محبت کے چالیس اصول

  • April 8, 2018 12:06 pm PST
taleemizavia single page

مدثر اعجاز

گزشتہ چند دہائیوں سے مغربی مُمالک میں صوفی ازم کے مطالعے اور اس پر لکھنے کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ گرچہ انگریزی میں مسلم صوفیائے کرام اور تصوّف پر لکھی گیٔ کتابوں کا طرزِ تحریر زیادہ تر سوانحی خاکوں اور دقیق علمی مباحث پر مشتمل ہے، لیکن اس سنجیدہ اور مشکل موضوع کو عصرِحاضر میں دِل چسپ انگریزی ناول میں پیش کرنے کا اعزاز ترک مصنّفہ، ایلف شفق کو حاصل ہے۔

ایلف نے 25اکتوبر1971ء کو فرانس میں ایک ترک گھرانے میں آنکھ کھولی۔جب وہ ایک سال کی ہوئیں،تو والدین میں علیحٰدگی ہوگئی، جس کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہیں۔ ایلف نے تعلیم کے مدارج اسپین، امریکا اور برطانیہ میں طے کیے۔

دو ہزار پانچ میں شادی ہوئی اور اب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ برطانیہ مقیم ہیں۔وہ ایک تُرک مصنّفہ، کالم نگار اور ناول نویس ہیں۔ ان کی انگریزی اور ترک زبان میں14کتابیں شایع ہوچکی ہیں۔ ایلف کا سب سے مشہور ناول، محبت کے چالیس اُصول’ ہے،جسے پاکستان سمیت دنیا بَھر میں خاصی پزیرائی حاصل ہوئی ۔

ناول کا موضوع اسلامی تصوّف میں موجود منطق اور عشق کی ازلی بحث ہے۔نا ول میں دوکہانیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ایک کا تعلق عصرِحا ضر کی مغربی تہذیب سے ہے، تو دوسری میں تیرہویں صدی کے عظیم صوفی شاعر ،مولانا جلال الدین رومی اور اُن کے مرشد، حضرت شمس تبریز کے حالاتِ زندگی بیان کیے گئے ہیں۔

ضرور پڑھیں؛ ڈائجسٹ مارکہ خواتین اور ناول نگاری

چوں کہ رومی، مشرق میں محبّت کے سفیر کے طور پر جانے جاتے ہیں، توان کے اِسی پیغام کو دو مختلف تہذیبوں کے پس منظر میں بیان کرنا ہی، ناول کی مقبولیت کا باعث ٹھہرا ۔ ناول کا آغاز ایک چالیس سالہ امریکی خا تون، ایلا کی کہانی سے ہوتا ہے، جو شوہر کی بے وفائی اور بچّوں کی بے اعتنائی کے سبب اپنی تنہائی دُور کرنے کے لیے ایک اشاعتی ادارے میں ملازمت اختیار کرلیتی ہے۔

اِس دوران اُسے مولانا روم اورحضرت شمس تبریز پر تحریرکردہ ایک کتاب کا مسودہ ملتا ہے، جسے پڑھ کر مغربی معاشرے میں پلی بڑھی اورحقیقی محبّت سے محروم، ایلا عشق و محبّت کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہوتی ہے۔یوں ایک ناول میں ایلا اور دونوں درویشوں کی کہانی ایک ساتھ آگے بڑھتی ہے۔

مولانا جلال الدین رومی کی سوانح حیات دو ادوار میںتقسیم کی جاسکتی ہے۔ ایک وہ دَور، جب اُن کی حضرت شمس تبریز سے ملاقات نہیں ہوئی تھی اور وہ ایک جیّد عالم کی حیثیت سے معروف تھے۔ جب کہ دوسرا دَور، حضرت شمس تبریز سے ملاقات کے بعد کا ہے،جس میں وہ ایک عظیم صوفی شاعر کے طور پر سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں؛ شاہ عبد الرحیم رائپوری پر انقلابی کتاب

مولانا کے والد، حضرت بہاؤالدین، قونیا (ترکی) میں ایک دینی درس گاہ میں ناظمِ اعلیٰ کے منصب پر فائز تھے۔حضرت بہاؤالدین کی ہدایت پرحضرت برہان الدین نے آپ کو قرآن و حدیث اور فقہ کی تعلیم دی۔ والد کی وفات کے بعد مولانا روم اس مدرسے کے ناظمِ اعلیٰ مقرر ہوئے اور جلد ہی اُن کی شہرت کے چرچےاردگرد کے علاقوں میں ہونے لگے۔

اُن کو زندگی کی ہرآسایش میسّر تھی،لیکن شہرت، عزّت، فراخیٔ رزق کے باوجود زندگی میں ایک تشنگی محسوس کرتے۔مولانا اکثر خواب میں ایک دبلے، پتلے اور دراز قدو قامت کے درویش کو دیکھتے، جو ہاتھ میں پانچ موم بتیاں لیے کھڑےہوتے اور اس روشنی میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہےہوتے۔جیّد عالم اس خواب کا مطلب خُوب سمجھتے تھے۔سو،انھیں ایک ایسے ہی درویش کا انتظار تھا، جو اُنھیں مذہب کے باطنی معنی سے بھی روشناس کرواسکے۔ وہ خواب میں حضرت شمس تبریز ہی کو دیکھتے تھے۔

ناول میں مولانا روم اور شمس تبریز کی ملاقات کا احوال بھی انتہائی دِل چسپ پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ حضرت شمس تبریز نےصوفیانہ طبیعت کے باعث کسی ایک جگہ مستقل بسیرا نہ کیا۔وہ جہاں بھی جاتے، امن و محبّت کے پیام بر بن کے جاتے۔دنیا کا چپّا چپّا گھومتے،جب وہ1244ء میں قونیاپہنچے، تو مولانا روم کے علم و حکمت کے چرچے سُن کر ان سے ملنے کا اشتیاق ہوا۔

جانیئے؛ راجہ گدھ، منطق پر بانو قدسیہ کا ادبی حملہ

مولانا روم اپنے خُوب صُورت سفید گھوڑے پر سوار عُمدہ پوشاک پہنے مسجد کی طرف جا رہے تھے۔شاگردوں کی ایک بڑی فوج گھوڑے کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی کہ حضرت شمس بِھیڑ چیرتے آگے بڑھے اور مولانا کے گھوڑے کی باگ پکڑکرنیچے اُترنے کو کہا اور پوچھا، ’’رسولِ خدا،حضرت محمّدﷺ اور بایزید بسطامی میں سے کس کا رتبہ بُلند ہے؟‘‘’’کائنات میں کوئی بھی ہستی رسول اللہﷺ سے افضل نہیں۔‘‘مولانا رومی نےغصّےپر قابو پاتے ہوئے جواب دیا۔’’تو پھر بایزید نے اللہ کو پالینے کا دعویٰ کیوں کیا؟‘‘ شمس تبریز نے اگلا سوال پوچھا۔

مولانا اب سوال کی گہرائی اور سائل کی علمی حیثیت کا اندازہ لگاچکے تھے۔ لہٰذا سوچ کر بولے،’’اللہ کا وجود ایک بیکراں سمندر کی مانند ہے اور ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق اس سمندر کو اپنے اندر سمونا چاہتا ہے۔ محدود وِجدان جلد بَھر جاتا ہے، دوسری صورت میں نہ دِل کی وسعت ختم ہوتی ہے اور نہ ہی سمندر کا دوسرا کنارا کہیں نظر آتا ہے۔‘‘اس مختصر سی ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے کے مرتبے کو پہچان لیا۔

یوں ملاقاتوں اور مجلسوں کا سلسلہ شروع ہوا اور آہستہ آہستہ مولانا روم پر حضرت شمس تبریز کا درویشانہ رنگ چڑھنے لگا۔

پڑھیے؛ مغرب کے مُرشد جلال الدین رومی

جب ملاقاتوں کا سلسلہ دراز ہوگیا، تو مولانا، حضرت شمس کو اپنے گھر لے آئے اور ایک کمرا رہایش کے لیے مخصوص کردیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ دونوں دوریش چالیس دِن تک ایک کمرے میں بند ہوگئے۔ اس دوران حضرت شمس نے مولانا کو ’’محبّت کے چالیس اصول‘‘سمجھائے، جن کا تذکرہ ناول میں مختلف جگہوں پر کیا گیا ہے۔ مثلاً:

اللہ کی نشانیاں کائنات کی ہر شے میں موجود ہیں۔٭اللہ کی ذات کسی ایک جگہ محدود نہیں، اسے ڈھونڈنا ہو، تو کسی کامل عاشق کے دِل میں تلاش کرو۔٭حقیقی ایمان دِل کی پاکیزگی سے مشروط ہے۔٭نفرت اور غرور دِل کے ایسے داغ ہیں، جنہیں دنیا کا پاک ترین پا نی بھی صاف نہیں کرسکتا۔٭لباس کی پاکیزگی کے لیے پانی اور دِل کی پاکیزگی کے لیے محبّت ضروری ہے۔٭ہر گزرتا لمحہ جنّت اور دوزخ کا فیصلہ کرتا ہے، سو ان دونوں کی فکر چھوڑ کر اپنے عمل کی طرف توجّہ دو۔

انسان اور اللہ کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں،بس یقین کی قوت پیدا کرو۔٭لوگوں کا دِل دُکھا کر اللہ کی خوشنودی کی طلب کم عقلی ہے۔٭دِل اور دماغ کے راستے جدا ہیں۔ دِل ہمیشہ سچائی کے راستے کی نشان دہی کرتا ہے۔ گناہ اور بدی کے مقابلے کے لیے دِل کا کہا مانو اور اسی کو رہبر بناؤ۔

پڑھیں؛ پھر بابا جی غائب ہوگئے

کچھ ہی عرصے میں مولانا روم، حضرت شمس کی صحبت اختیار کرکے مکمل طور پر درویش ہوگئے،لیکن اہلِ قونیا کو مولانا کے یہ انداز پسند نہ آئےاورانھوں نے ملی بھگت کر کے حضرت شمس کو کنویں میں پھینکوا دیا ، تاکہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں۔

بظاہرحضرت شمس تبریز ،مولانا کی زندگی سے نکل گئے، لیکن مولانا رومی کی شاعری میں آج بھی وہ زندہ و تابندہ ہیں۔حضرت شمس کنویں میں گر کر فوراً ختم ہوگئے یا کچھ عرصہ زندہ رہے، اِس کا فیصلہ مصنّفہ قارئین پر چھو ڑ دیتی ہیں۔

یوں بھی مولانا سے جُدائی کے بعد حضرت شمس کی زندگی کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔اُن کے مزار کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں۔بعض کتب میں ایران اور پاکستان کے شمالی علاقے میں موجود مزار کو بھی، اُن کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔حضرت شمس کے جانے کے بعد مولانا کی زیادہ توجّہ شاعری پر مرکوز ہوگئی۔

تب ہی دنیا آج مولانا کو ایک درویش شاعر کی حیثیت سے جانتی ہے۔ مولانا نے1273ءمیں وفات پائی اور اُن کا مزار قونیا ہی میں موجود ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *