پاکستان میں “دانش” کا بحران

  • 848 Views
  • December 5, 2017 11:50 pm PST

pag1-image

ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

انیسویں صدی کے آخر میں جب دانش وروں نے ایک نئے سماجی طبقے کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنا شروع کی تو اس طبقے میں علم اور آرٹ کے سب شعبون سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔ وہ شخص جو کچھ نہ کچھ تخلیق کرتا تھا، کسی خیال کے ابلاغ کی قدرت رکھتا تھا اسے دانش ور سمجھا گیا۔

ہمارے یہاں سر سید، آزاد، حالی، شبلی، نذیر احمد، ذکاء اللہ، امیر علی، مولانا قاسم نانوتوی اور ان سے ذرا پہلے غالب، ماسٹر رام چندر، امام بخش صہبائی دانش ور تھے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے لیے یہ لفظ اختیار نہیں کیا تاہم انہوں نے اس زمانے کی نوآبادیاتی صورتحال سے پیدا ہونے والے تعلیمی، ثقافتی، معاشی، اخلاقی، سیاسی سوالات کے جوابات کی خاطر نئے خیالات قبول کیے یا تخلیق کیے۔

ان خیالات کی ترسیل کے لیے رسائل و اخبارات کا سہارا لیا اور اپنے قارئین و مخاطبین کا ایک واضح حلقہ پیدا کیا۔ یہ سارا عمل دانش وارانہ تھا یہ لوگ شاعر، مضمون نگار، مورخ، سوانح نگار، ناول نگار، اُستاد، صحافی تھے۔

خود مغرب میں اور برصغیر میں دانش ور طبقے کی یہ شناخت مبہم تھی ان میں یہ بات تو مشترک تھی کہ ان کے ذہن و تخیل اپنے زمانے کے سلگتے ہوئے سوالوں پر مرتکز تھے مگر ان میں طرز فکر یا تصور کائنات کا بنیادی نوعیت کا فرق تھا اور اس کے نتیجے میں ایک ہی سوال کی تفہیم متضاد طریقے سے ہوتی تھی اور یہ متضاد طریقہ ایک مسئلے کو دو مختلف پہلوؤں سے سمجھنے کی کوشش سے مختلف تھا۔

اس سے دو متحارب تصورات پیدا ہوتے تھے۔ اسی زماے میں سر سید نے “زاہد اور فلاسفر کی کہانی اور دو سلطنتوں کا مقابلہ” کے عنوان سے ایک مضمون تہذیب الاخلاق میں شائع کیا یہ مضمون جو ایک کہانی کی ہیئت میں لکھا گیا ہے اُردو میں پہلی مرتبہ دو قسم کے دانش وروں میں تفریق کرتا ہے۔ مضمون میں ایک قسم کے دانش ور کی نمائندگی زاہد اور دوسری قسم کے دانش ور کی ترجمانی فلاسفر کرتا ہے۔

سر سید کے اس مضمون میں زاہد اور فلاسفر دونوں خدا کے متلاشی ہیں مگر دونوں کی تلاش کے طریقے جدا جدا ہیں۔ زاہد آنکھیں بند کیے، تسبیح و تہلیل کرتے ہوئے خدا کو ڈھونڈ رہا تھا اور فلاسفر آنکھیں کھولے خدا کی صنعتوں کو دیکھ رہا تھا اور ان صنعتوں میں خدا کی حکمت اور صفات کا مشاہدہ کر رہا تھا۔

لازمی پڑھیں؛ پاکستان، مسلمان اور علم کی ملکیت کا مبالغہ

اتفاق سے دونوں کی ملاقات ہوئی دونوں نے طے کیا کہ دُنیا کی سیر کریں، پھرتے پھراتے ، ایک ملک میں پہنچے۔ یہاں کے بادشاہ شان و شوکت، رعب و دبدبے اور فیاضی میں مشہور تھا۔ اس بادشاہ کی بادشاہت میں کوئی قانون نہیں تھا جس کو چاہتا تھا نوازتا تھا جس کو چاہتا تھا بگاڑتا تھا اس کی تمام رعایا خوف و رجا میں بسر کرتی تھی۔ زاہد نے کہا کہ بادشاہ ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ ہمارا خدا بھی ایسا ہی ہے اس کے بعد دونوں اگلے ملک میں پہنچے۔

وہاں کے بادشاہ کا قانون خدائی قانون کی طرح کبھی تبدیل ہونے والا نہیں تھا، اس کے وعدے مستحکم تھے کہ بکھی ان میں تخلف نہیں ہوتا تھا۔ وہاں کوئی ایسے مصاحب نہ تھے جو بادشاہ کے قانون کو حکم کو تبدیل کراسکتے۔ وہاں کے لوگ طمانت سے رہتے تھے کیوں کہ اُنہیں یقین تھا کہ انہیں ان کی کوشش کا پھل ملے گا۔ زاہد نے ایسے بادشاہ کو کاٹھ کی مورت کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا مگر فلاسفر نے اس بادشاہ کو پسند کیا۔

سر سید نے یہ مضمون اس وقت لکھا جب اُردو میں دانش وری کی روایت اپنے ابتدائی مرحلے میں تھی۔

زاہد جس دانش وری کی نمائندگی کرتا ہے وہ سماج اور تاریخ کو انسانی ارادوں کا مظہر نہیں سمجھتی، اس کی نظر میں ماورائی طاقت، انسانی علم سے بعید ارادے کے تحت، سماجی و تاریخی عمل میں مداخلت کرتی ہےوہ چاہے تو قوانین کو توڑ دے، چاہے تو انہیں برقرار رکھے ہم اس کی مصلحتوں کا راز نہیں پاسکتے۔

اس اعتقاد کا حامل دانش ور کسی سماجی صورت حال کی ذمہ داری افراد یا طبقات پر عائد نہیں کرتا۔ ملوکیت، ملائیت، استعماریت، غربت، جہالت، دہشت گردی سب منشائے الہی سے ہیں اور اکثر ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہیں جبکہ فلاسفر جس دانش وری کی نمائندگی کرتا ہے وہ ہر سماجی صورتحال کو انسانی ارادوں کے مظہر کے طور پر دیکھتی ہے لہذا ہر صورتحال یا واقعہ کی ذمہ داری افراد، طبقات، یا اداروں پر عائد کرتی ہے۔

اس کے نزدیک جہالت سے لیکر غربت، دہشت تردی کے مسائل خاص سماجی و معاشی و تعلیمی نظام کے پیدا کردہ ہیں۔ لاکھوں بے گناہ لوگوں کا مارا جانا، یا کروڑوں لوگوں کا حیوانی سطح پر زندگی بسر کرنا، یا بے شمار لوگوں کا اعلیٰ ترین خیالات، اعلیٰ درجے کے فنون سے مسرت حاصل کرنے سے محروم رہنا، یا اربوں لوگوں کا فرصت سے محروم رہ کر جانوروں کی طرح رات مشقت کرنا، مشیت ایزدی نہیں ہے۔

یہ پڑھیں؛ کتابوں کی حکومت اور تہذیبی ترقی

سر سید نے جن دانش وروں کو زاہد اور فلاسفر کے نام سے پہچانا ، انہیں آج ہم مذہبی اور سیکولر دانش ور کہتے ہیں۔ اطالوی مارکسی مفکر گرامشی نے بھی دانش وروں کی دو قسموں میں فرق کیا تھا۔ روایتی دانش ور اور تنظیمی دانش ور، گرامشی جنہیں روایتی دانشور کہتے ہیں ان کی خصوصیات کم و بیش وہی ہیں جو سر سید نے زاہد سے منسوب کی ہیں۔ گرامشی روایتی دانشوروں میں اساتذہ، پادریوں اور ان منتظمیں کو شامل کرتے ہیں جو نسل در نسل ایک ہی کام کیے چلے جاتے ہیں۔

یہ اس لیے روایتی دانش ہیں کہ وہ نئے خیالات کی تخلیق میں حصہ نہیں لیتے۔ پہلے سے موجود خیالات کا تحفظ کرتے ہیں؛ گویا منقولات کے حامی ہوتے ہیں۔

تنظیمی دانشوروں میں گرامشی صنعتی ماہرین، سیاسی معیشت کے ماہرین، نئے کلچر اور نئے قانونی نظام کے منتظمین کو شمار کرتے ہیں۔

راجندر پانڈے کو اکیسویں صدی میں پانچ قسم کے دانشوروں پر بحث کرتے ہیں؛ علمی اشرافیہ، انتظامی اشرافیہ، سماج کے نقاد، سماجی انقلاب کا ہر اول دستہ، ذمہ دار مگر غیر وابستہ دانشور۔ راجندر پانڈے کی انتظامی اشرافیہ دراصل گرامشی کے تنظیمی دانش وروں کا دوسرا نام ہے۔ البتہ علمی اشرافیہ سے مراد جامعات کے اساتذہ اور فنی ماہرین ہیں یہ لوگ جس علم کی تخلیق کرتے ہیں اسے اہل علم کے مخصوص حلقے تک محدود رکھتے ہیں ان کے علم کی زبان، دلائل، اصطلاحات اسی حلقے کیلئے قابل فہم ہوتی ہیں۔ یہ اپنے علم کو اپنے شعبے یا ادارے کی طاقت بناتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ انتظامی اشرافیہ کے لوگ اصل ماہرین ہیں جو سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں میں اعلیٰ عہدے حاصل کرنے کے لیے درکار مہارتیں حاصل کرتے ہیں۔ اول تو وہ علم کی تخلیق میں حصہ نہیں لیتے، موجود علم پر عبور حاصل کرتے ہیں اور اسے متعلقہ تنظیم کے مالی فائدلے کے لیے برؤئے کار لاتے ہیں۔ ان کی آراء، خیالات، موقف سب کچھ اپنی تنظیم کی نگہبانی کرتے ہیں۔

حقیقت میں جنہیں دانشور کہا جاسکتا ہے وہ راجندر پانڈے کی بیان کی ہوئی تین قسمیں ہیں۔ یعنی سماج کے نقاد، سماجی انقلاب کا ہر اول دستہ اور ذمہ دار مگر غیر وابستہ اہل نظر۔ یہ لوگ، آزاد و بے غرض علم میں یقین رکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں نوم چومسکی اور ارون دھتی رائے عوامی دانشور ہیں دونوں اپنی اپنی ریاستوں کی امتیازی پالیسیوں پر سخت لفظوں میں نکتہ چینی کرتے ہیں اور دونوں اپنی تنقید کی بنیاد علم اور تحقیق پر کرتے ہیں۔

افسوس اُردو میں اس وقت ہمیں کوئی عوامی دانشور نظر آتا ہمیں اُردو میں دانش کی کوئی ایسی آواز سنائی نہیں دیتی، جو معاصر عہد کے المیہ پر مستقل بنیاد پر تنقید کرتا ہو اور وہ سماج میں ایک مضبوط آواز کے طور پر پہچانا جاتا ہو۔ کسی بھی ترقی پذیر سماج میں اگر عوامی دانش وروں کی کمی ہو تو حاکم وقت اور اہل اقتدار پر حقائق پر مبنی تنقیدی وار کرنے کی جرات کوئی نہیں کرتا۔ پاکستان کو اس وقت عوامی دانشوروں کے قحط کا سامنا ہے۔

ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے تعلیمی ڈھانچے کی تبدیلی کے لیے آواز اُٹھائیں اور اس ڈھانچے میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں جب تک نہیں ہوں گی اُس وقت تک ہم اس المیہ سے دوچار رہیں گے۔

5 thoughts on “پاکستان میں “دانش” کا بحران”

  1. افسوس اُردو میں اس وقت ہمیں کوئی عوامی دانشور نظر آتا ہمیں اُردو میں دانش کی کوئی ایسی آواز سنائی نہیں دیتی، جو معاصر عہد کے المیہ پر مستقل بنیاد پر تنقید کرتا ہو اور وہ سماج میں ایک مضبوط آواز کے طور پر پہچانا جاتا ہو۔ کسی بھی ترقی پذیر سماج میں اگر عوامی دانش وروں کی کمی ہو تو حاکم وقت اور اہل اقتدار پر حقائق پر مبنی تنقیدی وار کرنے کی جرات
    کوئی نہیں کرتا۔ پاکستان کو اس وقت عوامی دانشوروں کے قحط کا سامنا ہے
    (سچ کہا۔)

  2. دل و دماغ کو جھنجھوڑ دینے والا مضمون….. بر صغیر کے دانشوری قحط پہ جتنا بھی نوحہ 😩 کرے کم ہے…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *