےشک ستیہ پال آنند ، اردو کے ایک معروف ادیب و نقاد ہیں اور بےشک انہیں حق حاصل ہے کہ وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر "مولانا جلال الدین رومی" کی حمایت میں اپنے قلم کے جوہر دکھائیں۔

لیکن ۔۔۔ اگر درد کسی ادیب کو کسی شاعر کی ناقدری پر ہو سکتا ہے تو حامیانِ کتاب و سنت کو بھی اہانت آمیز تکلیف محسوس ہوتی ہے جب اسلام یا تزکیۂ نفس کے نام پر تصوف کی غیر شرعی تعلیمات و خرافات کی شعوری یا غیر شعوری تشہیر کی جائے۔

مولانا جلال الدین رومی ، ترکی کے ایک بہت بڑے صوفی تھے۔ لیکن جب سے انہوں نے شریعت کی راہ کو چھوڑ کر طریقت و عشق کی راہوں کو اپنایا اور اپنی اُس "عظیم" تخلیق "مثنوی مولوی معنوی" کو منظرِ عام پر لایا ، تب سے انہیں عالم اسلام کے کسی معمولی سے مذہبی پیشوا کا رتبہ دینے سے بھی قلم ہچکائے گا۔

"مثنوی مولوی معنوی رومی" کے سرورق پر لکھا ہے : ہست قرآن درزبان پہلوی ( یہ فارسی زبان میں قرآن ہے )۔

اور ربِّ کائینات نے جو قرآن ، اپنے محبوب رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل کیا ، اس میں صاحبِ قرآن پیغمبر کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا : وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنبَغِي لَهُ اور نہ ہی ہم نے اسے (صلعم) شعر کہنا سکھایا اور نہ ہی یہ اس (نبی صلعم) کے لائق ہے۔
(سورہ یٰس : 69)

اور کوئی ہمیں بتائے کہ مولانا رومی کے "فارسی قرآن" میں اور کیا ہے؟

عشق و عاشقی ، ہجر و فراق ، رقص و موسیقی ، وحدت الوجود و نظریۂ حلول ، من گھڑت و بےسند قصے ، جھوٹی حکایات و بےسر و پا واقعات ، عجیب و غریب کرامات اور ایمان برباد کر دینے والے عقائد و واقعات ۔کیا یہی سب کچھ اس مشہور تین جلدوں اور ڈھائی ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل "مثنوی مولوی معنوی" میں موجود نہیں ہے ؟

ربِّ کریم کا قرآن شروع ہوتا ہے ان الفاظ سے :الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے

اور اس فارسی زبان کے خودساختہ قرآن کا آغاز اس طرح سے ہوتا ہے

بشنوازنے چوں حکایت می کند
وز جدائیھا شکایت می کند

اردو ترجمہ

بانسری سے سن ! کیا بیان کرتی ہے
اور جدائیوں کی کیا شکایت کرتی ہے

یعنی "فارسی قرآن" کا آغاز "بانسری" سے ہو رہا ہے کہ ۔۔۔ اے صوفی ! بانسری سن ، کیونکہ ۔۔۔

عشق کی آگ ہے جو بانسری میں لگی ہے
عشق کا جوش ہے جو شراب میں آیا ہے

بانسری ۔۔۔ پھر ، عشق کی آگ ۔۔۔ پھر ، عشق کا جوش ۔۔۔ پھر ، یہ جوش شراب میں آ گیا ہے

فرمائیے اگر ہالی ووڈ کے گلوکار و گلوکارائیں یا اہلِ مغرب لپک کر ایسے کلام کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں تو آخر کیا برا کرتے ہیں؟ یہ بھی ذرا یاد فرما لیں کہ ابو داؤد اور مسند احمد کی ایک معروف صحیح حدیث کے مطابق جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ سفر کسی چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور راستہ بدل لیا تھا۔

اسی طرح بیشمار غیر شرعی واقعات میں سے ایک وہ واقعہ بھی ہے جس میں حضرت بایزید بسطامی ، اپنے مرید ابوالحسن خرقانی کو ، قبر کے اندر سے آواز دے کر اپنی قبر پر بلاتے ہیں۔

اور دوسری طرف قرآن کہتا ہے؛ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ فَادْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ

تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو ، وہ تو تمہارے جیسے بندے ہیں ، انہیں پکار کر دیکھو ، پھر چاہئے تو یہ کہ وہ تمہیں جواب دیں ، اگر تم سچے ہو۔
(سورہ الاعراف : 194)

اور صحیح بخاری کی کتاب الجنائز والی مشہور حدیث بتاتی ہے کہ : مردے جواب نہیں دے سکتے۔

مزید ایک واہیات واقعہ اور بھی ہے جس میں حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ، قبروں پر سارنگی بجانے والے ایک بوڑھے سارنگی نواز کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے اللہ کا انعام عطا فرماتے ہیں پھر مولانا رومی ایک جگہ عالم اسلام کے عظیم گستاخ منصور حلاج کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : وہ "انا" منصور کے لیے رحمت تھا۔

ایک اور جھوٹ پیر رومی نے یوں گھڑا کہ : حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) نے اپنی اپنی ماں کے پیٹ میں ایک دوسرے کو سجدہ کیا۔

صد افسوس تو یہ ہے کہ صدیوں سے دینی مدارس میں یہ مثنوی رومی پڑھائی جا رہی ہے۔ سبب اس کا یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے فارسی زبان سیکھی جاتی ہے کہ یہ مثنوی فارسی زبان کا ادبی شاہکار ہے۔

انگریزی زبان کی جو لچر ثقافت نصابی کتب میں موجود ہے ، اس پر اعتراض کا جواب بھی کچھ ایسا ہی دیا جاتا ہے کہ یہ انگریزی کی نظمیں اور نثر کے بند ، ادب و ثقافت کے شاہکار ہیں۔

اردو کے گندے ناول اور ڈائجسٹ پڑھنے والے بھی یہی دلیل دیتے ہیں کہ ان کے پڑھنے سے اردو بڑی اچھی ہو جاتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کو عربی کے علاوہ دیگر زبانیں سیکھنے کی فی زمانہ ضرورت ہے تو پھر ایسے ادبی مجموعوں کی طرف انہیں کیوں توجہ دلائی نہیں جاتی کہ جن میں ۔۔۔

انبیاء علیہم السلام کے قرآنی واقعات ہوتے ہیں ، صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم کے درخشان حالات ہوتے ہیں ،
صحیح و حسن احادیث پر مبنی ادبی شہ پارے ہوتے ہیں ؟؟

امتِ مسلمہ کے دورِ زوال کا تیار کردہ نام نہاد ادبی شہ پارہ صدیوں تک توحید و سنت کی شفاف تعلیمات کو پارہ پارہ کرتا رہا

ادب کے نام پر بے ادبی کا طوفان مچاتا رہا
دین کے نام پر دینی مدارس میں بےدینی پھیلاتا رہا
اور ہم مسلمان ٹھنڈے پیٹوں اسے برداشت کرتے رہے ہیں

اور ادھر ایک غیرمسلم ادیب اٹھتا ہے اور اہلِ مغرب کی رقص ، شراب و سرور کی محفلوں کو مولانا رومی کے عشقِ تصوف کے مغائر باور کراتا ہے ۔۔۔

اور کتاب و سنت کی تبلیغ کرنے والے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ یہ گویا ہماری ادبی حمیت کا تقاضا ہے !!
کوئی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا کہ : مثنوی مولوی معنوی ہے کیا اور اس میں کتاب و سنت کا کیا کیا مذاق اڑایا گیا ہے ؟

بےشک کہا جا سکتا ہے کہ مثنوی رومی میں اَن گنت سبق آموز قصے ہیں ، لاتعداد حکمت بھری حکایتیں ہیں ، حُسن اخلاق و تہذیب کی ترغیب دلانے والے بیشمار واقعات کا بیان ہے۔ لیکن ایسا تو دنیا کی دیگر مقدس مانی جانے والی دیگر کتب مثلاً بائیبل ، گیتا ، رامائن ، گرو گرنتھ صاحب وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ پھر ہم مسلمان کیوں ان کے مطالعے کی جانب راغب نہیں ہوتے ؟ کیوں ان سے اخلاق ، حکمت و تہذیب کی باتیں نہیں سیکھتے ؟

کیا صرف اس لیے نہیں کہ اسلام میں اخلاق ، حکمت ، تہذیب و ثقافت ، حسنِ معاشرت سے پہلے عقائد و ایمانیات کو اولیت دی گئی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام وہ واحد مذہب ہے جس کی تبلیغ کا اولین مضمون "عقیدۂ توحید" سے شروع ہوتا ہے اور یہی اسلام کی انفرادیت بھی ہے۔

لہذا ایسی تمام کتابیں ، جن میں عقائد و ایمانیات کو بگاڑنے والے نظریات پائے جاتے ہوں ، چاہے وہ وحدت الوجود جیسے گمراہ فلسفے پر مبنی ہوں ، قبرپرستی کی ترغیب دیتی ہوں ، جھوٹی و من گھڑت غیر شرعی کرامات کی تبلیغ کرتی ہوں ، گھڑی ہوئی موضوع روایات کو احادیث بنا کر پیش کرتی ہوں ۔۔۔ اور چاہے ان کے خالق یا مرتبین ، دنیا کی کتنی بھی مشہور شخصیات کیوں نہ ہوں ، ایسی تمام کتب کو تبلیغِ اسلام کے ضمن میں پیش کرنے یا باور کرانے سے گریز ہی کرنا چاہئے !

مگر صد افسوس تو یہی ہے کہ کوئی کسی "مثنوی رومی" کو "فارسی قرآن" کا خطاب دیتا ہے اور کوئی کتابِ فقہ "ھدایہ" کو "کاالقرآن" کا لقب عطا کرنے پر کمربستہ ہے !!

مولانا جلال الدین رومی بھی عام انسانوں کی طرح وفات پا گئے ، اب ان کی عملی کوتاہیوں سے صرفِ نظر کرنا چاہئے کہ رسولِ عربی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا فرمان ہے کہ : مرنے والے کو برا مت کہو !
لیکن ۔۔۔۔

کسی کی علمی و نظریاتی لغزشوں کو قطعاً نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ، کسی کے فضائل و مناقب اور علمی وجاہت سے متاثر ہونے والا شخص ، اس کی علمی و فکری لغزشوں کو بھی عین حق سمجھ کر اپنا لیتا ہے۔ اس لیے ایسی چیزوں کی نشاندہی ، ایک علمی امانت کو آگے منتقل کرنے کے مترادف ہے

2 thoughts on “مولانا جلال الدین رومی اور مثنوی رومی کی حقیقت”

  1. بہت اعلی تجزیہ….ان سب خرافات کا بھرپور اور مدلل انداز میں رد کیا جانا بہت ضروری ہے..

  2. انتہائی سطحی تحریر۔ تصوف دین اسلام کا ایک اعلی و ارفع اور اہم ستون ہے۔ یہ تحریر ان صاحب کی اپنی کم علمی کی ایک واضح نشانی ہے۔ یہ صاحب وہی معلوم ہوتے ہیں جن کا تعلق ایک کالعدم جماعت سے ہے۔ افسوس ہے کہ تعلیمی ذاویہ نے اس طرح کی رجعت پسند تحریر شائع کی۔

تبصرہ کیجیے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.


error: Content is protected !!